Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 520

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللہ عَنْهُ قَال: اِنَّا كُنَّا يَوْم الْخَنْدَقِ نَحْفِرُ، فَعَرضَتْ كُدْيَةٌ شَدِيْدَةٌ فَجَاءُوْااِلَی النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَقَالُوْا: هٰذِهِ كُدْيَةٌ عَرَضَتْ فِي الْخَنْدَقِ. فَقَالَ:”اَنَا نَازِلٌ“ ثُمَّ قَامَ وَبَطْنُهُ مَعْصُوْبٌ بِحَجرٍ ، وَلَبِثْنَا ثَلاثَةَ اَيَّامٍ لَانَذُوْقُ ذَوَاقاً، فَاَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِعْوَلَ، فَضرَب فَعَادَ كَثيْباً اَهْيَلَ،اَوْ اَهْيَمَ. فَقُلْتُ: يَارَسُوْلَ اللَّه! ائْذَنْ لِيْ اِلَی الْبَيْتِ، فَقُلْتُ لِاِمْرَأَتيْ:رَاَيْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم شَيْئاً مَافِي ذٰلِكَ صَبْرٌ فَعِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ فَقَالَتْ:عِنْدِيْ شَعِيْرٌ وَعَنَاقٌ، فَذَبَحْتُ الْعَنَاقَ، وَطَحَنَتِ الشَّعِيْرَ حَتّٰى جَعَلْنَا اللَّحْمَ في الْبُرْمَة، ثُمَّ جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَالْعَجِيْنُ قَدِ انْكَسَرَ وَالْبُرْمَةُ بَيْنَ الْاَثَافِيِّ قَدْ كَادَتْ تَنْضِجُ . فَقُلْتُ: طُعَيِّمٌ لِی فَقُمْ اَنْتَ يَارَسُوْلَ اللَّه وَرَجُلٌ اَوْ رَجُلَانِ، قَالَ:”كَمْ هُوَ ؟“ فَذَكَرْتُ لَهُ فَقَالَ: ”كَثِيْرٌ طَيِّبٌ، قُلْ لَهَا لَاتَنْزِعُ الْبُرْمَةَ،وَلَا الْخُبْزَ مِنَ التَّنُّورِ حَتّٰى اٰ تِيَ“ فَقَالَ:”قُوْمُوْا“ فَقَامَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْاَنْصَارُ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَقُلْتُ: وَيْحَكِ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَالْمُهَاجِرُونَ، وَالْاَنْصَارُ وَمَنْ مَعَهُمْ، قَالَتْ: هَل سَاَلَكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ! قَالَ:”اُدْخُلُوْا وَلَا تَضَاغَطُوْا“ فَجَعَلَ يَكْسِرُ الْخُبْزَ ، وَيَجْعَلُ عَلَيْهِ اللَّحْمَ، ويُخَمِّرُ الْبُرْمَةَ وَالتَّنُّورَ اِذا اَخَذَ مِنْهُ، وَيُقَرِّبُ اِلٰی اَصْحَابِهِ ثُمَّ يَنْزِعُ فَلَمْ يَزَلْ يَكْسِرُ وَيَغْرِفُ حَتّٰى شَبِعُوا وَبَقِيَ مِنْهُ، فَقَالَ:”كُلِيْ هٰذَا وَاَهْدِيْ، فَاِنَّ النَّاسَ اَصَابَتْهُمْ مَجَاعَةٌ.“
وَفِیْ رِوَايَةٍ: قَالَ جَابِرٌ : لَمَّا حُفِرَ الْخَنْدَقُ رَأَيتُ بِالنَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم خَمَصًا، فَانْكَفَأْتُ اِلٰی امْرَأَتيْ فَقُلْتُ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ فَاِنِّي رَأَيْتُ بِرَسُوْلِ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم خَمَصاً شَدِيداً. فَاَخْرَجَتْ اِلَيَّ جِرَاباً فِيْهِ صَاعٌ مِنْ شَعِيْرٍ ، وَلَنَا بُهَيْمَةٌ داجِنٌ فَذَبحْتُهَا،وَطَحَنَتِ الشَّعِيْرَ فَفَرَغَتْ اِلٰی فَرَاغِي، وَقَطَّعْتُهَا في بُرْمَتِهَا، ثُمَّ وَلَّيْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم، فَقَالَتْ: لَا تَفْضَحْنِي بِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَمَن مَّعَهُ ،فَجِئْتُهُ فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ: يَارَسُولَ اللَّه،ذَبَحْنا بُهَيْمَةً لَنَا، وَطَحَنَتْ صَاعاً مِنْ شَعِيرٍ، فَتَعَالَ اَنْتَ وَنَفَرٌ مَعَكَ، فَصَاحَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم فَقَالَ:”يَا اَهْلَ الْخَنْدَقِ:اِنَّ جَابِراً قدْ صَنَع سُؤْراً فَحَيَّ هَلاًّ بِكُمْ‘‘ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:”لَا تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ وَلَا تَخْبِزُنَّ عَجِيْنَكُمْ حَتّٰى أَجيْءَ “. فَجِئْتُ، وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم يَقْدُمُ النَّاسَ، حَتّٰى جِئْتُ امْرَأَتي فَقَالَتْ: بِكَ وَبِكَ، فَقُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي قُلْتِ. فَاَخْرَجَتْ عَجِيْناً فَبصَقَ فِيْهِ وَبَارَكَ، ثُمَّ عَمَدَ اِلٰی بُرْمَتِنا فَبَصَقَ وَبَارَكَ، ثُمَّ قَالَ:”ادْعِي خَابِزَةً فلْتَخْبِزْ مَعَكِ، وَاقْدَحِيْ مِنْ بُرْمَتِكُمْ وَلَا تُنْزلُوْهَا“ وَهُمْ اَلْفٌ، فَأُقْسِمُ بِاللَّه لَاَكَلُوْا حَتّٰى تَرَكُوْهُ وَانَحرَفُوْا، وَ اِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ ، وَاِنَّ عَجِينَنَا لَيُخْبَزُ كَمَا هُوَ .

عن جابر رضي اللہ عنه قال: انا كنا يوم الخندق نحفر، فعرضت كدية شديدة فجاءواالی النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: هذه كدية عرضت في الخندق. فقال:”انا نازل“ ثم قام وبطنه معصوب بحجر ، ولبثنا ثلاثة ايام لانذوق ذواقا، فاخذ النبي صلى الله عليه وسلم المعول، فضرب فعاد كثيبا اهيل،او اهيم. فقلت: يارسول الله! ائذن لي الی البيت، فقلت لامرأتي:رايت بالنبي صلى الله عليه وسلم شيئا مافي ذلك صبر فعندك شيء ؟ فقالت:عندي شعير وعناق، فذبحت العناق، وطحنت الشعير حتى جعلنا اللحم في البرمة، ثم جئت النبي صلى الله عليه وسلم والعجين قد انكسر والبرمة بين الاثافي قد كادت تنضج . فقلت: طعيم لی فقم انت يارسول الله ورجل او رجلان، قال:”كم هو ؟“ فذكرت له فقال: ”كثير طيب، قل لها لاتنزع البرمة،ولا الخبز من التنور حتى ا تي“ فقال:”قوموا“ فقام المهاجرون والانصار، فدخلت عليها فقلت: ويحك جاء النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرون، والانصار ومن معهم، قالت: هل سالك؟ قلت: نعم! قال:”ادخلوا ولا تضاغطوا“ فجعل يكسر الخبز ، ويجعل عليه اللحم، ويخمر البرمة والتنور اذا اخذ منه، ويقرب الی اصحابه ثم ينزع فلم يزل يكسر ويغرف حتى شبعوا وبقي منه، فقال:”كلي هذا واهدي، فان الناس اصابتهم مجاعة.“
وفی رواية: قال جابر : لما حفر الخندق رأيت بالنبي صلى الله عليه وسلم خمصا، فانكفأت الی امرأتي فقلت: هل عندك شيء؟ فاني رأيت برسول الله صلى الله عليه وسلم خمصا شديدا. فاخرجت الي جرابا فيه صاع من شعير ، ولنا بهيمة داجن فذبحتها،وطحنت الشعير ففرغت الی فراغي، وقطعتها في برمتها، ثم وليت الی رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: لا تفضحني برسول الله صلى الله عليه وسلم ومن معه ،فجئته فساررته فقلت: يارسول الله،ذبحنا بهيمة لنا، وطحنت صاعا من شعير، فتعال انت ونفر معك، فصاح رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:”يا اهل الخندق:ان جابرا قد صنع سؤرا فحي هلا بكم‘‘ فقال النبي صلى الله عليه وسلم:”لا تنزلن برمتكم ولا تخبزن عجينكم حتى أجيء “. فجئت، وجاء النبي صلى الله عليه وسلم يقدم الناس، حتى جئت امرأتي فقالت: بك وبك، فقلت: قد فعلت الذي قلت. فاخرجت عجينا فبصق فيه وبارك، ثم عمد الی برمتنا فبصق وبارك، ثم قال:”ادعي خابزة فلتخبز معك، واقدحي من برمتكم ولا تنزلوها“ وهم الف، فأقسم بالله لاكلوا حتى تركوه وانحرفوا، و ان برمتنا لتغط كما هي ، وان عجيننا ليخبز كما هو .

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا جابررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:” خندق کے دن ہم لوگ خندق کھود رہے تھے تو ایک بڑی چٹان آڑے آگئی، صحابہ ٔ کرام نے بارگاہِ رسالت میں حاضرہوکر عرض کی: ”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !ایک چٹان آڑے آگئی ہے۔“ فرمایا:”میں آتا ہوں۔ “پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھڑے ہوئے حالانکہ آپ کے شکم مبارک پر پتھر بندھا ہوا تھا اور ہم نےتین دن سے کچھ کھایا نہ تھا۔ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کُدال اُٹھایا اور ایک ضرب لگائی تو وہ پتھر رَیت کی طرح بکھر گیا (حضرت جابررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں) میں نے عرض کی:”یارسولَاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممجھے گھر جانے کی اجازت مرحمت فرمائیے۔“پھر گھر آکر میں نے اپنی زوجہ سے کہا: میں نے جس حالت میں رسولِ اکرم، شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا ہے مجھ سے صبر نہیں ہورہا،کیا تمہارے پاس (کھانے کے لیے) کچھ ہے؟ اس نے کہا: ہاں! کچھ جَو اور ایک بکری کا بچہ ہے۔میں نے بکری کا بچہ ذبح کیا اور میری زوجہ نے جَو پیسے، یہاں تک کہ ہم نے گوشت ہانڈی میں ڈال دیا۔ پھر میں حضورنبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوا، آٹا پکنے کے قابل ہوگیا تھا اور ہنڈیا چولہے پر تھی اور سالن پکنے والا تھا۔ میں نے عرض کی:”یارسولَاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے گھر پر کچھ کھاناتیار ہے آپ تشریف لے چلئے اور ایک دوافراد کو بھی ساتھ لے لیجئے۔“ فرمایا :”کھانا کتنا ہے؟“ میں نے عرض کردیا کہ اتنا ہے، فرمایا: ”بہت ہے اور اچھا ہے، اپنی زوجہ سے کہنا کہ جب تک میں نہ آؤں ہنڈیا چولہے سے نہ اُتارے اور نہ تندور میں روٹی لگائے۔“ پھرآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ ٔ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے فرمایا: ”اٹھو!“ مہاجرین اور انصارصحابہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْکھڑے ہوئے اور چل دئیے، میں اپنی زوجہ کے پاس آیا اور کہا:سنتی ہو!نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، مہاجرین اور انصار صحابہ ٔ کرامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْآرہے ہیں۔ اس نے کہا: یارسولَاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ سےکھانے کے بارےمیں پوچھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں۔ (یعنی جب انہوں نے پوچھ لیا تو اب آپ کو اس معاملے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔) بعدازاں جب وہ سب میرے گھر کے پاس پہنچے تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :سب داخل ہوجاؤ اور بھیڑ نہ کرو۔پس آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمروٹی توڑتے اور اُس پر گوشت رکھ دیتے۔ جب بھی آپ ہانڈی یاتنور سے کچھ لیتے تو اُس کو ڈھانپ دیتے اور صحابہ ٔ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو دیتے جاتےپھر نکالتے پھر دیتے، یہاں تک کہ سب سیر ہوگئے اور اُس میں سے کھانا بھی بچ گیا۔پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے (حضرت جابررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکی زوجہ سے) فرمایا:”اسے کھاؤ اور دوسروں کو بھی دو کیونکہ لوگ بھوک سے دوچار ہیں۔“
ایک روایت میں ہے:حضرت جابر
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”جب خندق کھودی جارہی تھی میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بھوک کی حالت میں دیکھا تو اپنی زوجہ کے پاس آیا اور کہا:” کیا تمہارے پاس کھانے کو کچھ ہے؟ بے شک! میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو شدید بھوک کی حالت میں دیکھا ہے۔“تو اُس نے ایک تھیلی نکالی جس میں ایک صاع جَو تھے اور ہمارے پاس گھر کا پلا ہوا بکری کا بچہ تھا میں نے اسے ذبح کیا اور میری زوجہ نے جَو پیسے، میرے فارغ ہونے تک وہ بھی فارغ ہوگئی۔ میں نے گوشت کاٹ کر ہنڈیا میں ڈال دیا پھر میں رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس چلا گیا۔ میری زوجہ نے کہا: مجھے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور اُن کے اصحاب کے سامنے رُسوا مت کرنا۔ میں نے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوکر آہستہ سے عرض کی:یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !ہم نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا ہےاور میری زوجہ نے ایک صاع جَو کا آٹا گوندھا ہےآپ اور آپ کے ساتھ چند اصحاب تشریف لے آئیں۔ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بلند آواز سے پکارا:”اے اہلِ خندق! جابر نے تمہاری دعوت کی ہےپس دعوت کے لیے آجاؤ۔“ پھر (مجھ سے) فرمایا:”جب تک میں نہ آجاؤں ہنڈیا کو چولہے سے مت اُتارنا، نہ ہی آٹے کی روٹی پکانا۔“ (حضرت جابر کہتے ہیں) میں آیا اورسرکار دوعالَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے آگے آگے تشریف لارہے تھے، میں اپنی زوجہ کے پاس آیا تو اُس نے کہا:اب تمہاری وجہ سے ہوگا جو بھی کچھ ہوگا۔ میں نے اس سے کہا: میں نے وہی کیا جو تم نے کہا تھا۔ اُس نے گوندھا ہوا آٹا نکالا، رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس میں اپنا لعابِ دَہَن ڈالا اور برکت کی دعا فرمائی۔ پھر ہماری ہنڈیا کے پاس تشریف لائے اور اُس میں بھی لعاب شریف ڈال کر برکت کی دعا فرمائی پھر فرمایا: ”کسی روٹی پکانے والی کو بلاؤ جو تمہارے ساتھ روٹی پکائے، اپنی ہانڈی سے سالن نکالتی رہو لیکن اِسے چولہے سے مت اُتارنا۔“صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی تعداد ایک ہزارتھی،اللہکی قسم! سب نے سیر ہوکر کھایااور چلے گئےمگر ہماری ہانڈی پہلے کی طرح اُبل رہی تھی اورآٹے کی روٹی پہلے کی طرح پک رہی تھی۔

شرح حدیث

حضورعَلَیْہِ السَّلَاماور صحابہ کی دنیا سے بے رغبتی:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکور سے پتہ چلا کہ نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صحابہ ٔ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاندنیا سے کس قدر بے رغبت رہتے تھے۔ یہ نفوسِ مقدسہ کبھی دنیا کے طالب نہ ہوئے۔ جبھی تو اُن کے پاس کچھ کھانے کے لیے نہ ہوتا تھا۔ اگر وہ دنیا میں رغبت رکھتے تو ضرور اُن کے پاس مال ہوتا اور کبھی بھی انہیں کھانا نہ ہونے کی وجہ سے بھوکا نہ رہنا پڑتا نیز اُن کی بھوک اتنی شدت اختیار کر جاتی تھی کہ انہیں اپنے پیٹ پر پتھر باندھنا پڑتے تھے ۔پیٹ پر پتھر باندھنے کی وجہ :
*
علامہ بدرالدین عینیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:” بھوک کی وجہ سے پیٹ سکڑ کر اندر چلا جاتا ہے تو پیٹ پر پتھر باندھا جاتا ہے تاکہ کمر کے جھکاؤ کو ختم کیا جائے، کیونکہ جب کسی شخص کی بھوک شدت اختیار کرجائے تو اُس کی کمر جھک جاتی ہے۔ علامہ کرمانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں: پیٹ پر پتھر باندھنے کا فائدہ یہ ہے کہ بھوک کی حرارت کو پتھر کی ٹھنڈک سے کم کیا جاتا ہے، یا پھر اس لیے تاکہ بندہ سیدھا کھڑا ہوسکے، یا پھر اس کا فائدہ یہ ہے کہ پتھروں کو آنتوں پر باندھا جاتا ہے جس کی وجہ سے جو کچھ پیٹ میں ہوتا ہے وہ جلدہضم نہیں ہوتا اِس لیے مزید کمزوری محسوس نہیں ہوتی۔“*مرآۃ المناجیح میں ہے:”تمام صحابہ ٔ کرام نے اور خود حضورِ اَنورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے تین دن سے کچھ بھی نہیں کھایا تھا اور خندق کی کھدائی کا کام تھا،خالی پیٹ کدال اٹھانا مشکل تھا اس لیے حضورِ اَنور نے پیٹ شریف پر پتھر باندھ رکھا تھا تاکہ پیٹ کے بوجھ سے کدال چلانا آسان ہوجائے۔خیال رہے کہ اگر حضورِاَنورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمعادۃً کچھ نہ کھائیں اس لیے کہ کھانا موجود نہ ہو تب حضورِ اقدس پر بھوک کے آثار نمودار ہوتے تھے لیکن اگر عبادۃً نہ کھاتے روزے کی نیت سے تو خواہ کتنا ہی عرصہ نہ کھاتے مطلقًا ضعف نہ ہوتا تھا،اس کے متعلق ارشاد ہے:”یُطْعِمُنِی وَیَسْقِیْنِیْ“ مجھے میرا رب کھلاتا پلاتا ہے۔ لہٰذا اَحادیث میں تعارض نہیں۔حضورِ اَنور نُور بھی ہیں بشربھی، روزے میں نورانیت کی جلوہ گری ہوتی تھی اور عادۃً نہ کھانے میں بشریت کا ظہور،دیکھو عیسیٰعَلَیْہِ السَّلَامپہلے بھی کھاتے پیتے تھے اور قریب قیامت آسمان سے آکر بھی کھائیں گے پئیں گے کیونکہ آپ بشر ہیں مگر آسمان پر قریبًا دو ہزار سال سے گئے ہوئے ہیں بغیر کھائے پیئے موجود ہیں کیونکہاللہتعالیٰ کا نور ہیں،اسی حالت میں حضورِ اَنور(صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم) نے کدال سے وہ سخت پتھر توڑا۔حدیث کا یہ مطلب میرے مرشد مولانا نعیم الدین صاحب مراد آبادی(عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْہَادِی)نے خواب میں مجھ کو بتایا۔‘‘لُعابِ مبارک کی برکات:اِس حدیث پاک میں حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے معجزے کا بیان ہے کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لعاب ڈالنے کی برکت سے تھوڑا سا شوربا اور ایک صاع جَو کی روٹی ایک ہزار صحابہ ٔ کرامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْکو کافی ہوگئی بلکہ اُن کے کھانے کے بعد بھی کھانا بچ گیا۔مُفَسِّرِشَہِیْرمُحَدِّثِ کَبِیْرمفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”حضورِانور (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)نے لعاب دو چیزوں میں ڈالا گوندھے ہوئے آٹے میں اور پکتی ہوئی گوشت کی ہانڈی میں۔اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کا لعاب یا ان کے وضو وغیرہ کا غسالہ برکت کے لیے کھانا پینا بالکل جائز ہے بلکہ سنت سے ثابت ہے۔مومن کی طبیعت محبوب کی ہر چیز سے محبت کرتی ہے کسی چیز سے نفرت نہیں کرتی ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ دعائیہ کلمات کے ساتھ دَم یا لُعاب ڈالنا بھی سنت ہے اس کا ماخذ بھی یہ ہی حدیث ہے۔ یہ ایک ہزار آدمی تین دن سے بھوکے تھے انہوں نے کھانا بھی خوب ہی کھایا ہوگا۔جن روایات میں چودہ سو آیا ہے وہاں مراد یہ ہے کہ ایک ہزار تو خندق کھودنے والے تھے اور چار سو وہ حضرات تھے جو بعد میں بچے کھچے رہے جو مدینہ منورہ کے گھروں، بازاروں وغیرہ میں تھے،مدینہ منورہ کے بچے عورتیں بھی اس دعوت میں شامل کرلی گئی تھیں۔غرضکہ کھانے والوں کے میلے لگ گئے تھے۔خوش نصیب تھے وہ لوگ جو اس برکت والے کھانے سے مشرف ہوئے۔مدینہ منورہ کے بازار میں ایک سبزی فروش اپنی سبزی پرپانی چھڑک رہا تھا اور کہہ رہا تھا: ”یَا بَرَکَۃَ النَّبِیِّ تَعَالِی وَانْزِ لِی ثُمَّ لَا تَرْتَحِلِیْ“اے نبی کی برکت آجا یہاں سماجا پھر یہاں سے نہ جا۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّم وَبَارِكْ عَلَیْہِ۔اس موقعہ پر حضورِ انور (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)نے پہلے سب کو کھلایا بعد میں گھر والوں کے ساتھ مل کر خود کھایا اور حضور(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) واپس لوٹے تو حضرت جابر کا گھر روٹیوں بوٹیوں سے بھرا ہوا تھاصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم۔ اس واقعہ میں حضورِ انور(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے لعاب شریف کے بہت سے معجزات ہیں: بوٹیوں میں کثرت و برکت، شوربے کے پانی میں برکت،شوربے کے نمک مرچ مصالحہ گھی میں برکت و کثرت،آٹے میں برکت و کثرت،جس لکڑی سے یہ چیزیں پکائی گئیں اس میں برکت،روٹی پکانے والی کے ہاتھ میں قوت و طاقت ورنہ اتنی بڑی جماعت کی دعوت کے لیے کئی مَن گوشت لکڑیاں آٹا چاہیے بہت پکانے والے اور بہت تنور چاہئیں جیساکہ آج کل بیاہ شادیوں کی دعوتوں میں دیکھا جاتا ہے۔موسیٰعَلَیْہِ السَّلَامکے عصا سے پانی کے بارہ چشمے پتھر سے پھوٹے یہاں حضور (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے لعاب سے ہانڈی سے بوٹیوں شوربے کے چشمے پھوٹے۔“مدنی گلدستہ’’احمد رضا‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) حضور
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے دنیا سے بے رغبتی اختیار کی اور دینِ اسلام کے لیے بہت صعوبتیں برداشت کیں ۔
(2) بھوک کی حالت میں پیٹ پر پتھر باندھنے سے کمزوری محسوس نہیں ہوتی اور کمر سیدھی رہتی ہے۔
(3) حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہت زیادہ طاقت ور تھے تین دن سے کچھ نہ کھایا تھااس کے باوجود وہ چٹان جس پر کُدال کام نہیں کرتا اُسے آپ نے ایک ہی ضرب میں ریزہ ریزہ کردیا۔
(4) بزرگوں کا لعاب یا ان کے وضو وغیرہ کا غسالہ برکت کے لیے کھانا پینا بالکل جائز ہے۔
(5) حضور کے معجزات میں سے ایک معجزہ یہ بھی ہے کہ آپ کے لعاب کی برکت سے تھوڑا کھانا بہت سے اَفراد کو کافی ہوجایا کرتا تھا۔
(6) سرکار
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعادۃً نہ کھاتے توبھوک کے آثار ظاہر ہوتے لیکن عبادۃً کچھ نہ کھاتے مثلاًروزے وغیرہ کی حالت میں تو خواہ کتنا ہی عرصہ نہ کھاتے مطلقًا ضعف نہ ہوتا تھا۔
(7) پہلے اپنے متعلقین کو کھلانا اوربعد میں خود کھانا یہ بلند ہمت لوگوں کا طریقہ ہے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دِینِ اسلام کی خوب خوب خدمت کر نے کی توفیق عطافرمائے،ہمار ا خاتمہ ایمان پر فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 520