Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 515

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ فُضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُ: اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اِذَا صَلَّى بِالنَّاسِ، يَخِرُّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِهِمْ فِی الصَّلاةِ مِنَ الْخَصَاصَةِ وَهُمْ اَصْحَابُ الصُّفَّةِ حَتَّى يَقُوْلَ الاَعْرَابُ: هٰؤُلٓاءِ مَجَانِيْنُ. فَاِذَا صَلَّی رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ اِلَيْهِمْ، فَقَالَ:”لَوْ تَعْلَمُونَ مَا لَكُمْ عِنْدَ اللهِ تَعَالٰی، لَاَحْبَبْتُمْ اَنْ تَزْدَادُوْا فَاقَةً وَحَاجَةً.“

عن فضالة بن عبيد رضی اللہ عنہ: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا صلى بالناس، يخر رجال من قامتهم فی الصلاة من الخصاصة وهم اصحاب الصفة حتى يقول الاعراب: هؤلاء مجانين. فاذا صلی رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف اليهم، فقال:”لو تعلمون ما لكم عند الله تعالی، لاحببتم ان تزدادوا فاقة وحاجة.“

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا فضالہ بن عُبَیدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملوگوں کو نماز پڑھارہے ہوتے اور کچھ لوگ حالتِ قیام ہی میں بھوک کی شدت سے گر جاتے، یہ اَصحابِ صفہ تھے، یہاں تک کہ بعض اَعرابی کہتے کہ انہیں جنون لاحق ہوگیا ہے۔ جب رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز سے فارغ ہوتے تو اُن کی طرف متوجہ ہوکر ارشاد فرماتے:”اگر تمہیں پتا چل جائے کہاللہتعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کیا اجر ہے تو تم خواہش کرو کہ تمہارا فاقہ اور محتاجی مزید بڑھ جائے۔“

شرح حدیث

بلندمرتبے کی بشارت:حدیثِ مذکورسے معلوم ہواکہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرح صحابہ ٔ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی کئی کئی دن تک بھوک کی تکالیف برداشت کرتے تھے جبھی تو ایسی حالت ہوجاتی تھی کہ کھڑے کھڑے گِر جاتے، ضعف اور کمزوری کی وجہ سے اُن میں کھڑے ہونے کی طاقت نہیں ہوتی تھی۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اصحابِ صفہ بھوک کی وجہ سے دورانِ نماز غش کھا کر گرجاتے۔ نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز سے فارغ ہوکرانہیں تسلی دیتے ہوئےفرماتے:”اگر تمہیں پتا چل جائے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں تمہارے لیے کیا اجر وثواب ہے تو تم خواہش کروکہ تمہارا فاقہ ومحتاجی مزید بڑھ جائے۔“یعنیاللہ عَزَّوَجَلَّنے تمہارے لیےجو کچھ تیار کر رکھا ہے اُس کے بارے میں نہ تو کسی کان نے سنا نہ کسی آنکھ نے دیکھا۔حضورنبی رحمت،شفیع اُمَّتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِس فرمانِ عالی میں اصحابِ صفہ کے لئےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں بلندمرتبےکی بشارت ہے اور یہ انعام اُن کے ایمان کی سچائی،حُسْنِ مجاہدہ اور بلندہمتی کی وجہ سے ہے۔آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے یہ اس لئے فرمایا تاکہ وہ حضرات اس فاقہ و تنگدستی پر صبر کریں اور اِس پر ملنے والے اجر وثواب میں اضافہ ہو کیونکہ ہر عمل کی جزا اُس کے حساب سے دی جائے گی کم عمل پر کم جزا اور زیادہ پر زیادہ۔“مدنی گلدستہ’’اَصحابِ صفہ ‘‘کے8حروف کی نسبت سے مذکورہ اَحادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) حضورنبی کریم ، رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےدنیا اور اس کی نعمتوں سے بقدرِ ضرورت بھی نہ لیا ،کئی کئی راتیں بھوک پیاس کی حالت میں گزار کر اپنی اُمَّت کو درس دیا کہ یہ دنیا فانی ہے اس سے جس قدر دور رہیں گے جنت اور اس کی نعمتوں سے اسی قدر قریب ہوجائیں گے ۔
(2) حتی الامکان دوسروں کے سامنے اپنی پریشانیوں کا تذکرہ کرنے اور سوال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
(3) گھر کی خواتین کو چاہئےکہ اگرگھر میں کبھی فاقہ ہوجائے تو صبر کریں اور شکوہ شکایت کرکے اپنے مَردوں کے لئے پریشانی کا باعث نہ بنیں۔
(4) کم کھانے کی عادت بنانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کم کھانے کے فوائد اور زیادہ کھانے کے نقصانات کو پیش نظر رکھا جائے۔
(5) زیادہ کھانے کے نقصانات میں سے ایک بڑی خرابی مال کا ضیاع ہے،شکم سیری کے باوجود کھانا توسراسر نقصان کا باعث ہے ،زیادہ کھانے والے کولوگ ناپسندکرتے ہیں ۔
(6) نماز، روزہ اور اعمالِ شاقہ کو اَحسن طریقے پر ادا کرنے کے لیے زیادہ کھانا کھانے میں حرج نہیں مگر اتنا زیادہ نہ ہوکہ طبیعت بوجھل ہوجائےورنہ مذکورہ فوائد حاصل ہونے کے بجائے الٹا نقصان ہوگا۔
(7) رضائے الٰہی کے لئے بھوک برداشت کرنے والوں کے لئے
اللہ عَزَّوَجَلَّکے ہاں اتنا اجر ہے کہ اگر انہیں پتا چل جائے تو وہ اپنے فاقوں میں مزید اضافہ کر دیں ۔
(8) فاقہ و تنگدستی پر بے صبری اور شکوہ و شکایت نہیں کرنا چاہیے بلکہ صبر کر کے اس پر ملنے والے اجرِ عظیم کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی نفس کی مخالفت کرتے ہوئے بھوک کی صعوبتیں برداشت کرنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے اور اس پر ملنے والے اجر سے مستفیض فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 515