Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 518

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبي عَبْدِ الله جَابِر بِنْ عَبْدِ اللهِ رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَمَّرَ عَلَيْنَا اَبَا عُبَيْدَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ نَتَلَقّٰى عِيْرًا لِقُرَيْشٍ، وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ لَمْ يَجِدْ لَنَا غَيْرَهُ، فَكَانَ اَبُوْ عُبَيْدَةَ يُعْطِيْنَا تَمْرَةً تَمْرَةً، فَقِيْلَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُوْنَ بِهَا؟ قَالَ: نَمَصُّهَا كَمَا يَمَصُّ الصَّبيُّ، ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ، فَتَكْفِيْنَا يَوْمَنَا اِلَى اللَّيْلِ، وَكُنَّا نَضْرِبُ بِعِصيِّنَا الْخَبَطَ، ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْماءِ فَنَأْكُلُهُ. قَالَ: وَانْطَلَقْنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ، فَرُفِعَ لَنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ، فَاَتَيْنَاهُ فَاِذَا هِيَ دَابَّةٌ تُدْعَى الْعَنْبَرَ ، فَقَالَ اَبُوْ عُبَيْدَةَ: مَيْتَةٌ، ثُمَّ قَالَ: لَا، بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيْ سَبِيْلِ الله وَقَدِ اضْطُرِرْتُمْ فَكُلُوْا، فَاَقَمْنَا عَلَيْهِ شَهْرًا، وَنَحْنُ ثَلاَثُ مِائَةٍ حَتّٰی سَمِنَّا، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَغْتَرِفُ مِن وَقْبِ عَيْنِهِ بِالْقِلَالِ الدُّهْنَ وَنَقْطَعُ مِنْهُ الْفِدَرَ كالثَّوْرِ اَوْ كَقَدْرِ الثَّوْرِ، وَلَقَدْ اَخَذَ مِنَّا اَبُوْ عُبَيْدَةَ ثَلاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَاَقْعَدَهُمْ في وَقْبِ عَيْنِهِ وَاَخَذَ ضِلَعًا مِنْ اَضْلَاعِهِ فَاَقَامَهَا ثُمَّ رَحَلَ اَعْظَمَ بَعِيْرٍ مَعَنَا فَمَرَّ مِنْ تَحْتِهَا وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَشَائِقَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ اَتَيْنَا رَسُوْلَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذٰلِكَ لَهُ، فَقَالَ: ”هُوَ رِزْقٌ اَخْرَجَهُ اللهُ لَكُمْ، فَهَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ فَتُطْعِمُوْنَا“ فَاَرْسَلْنَا اِلٰی رَسُوْلِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَاَكَلَهُ.

عن ابي عبد الله جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما، قال: بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وامر علينا ابا عبيدة رضی اللہ عنہ نتلقى عيرا لقريش، وزودنا جرابا من تمر لم يجد لنا غيره، فكان ابو عبيدة يعطينا تمرة تمرة، فقيل: كيف كنتم تصنعون بها؟ قال: نمصها كما يمص الصبي، ثم نشرب عليها من الماء، فتكفينا يومنا الى الليل، وكنا نضرب بعصينا الخبط، ثم نبله بالماء فنأكله. قال: وانطلقنا على ساحل البحر، فرفع لنا على ساحل البحر كهيئة الكثيب الضخم، فاتيناه فاذا هي دابة تدعى العنبر ، فقال ابو عبيدة: ميتة، ثم قال: لا، بل نحن رسل رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي سبيل الله وقد اضطررتم فكلوا، فاقمنا عليه شهرا، ونحن ثلاث مائة حتی سمنا، ولقد رأيتنا نغترف من وقب عينه بالقلال الدهن ونقطع منه الفدر كالثور او كقدر الثور، ولقد اخذ منا ابو عبيدة ثلاثة عشر رجلا فاقعدهم في وقب عينه واخذ ضلعا من اضلاعه فاقامها ثم رحل اعظم بعير معنا فمر من تحتها وتزودنا من لحمه وشائق، فلما قدمنا المدينة اتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرنا ذلك له، فقال: ”هو رزق اخرجه الله لكم، فهل معكم من لحمه شيء فتطعمونا“ فارسلنا الی رسول الله صلى الله عليه وسلم منه فاكله.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو عبداللہجابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ ہمیں رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قریش کے ایک قافلے کے مقابلے میں بھیجا اورحضرت ابو عبیدہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکو ہمارا امیر مقرر فرمایا اور ہمیں کھجوروں کی ایک تھیلی بطورِ زادِ راہ عنایت فرمائی کیونکہ اُس وقت ان کھجوروں کے علاوہ کوئی اورچیزمیسر نہ تھی۔حضرت سیدناابو عبیدہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُہمیں روزانہ ایک کھجور دیتے تھے۔(راوی سے) پوچھا گیا کہ آپ لوگ ایک کھجور پر کیسے گزارہ کرتے تھے؟ فرمایا: ’’ہم اُسے چوستے تھے جیسے چھوٹا بچہ چوستا ہے ،پھر اس کے اوپر پانی پی لیتے تو وہ ہمیں صبح سے رات تک کفایت کرجاتی تھی اور ہم اپنی لاٹھیوں سے پتے توڑتے اور پانی میں بھگوکر کھالیتے۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ ہم سمُندر کے کَنارے چل رہے تھے اچانک کَنارے پرٹیلے کے برابر کوئی چیز نمودار ہوئی ہم اُس کے پاس گئے تو وہ ایک بہت ہی بڑا جانور تھا جسے’’عنبر‘‘ کہا جاتا ہے۔( یہ مچھلی کی ایک قسم ہے)حضرت ابو عُبَیْدہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنےفرمایا:”یہ مردار ہے۔“ پھر فرمایا: نہیں،بلکہ ہم رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بھیجے ہوئے اور راہِ خدا کے مسافرہیں اور تم لوگ اِضطراری حالت میں ہو،پس تم لوگ کھاؤ۔ پھر ہم ایک مہینے تک اُس مچھلی سے کھاتے رہے ہم تین سو اَفراد تھے حتی کہ ہم سب صحت مند ہوگئے، مجھے یاد ہے کہ ہم اُس کی آنکھ کے ڈھیلے سے مٹکے بھر بھر کر چربی نکالتے تھے اور بیل کی جسامت کے برابر گوشت کے ٹکڑے کاٹتے تھے، حضرت ابو عُبیدہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے ہم میں سے تیرہ آدمیوں کو اُس کی آنکھ میں بٹھادیا، ہم نے اُس کی ایک پسلی کو لیکر کھڑا کیا پھر ایک بڑے اونٹ پر کجاوہ رکھا تو وہ اُس پسلی کے نیچے سے نکل گیا، واپسی پر ہم نےاس گوشت کے خشک ٹکڑے اپنے ساتھ لے لیے۔ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوکر سارا واقعہ عرض کیا،آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”وہ رزق تھا جواللہتعالیٰ نے تمہارے لیے ظاہر فرمایا تھا ،اگر تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ۔“پھر ہم نے اس کا گوشت حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں پیش کیا تو آپ نے اسے تناول فرمایا۔

شرح حدیث

غزوۂ سیف البحر:اس سریہ کو حضرت امام بخاریرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے ”غزوہ سیف البحر“ کے نام سے ذکر کیا ہے۔ ”رجب ۸ہجری میں حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت ابوعبیدہ بن جراحرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکو تین سو صحابہ کرامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْکے لشکر پر امیر بناکر ساحل سمندر کی جانب روانہ فرمایاتاکہ یہ لوگ قبیلہ جہینہ کے کفار کی شرارتوں پر نظر رکھیں، اس لشکر میں خوراک کی اس قدر کمی پڑگئی کہ امیرلشکر مجاہدین کو روزانہ ایک ایک کھجور راشن میں دیتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا بھی آگیا کہ یہ کھجوریں بھی ختم ہوگئیں اور لوگ بھوک سے بے چین ہوکر درختوں کے پتے کھانے لگے یہی وجہ ہے کہ عام طورپر مؤرخین نے اس سَرِیّہ کا نام ”سَرِ یَّۃُ الخَبَط“یا ”جَیْشُ الْخَبَط“ رکھا ہے۔ ”خَبَط“عربی زبان میں درخت کے پتوں کو کہتے ہیں۔ چونکہ مجاہدینِ اسلام نے اس سریہ میں درختوں کے پتے کھاکر جان بچائی اس لئے یہسَریَۃُ الْخَبَطکے نام سے مشہور ہوگیا۔حضرت جابررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکا بیان ہے کہ ہم لوگوں کو اس سفر میں تقریباً ایک مہینہ رہنا پڑا اور جب بھوک کی شدت سے ہم لوگ درختوں کے پتے کھانے لگے تواللہتعالیٰ نے غیب سے ہمارے رزق کا یہ سامان پیدا فرما دیا کہ سمندر کی موجوں نے ایک اتنی بڑی مچھلی ساحل پر پھینک دی،جو ایک پہاڑی کے مانند تھی چنانچہ تین سو صحابہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْاٹھارہ دنوں تک(بعض روایتوں میں پورا مہینہ اور بعض میں پندرہ دن) اس مچھلی کا گوشت کھاتے رہے اور اس کی چربی اپنے بدن پر ملتے رہے اور جب وہاں سے روانہ ہونے لگے تو اس کا گوشت کاٹ کاٹ کر مدینہ تک لائے اور جب یہ لوگ بارگاہ ِنبوت میں پہنچے اور حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اِس کا تذکرہ کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ”یہاللہتعالیٰ کی طرف سے تمہارے لئے رِزق کا سامان ہوا تھا۔“پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس مچھلی کا گوشت طلب فرمایا اور اس میں سے کچھ تناول بھی فرمایا ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکور میں اس بات کا بیان ہے کہ صحابہ ٔکرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپر ایسے دن بھی آئے کہ انہوں نے ایک ایک کھجور پر سارا سارا دن گزار دیا اور جب کھجوریں بھی ختم ہوگئیں تو انہوں نے درخت کے پتے پانی میں بِھگو بِھگو کر کھائے یہ اُن حضرات کی دنیا سے بے رغبتی اور بھوک پر صابر و شاکِر رہنے کی عظیم مثال ہے۔راہِ خدا میں سفر کی برکتیں:شیخ طریقت، امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضویدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں: ”میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جَیشُ الْعْسْرَۃکے موقع پر قد آوَر مچھلی کا مِل جانا، ایک ماہ تک صحابہ ٔ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا اس کو تناوُل فرمانا، اونٹوں پر لاد کر ساتھ لانا، مدینہ منوّرہ بھی ساتھ لے آنا، مچھلی کے گوشت کے ذائقے میں تغیُّر نہ آنا یہ سباللہ عَزَّوَجَلَّکی رَحْمت سے سیِّدُنا ابو عُبَیْدہ بن جَرّاحرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُاورصحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی بَرَکتیں اور کرامتیں تھیں۔ راہِ خدا میں جو بھی سفر کرتا ہے،اللہ عَزَّوَجَلَّکی اُس پر خوب رحمتیں ہوتی ہیں،مصیبتوں میں بھی عظمتیں حاصِل ہوتی ہیں اور راحتیں تو پھر ہیں ہی راحتیں ۔ ہر مسلمان کو صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی ان عظیم قربانیوں سے دَرْس حاصل کرتے ہوئے اسلام کی خدمت کیلئے کمربَستہ رہنا چاہیے ۔“مری ہوئی مچھلی کا حکم:حدیث پاک میں جس مچھلی کاذکر ہے اسے سمندر نے زندہ ہی خشکی پر پھینکا تھا پھر وہ خشکی پر آکر مری اور ایسی مچھلی حلال ہے۔ہاں! جو مچھلی پانی ہی میں مر کر الٹی تیر نے لگے وہ حرام ہے۔مرآۃ المناجیح میں ہے:”دریا نے مچھلی کنارہ پرپھینکی وہ خشکی میں آکر مرگئی (وہ حلال ہے)ورنہ جو مچھلی دریا میں مرکر تَر(یعنی تیر) جائے وہ حرام ہے۔“ بہارشریعت میں ہے: ’’جومچھلی پانی میں مرکرتیرگئی یعنی جوبغیرمارے اپنے آپ مرکرپانی کی سطح پر الٹ گئی وہ حرام ہے، مچھلی کو مارا اور وہ مرکرالٹی تیرنے لگی، یہ حرام نہیں۔‘‘مدنی گلدستہ’’سیف البحر‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) صحابہ ٔکرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی زندگیاں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔
(2) راہِ خدا
عَزَّوَجَلَّمیں ایسا بھی وقت آیا کہ صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانایک کھجور پر بھی گزارہ کر کے صبر کرتے تھے ہمیں بھی چاہیے کہ ہر حال میںاللہ عَزَّوَجَلَّکا شکر بجالائیں۔
(3) صحابہ ٔکرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاندنیا سے بے رغبت رہتے اور دنیا سے کم چیزوں پر اکتفا کرتے۔
(4) دوران ِسفر اگر باہم رضا مندی ہو تو سب کو اپنا کھانا ملا لینا چاہیے کہ مل کر کھانے میں برکت ہوتی ہے۔
(5) ہمیں بھی صحابہ ٔکرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی قربانیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے راہِ خدا میں دِین اسلام کی ترویج واِشاعت کے لیے سفر کرنا چاہیے ۔
(6)
اللہ عَزَّوَجَلَّاپنی راہ میں سفر کرنے والوں کی مشکلیں آسان فرمادیتا ہے۔
(7) سمندر کے جانوروں میں صرف مچھلی حلال ہے باقی سمندر کا ہر جانور حرام ہے۔
(8) جو مچھلی پانی کے اندر بغیر کسی ظاہری سبب کے مر کر اُلٹی تیر جائے وہ حرام ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر حال اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے،دارَین کی سعادتیں عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 518