Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 517

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ اُمَامَة اِيَاسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الاَنْصَارِيِّ الْحَارِثيِّ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ: ذَكَرَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَومًا عِنْدَهُ الدُّنْيَا، فَقَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” اَلاَ تَسْمَعُوْنَ؟ اَلَا تَسْمَعُونَ؟ اِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْاِيمَانِ، اِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْاِيْمَانِ“ يَعْنِي: التَّقَحُّلَ.

عن ابي امامة اياس بن ثعلبة الانصاري الحارثي رضی اللہ عنہ قال: ذكر اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما عنده الدنيا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:” الا تسمعون؟ الا تسمعون؟ ان البذاذة من الايمان، ان البذاذة من الايمان“ يعني: التقحل.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو اُمامہ اِیاس بن ثعلبہ انصاریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:” ایک دن رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے صحابہ کرام نے دنیا کا ذکر کیا تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ” کیا تم سنتے نہیں؟ کیا تم سنتے نہیں؟ بے شک!سادگی میں رہنا اِیمان کا حصہ ہے، بے شک!سادگی میں رہنا اِیمان کا حصہ ہے۔“ یعنی لباس وغیرہ میں سادگی برتنا اِیمان کا حصہ ہے۔

شرح حدیث

سادگی اہلِ ایمان کا طریقہ:یہ باب کم کھانے، سادہ زندگی گزارنے ،سادہ لباس پہننے اور خواہشات کو ترک کرنے کی فضیلت کے بارے میں ہے۔ حدیث مذکور بابِ ہذا کے حصے سادہ لباس پہننے اور خواہشات کو ترک کرنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس حدیث میں ہمیں درس دیا جارہا ہے کہ دنیاوی زیب و زینت کے پیچھے بھاگنا کمالِ ایمان کے خلاف ہے اور عیش و عشرت کا ترک کرنا کامل اِیمان کا حصہ ہے۔ چنانچہعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”لباس میں سادگی اختیار کرنا اور زیب و زینت ترک کرنا اہلِ ایمان کا طریقہ ہے کیونکہ ایمان عاجزی و انکساری پر اُبھارتا ہے۔ فقر و انکساری اورلباس میں سادگی اختیار کرنا اہلِ ایمان کی عادت ہے۔“لباس میں چودہ پیوند:دلیل الفالحین میں ہے: سادگی اختیار کرنا اورعیش و عشرت کو چھوڑنا کمالِ ایمان سے ہے۔ حضرت سیدنا زید بن وھبعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَحَدفرماتے ہیں :”میں نے امیر المومنین حضرت سیدنا عمر بن خطابرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکو بازار میں دیکھا اُن کے ہاتھ میں ایک دُرّہ تھا اور وہ ایسا تہبند زیب تن کئے ہوئےتھے جس میں چودہ پیوند تھے اوربعض پیوند چمڑے کے تھے۔ اسی طرح مولائے کائنات حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضیٰ،شیرِ خداکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنےبھی پیوند لگا تہبند استعمال کیا،پھرفرمایا:مومن ہی ایسا کرتا ہے(یعنی مومن ہی پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتا ہے) اور اس سے دل نرم ہوتا ہے۔ حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰرُوحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامکا فرمانِ عالیشان ہے:”عمدہ لباس پہننا دل میں تکبر پیدا کرتا ہے۔“ سادہ لباس کو ایمان کا حصہ اِس لیے کہا گیا کیونکہ اِس سے نفس کُشی ہوتی اور عاجزی و اِنکساری آتی ہے، لیکن سب کی کیفیت ایک جیسی نہیں ہوتی بعض لوگوں میں سادے لباس سے بھی اُسی طرح تکبر پیدا ہوتا ہےجس طرح دوسروں کو عمدہ لباس سے تکبر ہوتا ہے، خلاصۂ کلام یہ ہے کہ متوسط درجے کے کپڑے پہننا پسندیدہ ہے۔“مدنی گلدستہ’’سادگی‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) لباس میں سادگی برتنا اہلِ ایمان کا طریقہ ہے۔
(2) سادہ لباس پہننے سے عاجزی و اِنکساری پیدا ہوتی ہے۔
(3) پیوند لگا لباس پہننے سے دل نرم ہوتا ہے۔
(4) عُمدہ اور فاخرانہ لباس سے دل میں تکبر پیدا ہوتا ہے۔
(5) ہر اُس عمل سے بچنا چاہیے تو تکبر و ریا کاری پر مبنی ہو ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سادگی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 517