Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 505

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ: رَهَنَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْعَهُ بِشَعِيرٍ ، وَمَشَيْتُ اِلىَ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ:”مَا اَصْبَحَ لآلِ مُحَمَّدٍ صَاعٌ وَلَا اَمْسَى.“ وَإِنَّهُمْ لَتِسْعَةُ اَبْيَاتٍ.

عن انس رضی اللہ عنہ قال: رهن النبى صلى الله عليه وسلم درعه بشعير ، ومشيت الى النبى صلى الله عليه وسلم بخبز شعير وإهالة سنخة، ولقد سمعته يقول:”ما اصبح لآل محمد صاع ولا امسى.“ وإنهم لتسعة ابيات.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”حضورنبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی زِرہ جَو کے عوض رَہن رکھوائی ہوئی تھی اور میں آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں جَو کی روٹی اور پگھلی ہوئی چربی لے کر حاضر ہوا، میں نے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا:”آلِ محمد کےلیے نہ صبح ایک صاع ہوتا ہے نہ شام کو۔‘‘اور حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اہلِ بیت میں نو(9) گھر تھے۔

شرح حدیث

دو جہاں کے آقا کا فاقہ:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:”حدیثِ مذکور میں اس بات کا بیان ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدنیا کی بہت کم چیزیں استعمال فرماتے اور یہ سب آپ اپنے اختیار سے کرتے تھے(مجبوراً نہیں) ورنہاللہ عَزَّوَجَلَّنے تو آپ کو زمین کے خزانوں کی چابیاں عطا فرمائی تھیں مگر آپ نے تواضع و زُہد اختیار فرمایا تاکہ آپ کے درجاتِ عالیہ مزید بلند ہوں۔“
دونوں جہاں کے داتا ہو کر ،کون و مکاں کے آقا ہوکر***فاقہ سے ہیں سرکارِ دو عالَم
صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمسامانِ عزت اور سامانِ ذِلَّت:شیخ طریقت امیر اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنی شہرہ آفاق تصنیف”فیضانِ سنت“جلد اَوَّل کےباب ’’پیٹ کا قفل مدینہ‘‘صفحہ نمبر649 پرایک روایت نقل کرتے ہیں کہابوبُجَیْر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک دن تاجدارِرِسالت، شہنشاہِ نبوت، محبوبِ رَبُّ العزتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بھوک کی شدّت در پیش ہوئی تو ایک پتھر لے کرشکمِ اَنور پر باندھ لیا اور فرمایا:’’خبردار! کئی لوگ ایسے ہیں جو دنیا میں عمدہ خوراک کھانے والے اور آسُودہ زندگی گزارنے والے ہیں مگر قِیامت کے روز بھوکے ننگے ہوں گے۔خبردار!کئی لوگ ایسے ہیں جو اپنے آپ کومُعَزَّز(یعنی عزّت والا)بنانے کی کوشِش میں ہیں حالانکہ وہ ذلّت کاسامان کر رہے ہیں۔ خبردار !کئی لوگ ایسے ہیں جو اپنے آپ کو ذلیل کرتے نظر آتے ہیں مگر یہ اُن کیلئے سامانِ عزّت ہے۔‘‘مدنی گلدستہ’’اَہلِ بیت ‘‘کے6حروف کی نسبت سے مذکورہ اَحادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) رسولُ
اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدنیا کی بہت کم چیزیں استعمال فرماتے اور یہ سب آپ اپنے اختیار سے کرتے تھے۔
(2) بوقتِ ضرورت قرض لینا اوراس کے عوض کوئی چیز رہن رکھوانا جائز ہے۔
(3) ضرورتاً کفار سے خرید و فروخت کے معاملات کر نا جائز ہے۔
(4) مہمان کی مہمان نوازی کیلئے قرض لینا بھی جائز ہے۔
(5) جب کوئی چیز خریدیں تو ادائیگی کی میعاد مقرر کرلیں تاکہ جھگڑے کا امکان نہ رہے ۔
(6) اگر کسی سے قرض لینےکی ضرورت ہوتو یہ دیکھ لیں کہ جس سے قرض لیناہے اس پر بوجھ نہ ہو۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں مہمان نوازی کرنے اور سادہ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 505