Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 511

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِحْصَنٍ الْاَنْصَارِیِّ الْخَطْمِيِّ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ اَصْبَحَ مِنْكُمْ اٰمِنًا فِي سِرْبِهِ،مُعَافًى فِي جَسَدِهِ،عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ فَكَاَنَّمَا حِيْزَتْ لَهُ الدُّنْيَا بِحَذَافِیْرِھَا.

عن عبيد الله بن محصن الانصاری الخطمي رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من اصبح منكم امنا في سربه،معافى في جسده،عنده قوت يومه فكانما حيزت له الدنيا بحذافیرھا.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناعُبَیْدُ اللہ بن مِحصَنانصاری خَطمیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولِ اکرم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:” تم میں سے جس نے اس حال میں صبح کی کہ اُسے اپنی جان کی طرف سے کوئی خوف نہ ہو، جسم تندرست ہو اور اُس کے پاس ایک دن کا رزق ہو تو گویا کہ پوری دنیا اُس کے لیے جمع کردی گئی۔‘‘

شرح حدیث

شرح حدیث:
*
حدیث مذکور میں فرمایا کہ ”جسے اپنی جان کی طرف سے کوئی خوف نہ ہو۔“اس سے مراد یہ ہے کہ اسے اپنے کسی دشمن کی طرف سے کسی نقصان کا خوف نہ ہویا پھر یہ مطلب ہے کہ ممنوعہ کاموں سے بچنے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرلینے کی وجہ سےاللہ عَزَّوَجَلَّکے عذاب کا خوف نہ ہو۔*عَلَّامَہ عَبْدُالرَؤُوف مُنَاوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیفرماتے ہیں:”اللہ عَزَّوَجَلَّنےجسے بدن کی صحت، دل کا سکون، ایک دن کا کھانا اور اس کے گھر والوں کی سلامتی عطا فرمائی تو اُس کے لئے دنیا کی تمام نعمتیں جمع فرما دیں پس اُسے چاہیے کہ اس دن صرفاللہ عَزَّوَجَلَّکا شکر ادا کرے اور اُس دن کومُنْعِمِحقیقیعَزَّوَجَلَّکی اطاعت و فرمانبرداری میں گزارے، اُس کی نافرمانی نہ کرے اور اس کے ذِکر میں ہرگز سُستی نہ کرے۔“*مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”جس کو نفسانی امن و عافیت، دل کا چین، بدن کی صحت، کچھ تھوڑا سا آج کے گزارہ کا مال میسر ہو تو وہ بادشاہ ہے،اللہتعالیٰ نے اُسے ہر قسم کی نعمت دی ہوئی ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 511