Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 501

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَ يْرَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا.

عن ابي هر يرة رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم اجعل رزق آل محمد قوتا.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”اےاللہ!آلِ محمد(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو صرف اتنا رزق عطا فرما جس سے وہ زندہ رہ سکیں۔“

شرح حدیث

آل محمد سے مراد اُمَّتی ہیں:مرآۃ المناجیح میں ہے :”یہاں آلِ محمدسے مراد حضورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے خاص اُمَّتی ہیں جو قیامت تک ہوتے رہیں گے لہٰذا حضورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی دعا ان کے حق میں قبول ہوئی،یہ نہیں کہاجاسکتا بہت سید بڑے امیر ہوتے ہیں،جمیع آلِ محمد نہیں فرمایا۔اِس فرمانِ عالی میں اُمَّت کو تعلیم ہے کہ بقدرِ ضرورت مال پر قناعت کریں، زیادتی کی ہوس میں ذلیل و خوار نہ ہوں۔“قلیل مال کثیر مال سے بہتر ہے:اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”قُوْتسے مراد اتنا رزق جس سے انسان زندہ رہ سکے۔قُوْتکوقُوْتاسی لئے کہتے ہیں کہ اس سے قوّت حاصل کی جاتی ہے۔ بے شک! مال کی کثرت ہلاک کردیتی ہے اور مال کی(بہت زیادہ) قِلَّت غفلت کا باعث بنتی ہے۔ بقدرِ کفایت قلیل مال اُس کثیر مال سے بہتر ہے جو باعثِ ہلاکت ہو۔حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اس دعا میں امت کے لیے ہر قسم کی رہنمائی ہے، ضرورت سے زیادہ مال کی طلب اوراس طلب میں خود کو تھکانا اچھا نہیں کیونکہ مال کی زیادتی میں کو ئی خیر نہیں۔“فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:”کفایت کر جانے والا قلیل مال اس کثیر مال سے بہتر ہے جو نافرمان بنادے۔“ایک اور حدیثِ پاک میں ہے :”وہ قلیل مال جس کا تُو شکر ادا کرے اُس کثیر مال سے بہتر ہے جس کا شکر ادا نہ کرسکے۔“ ایک اورمقام پر فرمایا:”اہلِ بیت کو چاہیے کہ اپنا کھانا کم کریں تاکہ ان کے گھر روشن رہیں۔“مزید فرمایا : ”جسے یہ پسند ہو کہ وہ دانا وعقلمند بن جائے اُسے چاہیے کہ خوراک کم کردے کیونکہ کم کھانا پیٹ کو حکمت کے نور سے بھر دیتا ہے۔“کم دنیا پر قناعت بہتر:شرح ابنِ بطال میں ہے:”حدیثِ مذکور میں بقدرِضرورت رزق پر قناعت کرنے ، ضرورت سے زائد دنیا سے کنارہ کشی ،اُخروی نعمتوں میں رغبت رکھنےاور فانی دنیا پر باقی رہنے والی آخرت کو ترجیح دینے کی فضلیت کا بیان ہے تاکہ مسلمان اپنے پیارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیروی کریں اور اس چیز میں رغبت کریں جس میں اُن کے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رغبت کی۔ حضرت سیدنا ابنِ مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے :”دو چیزیں کتنی اچھی ہیں جو ناپسند کی جاتی ہیں،(۱) موت اور(۲) فقر۔ بے شک! بندہ یا تو مالدار ہوتا ہے یا فقیر،اور مجھے پرواہ نہیں کہ میں ان میں سے کس حالت میں مبتلا کیا جاؤں کیونکہ ان میں سے ہر ایک پراللہ عَزَّوَجَلَّکا حق واجب ہے،مالدار پراللہ عَزَّوَجَلَّکا شکرلازم اورفقیر پر صبر لازم۔“امام طبریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’صابر کی آزمائش شاکر کی آزمائش سے زیادہ سخت ہوتی ہے ،اگر چہ دونوں ہی مرتبۂ شرف پر فائز ہیں مگر اس میں میں اسی طرح کہوں گاجس طرح مُطَرِّف بن عبداللہنے کہا ہے: میں عافیت میں رہوں اوراللہکا شکرادا کرتا رہوں یہ مجھے زیادہ محبوب ہے اس سے کہ مصیبت میں مبتلا ہوں پھر اس پر صبر کروں۔‘‘مدنی گلدستہ’’حُسین ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے نیک بندوں کو آزمائش میں مبتلا کر کے اُن کے درجات مزید بلند فرماتاہے ۔
(2) اتنا مال جو ضروریاتِ زندگی کو کافی ہوجائے اُس کثیر مال سے بہتر ہے جو ہلاکت میں ڈال دے۔
(3) ضرورت سے زائدمال کی طلب میں خود کو تھکانااچھا نہیں کیونکہ کثرتِ مال میں بسا اوقات کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔
(4) جو حکمت و دانائی کا طالب ہو اسے چاہیے کہ بھوک سے کم کھایا کرے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بقدرِ کفایت مال پرقناعت کرنے اور بھوک سے کم کھانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 501