Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 492

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا اَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: وَاللهِ يَا ابْنَ اُخْتِي اِنْ كُنَّا لَنَنْظُرُ اِلَى الْهِلَالِ ثُمَّ الْهِلَالِ ثُمَّ الْهِلَالِ ثَلَاثَةَ اَهِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ وَمَا اُوْقِدَ فِي اَبْيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ قَالَ: قُلْتُ: يَا خَالَةُ فَمَا كَانَ يُعَيِّشُكُمْ؟ قَالَتْ: اَلْاَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ اِلَّا اَنَّهُ قَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِيرَانٌ مِنَ الْاَنْصَارِ وَكَانَتْ لَهُمْ مَنَائِحُ فَكَانُوا يُرْسِلُونَ اِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اَلْبَانِهَا فَيَسْقِينَا.

عن عروة عن عائشة رضى الله عنها انها كانت تقول: والله يا ابن اختي ان كنا لننظر الى الهلال ثم الهلال ثم الهلال ثلاثة اهلة في شهرين وما اوقد في ابيات رسول الله صلى الله عليه وسلم نار قال: قلت: يا خالة فما كان يعيشكم؟ قالت: الاسودان التمر والماء الا انه قد كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم جيران من الانصار وكانت لهم منائح فكانوا يرسلون الى رسول الله صلى الله عليه وسلم من البانها فيسقينا.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا عُروہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِااُن سے فرمایا کرتی تھیں: ”اے بھانجے!اللہکی قسم! ہم چاند دیکھتے، پھر چاند دیکھتے، پھر چاند دیکھتے، دو مہینوں میں تین بار چاند دیکھتے اور اِس دوران رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کاشائہ اقدس میں چولہانہ جلتا۔‘‘ حضرتِ سیدناعُروہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:میں نے پوچھاکہ ”پھر آپ لوگوں کا گزارہ کیسے ہوتا تھا؟“فرمایا:”دو سیاہ چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر۔البتہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کچھ انصاری پڑوسی تھے جن کے پاس دودھ دینے والی اونٹنیاں تھیں وہ اُن کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے تو حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں پلا دیتے ۔

شرح حدیث

دو مہینے میں تین چاند دیکھنے سے کیامراد ؟مذکورہ حدیث میں اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِانے فرمایا کہ ہم دو مہینے میں تین دفعہ چاند دیکھاکرتے اس کا مطلب بیان کرتے ہوئےعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:ایک مہینے کا چاند دیکھتے پھر دوسرے مہینے کی ابتداء کا چاند دیکھتے اور پھر دوسرے مہینے کی آخری تاریخ کو تیسرے مہینے کا چاند دیکھتے تھے اس طرح ساٹھ دنوں میں تین چاند ہوئے ۔حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی دنیا سےبے رغبتی:شرح ابن بطال میں ہے:”حدیثِ مذکور سے یہ بھی معلوم ہواکہ حضورنبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دنیا سے کوئی رغبت نہ تھی، گزر بسر کے لیے بقدرِ کفایت پر اکتفا کرتے اور دنیا پر آخرت کو ترجیح دیتےتھے اس لیے کہ جب آپ کو دنیا و آخرت کی چیزوں میں سے کسی ایک کو چننے کا اختیار دیا گیا تو آپ نے آخرت کو اختیار فرمایا اور اس پر آپ کی مدح و ستائش کی گئی اور آپ نے نبی بادشاہ ہونے کے بجائے نبی بندہ ہونے کو اختیار فرمایا اور یہی آپ کی سنت اور آپ کا طریقہ ہے۔“دو سیاہ چیزیں:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’دو کالی چیزوں سے مراد چھوہارے اور پانی ہے کہ چھوہارے تو کالے ہوتے ہیں۔پانی کو تغلیبًا کالا فرمایا گیا جیسے چاند و سورج کو قمرَین اور امامِ حسن اورحسین کو حَسَنَیْن اور حضرت ابو بکروعمر کو عمرَین کہا جاتا ہے۔یعنی حضورِ اَنورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی وفات شریف تک ہم نے کھجوریں وپانی بھی خوب سیر ہو کر نہ کھائیں۔فتح خیبر سے پہلے تو اس لیے کہ گھر میں یہ سامان زیادہ نہ ہوتا تھا اور فتح خیبر کے بعد اس لیے کہ حضورِ انور کو بہت سیر ہوکر کھانا پسند نہ تھا اگرچہ ہر گھر میں سال بھر کے جَو اور چھوہارے موجود ہوتے تھے ۔“کم کھانے میں دونوں جہاں کا فائدہ:حدیث مذکور سے پتہ چلا کہ سرکارِ دو جہاں رحمتِ عالَمیانصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دنیا سے کوئی رغبت نہیں تھی آپ کھانا کم کھاتے تھےہمیں بھی چاہیے کہ ہم سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اس سنت پر عمل کرتے ہوئے پیٹ کا قفلِ مدینہ لگائیں ضرورت سے کم کھائیں، اس میں ہمارا دنیاوی اور اُخروی فائدہ ہے کہ دنیا میں بیماریوں سے محفوظ رہیں گے اور آخرت میں حساب کم ہوگا۔”فیضانِ سنت“جلد اول کے صفحہ نمبر 677 پرہے:امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُناعمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”تم پیٹ بھر کر کھانے پینے سے بچو کیونکہ یہ جسم کو خراب کرتا، بیماریاں پیدا کرتا اور نماز میں سُستی لاتا ہے اور تم پر کھانے پینے میں مِیانہ رَوی لازِم ہے کیونکہ اس سے جسم کی اِصلاح ہوتی اور فضول خرچی سے نجات ملتی ہے۔“مدنی گلدستہ’’قناعت ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) نبی پاک
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دنیا وآخرت کی چیزوں میں سے کسی ایک کو چننے کا اختیار دیا جاتا تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآخرت کو اختیار فرماتے۔
(2) پڑوسیوں کا خیال رکھنا چاہیے اور انہیں کھانا وغیرہ بھیجنا چاہیے ہوسکتا ہے ان کے گھرفاقہ ہو اور ہمیں علم نہ ہو۔
(3) کم چیزوں پر قناعت کرنا چاہیے اور دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینا چاہیے کہ یہی سنت ہے۔
(4) کم کھانے کے کثیردُنیوی واُخروی فوائد ہیں جن میں سے دو بڑے فوائد دنیا میں بیماریوں سے حفاظت اور آخرت میں حساب کی کمی ہے۔
(5) پیٹ بھر کر کھانا پینا جسم کو خراب کرتا، بیماریاں پیدا کرتا اور نماز میں سُستی لاتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھوک سے کم کھانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 492