Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 500

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِي وَقَّاصٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ: اِنِّى لَاَ وَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَلَقَدْ کُنَّا نَغْزُوْ مَعَ رَسُوْلِ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم مَا لَنَا طَعَامٌ اِلاَّ وَرَقُ الْحُبْلَةِ وَهَذَا السَّمُرُ حَتّٰی اِنْ کَانَ اَحَدُنَا لَیَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ مَا لَهُ خِلْطٌ.

عن سعد بن ابي وقاص رضی اللہ عنہ قال: انى لا ول العرب رمى بسهم فى سبيل الله ولقد کنا نغزو مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما لنا طعام الا ورق الحبلة وهذا السمر حتی ان کان احدنا لیضع كما تضع الشاة ما له خلط.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ” میں وہ پہلا عربی مَرد ہوں جس نے راہِ خدا میں تیر پھینکا، ہم رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےہمراہ جہاد کرتے تھے اور ہمارے پاس کیکرکےدرخت کے پتوں اور کیکرکے بیج کےسوا کھانے کو کچھ نہ ہوتا تھا، حتی کہ ہم میں سے کوئی قضائے حاجت کرتا تو وہ بکری کی خشک مینگنیوں کی طرح ہوتی ۔“

شرح حدیث

راہ ِ خدا میں پہلا تیر:’’میں وہ پہلا عربی ہوں جس نے راہ ِ خدا میں تیر چلایا ۔‘‘مرآۃ المناجیح میں ہے :”نبیصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنےسن ایک ہجری میں حضرت ابو عبیدہ ابنِ حارث کی سرکردگی میں ساٹھ صحابہ کو ابوسفیان کے مقابلہ میں بھیجا، کفار بہت ہی زیادہ تھے اس لیے جنگ نہ ہوئی مگر حضرت سعد ابن ابی وقاص(رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ) نے اُن کفار پر ایک تیر چلایا یہ مسلمانوں کی طرف سے پہلا تیر کفار پر چلا۔“حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُعشرہ مبشرہ یعنی ان دس صحابہ ٔ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں سےہیں جنہیں رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دنیا میں ایک ساتھ جنت کی بشارت عطا فرمائی۔آپ نہایت ہی ماہر تیرانداز تھے،صحابہ ٔ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبارگاہِ رسالت میں یوں عرض گزار ہوتے:’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میرے ماں باپ آپ پر قربان!‘‘لیکن آپ وہ صحابی ہیں جن کیلئے خودرسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’میرے ماں باپ تم پر قربان!‘‘آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکی سیرتِ طیبہ کیلئے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے’’حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔مالدار ہو کر بھی غریب:حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ رسولِ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صحابہ ٔ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکبھی درخت کے پتے کھاکر بھی گزارہ کیا کرتے ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنا مال رضائے اِلٰہی کے کاموں میں خرچ کردیا کرتےتھے۔فقرا ءومساکین کی امداد ،مہمان نوازی ،جہاد کی تیاری ، دِین کی تبلیغ واِشاعت میں اُن کا مال خرچ ہواکرتا اس لئے کبھی ایسا بھی ہوتاکہ اُن کا سارا مال ختم ہوجاتا اور کھانے کے لیے کچھ نہ بچتا تو وہ بھوکے رہ کر یا درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کرتے ۔اِس سے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپکے صحابہ ٔ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے زُہد و تقویٰ اور دنیا سے بے رغبتی کا پتا چلتا ہے ۔
عمدۃ القاری میں ہے:سوا ل:”
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے پیارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوبنی نضیر اورفدک وغیرہ سے جو مال عطافرمایا وہ سال بھر کے لئےکفایت کرتاتھا،اور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایسی سخاوت فرمایاکرتے تھے کہ گزشتہ اُمَّتوں کے بادشاہوں کے بارے میں بھی اس کی مثال نہیں ملتی،پھرصحابہ ٔ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں بھی مالدارافراد بھی تھے،جیسے ابو بکر اور حضرت عثمانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَااور ان جیسے دوسرے صحابہ ٔ کرام تو پھر یہ کیسے ہو سکتاہے کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کے اَصحاب بھو ک کی وجہ سے پتے کھا کر گزارہ کریں؟“ جواب:” ان حضرات کو ہر وقت ایسے حالات درپیش نہ ہوا کرتے تھے بلکہ کبھی کبھی ایساہوتاتھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ حقوق کی ادائیگی، مہمان نوازی اور دیگر رضائے الٰہی والے کاموں میں خرچ کرنے کی وجہ سےان کا مال کم ہوجاتااورکبھی بالکل ختم ہوجاتا،ان وجوہات کی بناء پرایسے حالات پیداہو جانا کہ کھانے پینے کو کچھ نہ بچے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ۔“
¥ حضور اور صحابہ کی بے مثال قربانیاں:
حدیثِ پاک میں بیان کیا گیا کہ صحابہ ٔ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکبھی درختوں کے پتے اورکیکرکے بیج وغیرہ کھا کر گزارہ کیاکرتے۔اس سے پتا چلا کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صحابہ ٔ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے کتنی تکلیفیں اور صعوبتیں برداشت کر کے دِین پھیلایا۔مرآۃ المناجیح میں ہے:”نہ معلوم وہ حضرات یہ کیسے کھاتے ہوں گےیہ ہیں ان حضرات کی قربانیاں بے مثال،اسلام کی قدر اِن سے پوچھو ،ہم نے کمایا ہوا اسلام پایا، ہم کیا قدر کرسکتے ہیں۔( حضرت سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :ہمیں قضائے حاجت بکری کی خشک مینگنیوں کی طرح ہواکرتی) یعنی ہم کو پاخانہ بکری کی مینگنی کی طرح بالکل خشک ہوتا تھا جس میں کوئی تری نہیں،اگر کوئی تر چیز کھائیں تو تری ہو۔ جب پتے اور ببول کے بیج کھائے جائیں گے تو پاخانہ بھی ایسا ہی ہوگا۔“مدنی گلدستہ’’بلال ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حضرتِ سَیِّدُنا سعد بن ابی وقاص
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے راہ ِ خدامیں سب سے پہلے تیر چلایا۔
(2) اپنا حلال مال خرچ کر کے فقرا و مساکین کی امداد کرنا ، مہمان نوازی کرنا اوردِین کی تبلیغ واشاعت میں بھرپورحصہ لینا بہت بڑی سعادت اور دنیا سے بے رغبتی کی علامت ہے ۔
(3) حضورسیدِ دوعالَم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملوگوں کو اتنا عطا فرمایا کرتے کہ بڑے بڑے بادشاہ بھی کسی کو اتنا دینے سے عاجز ہوتے۔
(4) بوقتِ ضرورت اپنا دِینی شرف و مرتبہ بیان کرنا جائز ہے جبکہ رِیا و تکبر کی نیت سے نہ ہو۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں صحابہ ٔ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سچی پکی محبت نصیب فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 500