Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 494

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ لَمْ يَاْكُلِ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰی خِوَانٍ حَتّٰى مَاتَ، وَمَا اَكَلَ خُبْزًا مُرَقَّقًا حَتّٰى مَاتَ.وَفِی رِوَایَۃٍ لَہُ: وَلَا رَاٰی شَاۃً سَمِیْطًا بِعَیْنِہِ قَطُّ.

عن انس رضی اللہ عنہ قال لم ياكل النبى صلى الله عليه وسلم علی خوان حتى مات، وما اكل خبزا مرققا حتى مات.وفی روایۃ لہ: ولا رای شاۃ سمیطا بعینہ قط.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :”نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی دسترخوان پر کھانا نہیں کھایا اورنہ ہی کبھی باریک نرم روٹی ( چپاتی)کھائی حتی کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموصال فرماگئے۔‘‘بخاری کی ایک روایت میں ہےکہ”آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی بھنی ہوئی بکری ملاحظہ نہ فرمائی ۔“

شرح حدیث

کیا بھنی ہوئی بکری اور چپاتی کھانا منع ہے؟شرح ابن بطال میں ہے :” نرم باریک روٹی(چپاتی وغیرہ ) کھانا جائز و مباح ہے منع نہیں۔ رہی یہ بات کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے باریک روٹی کیوں تناول نہ فرمائی؟تو اس کی وجہ یہ ہےکہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدُنیوی آسائشوں کےبجائے اُخروی نعمتوں کو ترجیح دیا کرتے تھے اس لئے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے زُہد اختیارفرمایا اور باریک روٹی تناول نہ فرمائی ۔ اسی طرح دسترخوان پرکھانا بھی جائز ہے۔اورحضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکایہ فرمان کہ”حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نہ تو کبھی دستر خوان پر کھانا کھایا اور نہ ہی بھنی ہوئی بکری تناول فرمائی ۔“یہ ان کی اپنی معلومات کے مطابق خبر تھی ورنہ دوسری روایت میں ہے کہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دستر خوان پر کھانا بھی کھایا اور بھنا ہوا گوشت بھی تناول فرمایا۔ نیز حضرت سَیِّدُنا عیسیٰعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامکی دعا پرآسمان سے دستر خوان اُتارا گیا اورچپاتی اور بھنی ہوئی بکری کا جواز اس فرمانِ باری تعالیٰ سےبھی ثابت ہوتا ہے :قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَ جَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِؕ(پ۸، الاعراف:۳۲)
ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ کس نے حرام کی
اللہکی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی اور پاک رزق۔
پس تمام پاک چیزیں کھانا حلال ہے، البتہ دنیا سے بے رغبتی، تواضع اور آخرت کی پاکیزہ نعمتوں کے حصول کے لیے ان چیزوں کو ترک کرنا بھی جائز ہے جیسا کہ نبی کریم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِنہیں ترک فرمایا۔“باریک نرم روٹی(چپاتی ):مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: بہت باریک روٹی اب بھی عرب شریف میں نہیں ہوتی،روٹی قدرے موٹی ہوتی ہے،وہ صحت کے لیے بھی مفید ہے۔بعض شارِحین نے فرمایا کہ حضورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے لیے چپاتی(باریک،نرم روٹی ) نہیں پکائی گئی لیکن اگر کوئی شخص چپاتی پیش کرتا تو حضورِ انور(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) قبول فرماتے اور کھاتے تھے۔(اوراُس دور میں)دسترخوان کپڑے کا،چمڑے کا اورکھجور کے پتوں کا ہوتا تھا،ان تینوں قسم کے دسترخوانوں پر کھانا حضور (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے کھایا ہے،دسترخوان بھی نیچے زمین پر بچھتا تھا اور خود سرکار(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) بھی زمین پر تشریف فرما ہوتے تھے۔”خِوان“سے کیا مراد ہے؟حدیث مذکور میں ”خِوَانٍ“ کا لفظ آیا ہے، بعض شارحین نے اس کا معنی ”دستر خوان “بیان کیا جبکہ بعض نےکہا کہ”خِوان“وہ دستر خوان ہے جو اُونچا کر کے بچھایا جائےجیسے آج کل ہمارے ہاں میز (ڈائننگ ٹیبل) وغیرہ پر کھانا کھایا جاتا ہے۔اس طرح میز یا ٹیبل پرحضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی کھانا تناول نہیں فرمایا کیونکہ یہ امیروں اور متکبروں کا طریقہ تھا ۔ لیکن واضح رہے کہ اس طرح میز پر کھانا ناجائز نہیں بلکہ جائز ہے۔بہارِ شریعت میں ہے:”خوان ، تِپائی (یا میز)کی طرح اونچی چیز ہوتی ہے جس پر اُمَراء کے یہاں کھانا چُنا جاتا ہے تا کہ کھاتے وقت جھکنا نہ پڑے اُس پر کھانا کھانا متکبرین کا طریقہ تھا جس طرح بعض لوگ اِس زمانہ میں میز(ٹیبل)پر کھاتے ہیں۔“سَمِیط اور بھونی ہوئی بکری میں فرق:حدیث مذکور میں”سَمیط“ کا لفظ ہے کہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سمیط نہ کھائی ،سمیط خاص طریقے سے بھنی ہوئی بکری کو کہاجاتاہے اور یہ اُمراء و سلاطین کا طریقہ ہے اورحضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے لئے ایسا کھانا پسند نہ فرمایا کرتے تھے ۔ ہاں! عام طریقے سے بھنی ہوئی بکری کھانا آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ثابت ہے۔ چنانچہ مرآۃ المناجیح میں ہے:سَمیطوہ بکری کہلاتی ہے جو کھال میں بُھونی جائے کہ اولًا کھال کے بال اتارے جائیں پھر اسے گرم پانی سے دھوکر اس کے اندر گوشت بھردیا جائے اور اسی میں بھون لیا جائے،اُمراء وسلاطین ایسا گوشت کھاتے ہیں۔سمیط کے یہ معنی خیال میں رہیں، شاۃ مشوی (بھنی بکری) کچھ اور چیز ہے سمیط(کھال میں بھنی بکری) کچھ اور۔حضورِ انور (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے ویسے بھنا گوشت ملاحظہ فرمایا ہے۔“مدنی گلدستہ’’سادگی ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) حضور
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دنیا سے بے رغبتی کی وجہ سے آسائشیں ترک فرمادی تھیں۔
(2) چپاتی اور بھنا ہوا گوشت کھانا اوردستر خوان پر کھانا جائز ہے۔
(3) دورِنبوت میں کپڑے، چمڑے اور کھجور کے پتوں سے بنائے ہوئے دستر خوانوں پر کھانا کھایا جاتاتھا ۔
(4) آخرت کے حصول کے لیے دُنیوی نعمتوں کو ترک کرنا سَلَف صالحین کا مبارک طریقہ ہے۔
(5) میز یا تپائی وغیرہ پر کھانارکھ کر کھانا جائز ہے،مگر بہتر یہ ہے کہ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھایا جائے۔ میز وغیرہ پر کھاناکھاتے وقت جوتے اتارلینے چاہئیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سنت کے مطابق کھانا کھانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 494