Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 506

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِى هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ سَبْعِينَ مِنْ أَھْلِ الصُّفَّةِ ، مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ رِدَاءٌ ، اِمَّا اِزَارٌ وَاِمَّا كِسَاءٌ ، قَدْ رَبَطُوا فِى اَعْنَاقِهِمْ ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ نِصْفَ السَّاقَيْنِ ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ الْكَعْبَيْنِ، فَيَجْمَعُهُ بِيَدِهِ ، كَرَاهِيَةَ اَنْ تُرَى عَوْرَتُهُ.

عن ابى هريرة رضی اللہ عنہ قال لقد رأيت سبعين من أھل الصفة ، ما منهم رجل عليه رداء ، اما ازار واما كساء ، قد ربطوا فى اعناقهم ، منها ما يبلغ نصف الساقين ، ومنها ما يبلغ الكعبين، فيجمعه بيده ، كراهية ان ترى عورته.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”میں نے ستّر اصحابِ صُفّہ کو دیکھا جن میں سے کسی ایک کے پاس بھی چادر نہ تھی،صرف تہبند یا کمبل ہوتا تھا،جسےاپنی گردن میں باندھے رکھتے۔ بعض کا تہبند آدھی پنڈلی تک پہنچتا تھا تو بعض کا ٹخنوں تک اور وہ اُسے اپنے ہاتھوں سے سمیٹے رکھتےاس ڈر سے کہ کہیں سَتْر ظاہر نہ ہوجائے ۔ “

شرح حدیث

اَصحابِ صُفہ کاطرزِزندگی:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”صفہ کہتے ہیں چبوترے کو(تھڑہ)،مسجد نبوی شریف سے مُتَّصِل طلباء کے لیے ایک چبوترہ مقرر کیا گیا تھا جہاں یہ علم سیکھنے والے حضرات رہتے تھے انہیں”اَصحابِ صُفّہ“کہتے تھے،اِن کی تعداد کل چار سو ہے۔اِن کے مُنتظِم حضرت ابوہریرہ تھے یہ خود بھی اِنہی میں سے تھے ۔اِن حضرات نے اپنے کو دِین کے لیے وقف کردیا تھا۔مدینہ پاک میں رہتے تو علم سیکھتے تھے ورنہ جہاد میں جاتے تھے، اہلِ مدینہ اِن کو اپنے صدقات و خیرات دیتے تھے۔آج کل بھی دِینی مدارس میں یہی ہوتا ہے، آج کل کے دینی مدارس کے لیے یہ حدیث اصل ہے۔“
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیثِ مذکور میں اَصحابِ صفہ کا فقرو زُہد بیان کیا گیا ہے کہ اُن میں سے کسی کے پاس قمیص تو تھی ہی نہیں صرف تہبند تھا وہ بھی اتنا چھوٹا کہ یہ حضرات اُس ایک کپڑے میں پورا جسم ڈھانپنے کی کوشش کرتے تھے نیز جب یہ لوگ سجدے اور رکوع میں جاتے یا اُٹھتے بیٹھتے تو اپنے کپڑے کو ہاتھوں سے پکڑ لیتے تھے کیونکہ اُن کپڑوں کی چوڑائی بہت کم تھی اگر ہاتھ سے نہ پکڑتے تو کھل جاتا۔ اس سے معلوم ہواہے کہ اہلِ صُفہ کیسی سادہ زندگی بسر کیا کرتے تھے۔ خوبصورت لباس، اچھی سواری، عمدہ کھانے اورپُرسکون رہائش میسر آنا تو دور کی بات ہے ان کے پاس تو ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے کے لیے بھی اَسباب موجود نہ تھے۔ فقر و فاقے کی اس شدت کے باوجود وہ کبھی اپنی زبان پر حرفِ شکایت نہ لاتے بلکہ ہمیشہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّکا شکر اَدا کرتے اور دینِ اسلام کی نشرو اشاعت اور علِم دِین کے حصول میں مشغول رہتے۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اہل صفہ کا ایک تہبند یا کمبل پر اکتفا کرنا دنیا کی زینتوں سے بےرغبت ہونے اور عبادت میں مشغول ہونے اور آخرت کے گھر کو آباد کرنے کی وجہ سے تھا۔حَافِظ اَبُو نُعَیْم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ”اَصحابِ صُفہ کے اَحوال سے ظاہر ہوتا ہے اور اُن کے بارے میں مشہور ہے کہ ان پر فقر کا غلبہ تھا اور انہوں نے قِلّتِ مال کو ترجیح دی اور اسی کو پسند کیا اسی وجہ سے نہ انہیں کبھی دو کپڑے میسر آئے اور نہ ہی ان کے لیے کبھی دو قسم کا کھانا آیا۔“اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔آمینمدنی گلدستہ’’کریم ‘‘کے4حروف کی نسبت سے َحدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) اصحابِ صفہ کے فَقر کا یہ عالَم تھا کہ اُن کے پاس بدن چھپانے کے لیے ایک مکمل چادر بھی نہ ہوتی تھی، انہوں نے اپنے لئے فقر کو پسند کیا اور اسی پر راضی رہے ۔
(2) اَصحابِ صفہ نے دِین کی خاطر بہت قربانیاں دِیں،تکالیف برداشت کیں، دِین کی نشر واِشاعت میں اُن کا بہت اہم کردارہے۔
(3) اَصحاب صفہ کی تعداد چار سو (400)تھی،اُن کی زندگی خِدمتِ دِین،حُصُولِ عِلم، جہاد اورصحبتِ نبوی میں گزری، کبھی بھی کسی سے سوال نہ کرتے اَہل ثروت یعنی مالدار صحابہ ٔکرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانان کی مالی معاونت کیاکرتے تھے۔
(4) جسے آخرت کی تیاری کی فکر ہو اس کے لئے دُنیاوی مَصَائِب وآلام پر صبرکرنا آسان ہو جاتاہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ مَصَائِب بہت جلد ختم ہوجائیں گے پھر جنت کی دائمی نعمتوں میں رہنا نصیب ہوگا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بھی صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سیرتِ طیبہ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 506