Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 493

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبي سَعِيدٍ ا لْمَقْبُرِىِّ عَنْ اَبِى هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ اَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ بَيْنَ اَيْدِيهِمْ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ فَدَعَوْهُ فَاَبىٰ اَنْ يَّاْكُلَ وَقَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الدُّنْيَا وَلَمْ يَشْبَعْ مِنْ خُبْزِ الشَّعِير.

عن ابي سعيد ا لمقبرى عن ابى هريرة رضی اللہ عنہ انه مر بقوم بين ايديهم شاة مصلية فدعوه فابى ان ياكل وقال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم من الدنيا ولم يشبع من خبز الشعير.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو سعیدمَقْبُری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسےمروی ہے کہ ایک دن حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُایک قوم کے پاس سے گزرے، اُن کے درمیان ایک بھنی ہوئی بکری رکھی تھی انہوں نے آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکو دعوت دی تو آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے کھانے سے انکار کرتے ہوئے فرمایا: ’’رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس دنیا سے پردہ فرماگئے اور آپ نے کبھی جَو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہ کھائی۔“

شرح حدیث

دعوت قبول نہ کرنے کی وجہ:حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے بھنی ہوئی بکری کھانے سے اس لئے انکار کر دیا کہ انہیں حضور نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور دیگرصحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے ساتھ گزارا ہوا وقت یاد آ گیا تھا کہ وہ حضرات کس طرح فاقے کیا کرتے اور دنیا سے کنارہ کش رہتے اس لئے آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے وہ دعوت قبول نہ کی ۔ دوسرا یہ ہےکہ صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرتے اور آپ کی ہر ادااپنانے کی کوشش کرتے تھے چونکہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسادہ غذا تناول فرماتے تھے اس لئے حضرت ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے لذیذ غذا کھانے سے انکار کردیا ۔دلیل الفالحین میں ہے: ’’مُحِبّمحبوب کی اتباع کرتا ہے اورمحبوب کے نقشِ قدم پر چلتا ہے چونکہ نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسادہ غذا استعمال فرمایاکرتے تھے اس لئے حضرت سیدناابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے بھی لذیذ کھانے سے انکار کردیا “صحابہ کرام کا عشقِ رسول:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِیاحمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتےہیں:”(حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے بھنی ہوئی بکری کھانے سے انکار اس لئے کیا کہ )اس وقت کچھ حضور کے ان حالات کا دھیان آ گیا تو دل بے قرار ہو گیا،بھونی بکری کھانے کی طرف مائل نہ ہوا اس لیے نہ کھانا کھایا۔ (ورنہ) دوسرے اوقات میں حضرت ابوہریرہ نے اچھے کھانے بھی کھائے ہیں،اچھے کپڑے بھی پہنے ہیں،دل کے حالات مختلف ہوتے ہیں جیساکہ ہرشخص کو تجربہ ہے۔(حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکو)اس وقت خیال یہ آ گیا کہ میرے محبوبصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمتو زندگی شریف میں جَو کی روٹی سے مسلسل سیر نہ ہوئے اور میں بھونی بکری کھاؤں، دل نہیں چاہتا۔“مدنی گلدستہ’’طواف‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) صحابہ ٔکرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہر ہر سنت پرعمل کیا کرتے تھے۔
(2) ہمیں بھی چاہیےکہ کبھی کبھی لذیذ کھانا اس نیت سے ترک کر دیں کہ پیارے آقا، مدینے والےمصطفےٰ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماکثر سادہ غذا استعمال فرمایا کرتےتھے۔
(3) نبی کریم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہری کےبعد صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی نظروں میں، اس ماہِ رسالت کی جلوہ گری رہتی اوران کے دل ہر وقت محبوب کی یاد سے معموررہتے۔
(4) دل کی کیفیات مختلف ہوتی رہتی ہیں کبھی اس پر تقویٰ و پرہیز گاری اور سادگی کا غلبہ ہوتاہے توکبھی دُنیاوی لذات کا۔لہٰذا بندے کو چاہیے کہ وہ اپنی خواہشات پرقابو پائے اور شریعت و سنت کے مطابق زندگی گزارے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں سادہ غذا استعمال کرنے اور شریعت وسنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 493