حدیث مبارکہ
عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَدَوِيِّ قَالَ: خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ وَ كَانَ اَمِيرًا عَلَى الْبَصْرَةِ فَحَمِدَ اللهَ وَاَثْنٰی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: اَمَّا بَعْدُ!فَاِنَّ الدُّنْيَا قَدْ اٰذَنَتْ بِصَرْمٍ وَوَلَّتْ حَذَّاءَ وَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا اِلَّا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الْاِنَاءِ يَتَصَابُّهَا صَاحِبُهَا وَ اِنَّكُمْ مُنْتَقِلُونَ مِنْهَا اِلٰى دَارٍ لَا زَوَالَ لَهَا فَانْتَقِلُوا بِخَيْرِ مَابِحَضْرَ تِكُمْ فَاِنَّهُ قَدْ ذُكِرَ لَنَا اَنَّ الْحَجَرَ يُلْقٰی مِنْ شَفِیْرِ جَهَنَّمَ فَيَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ عَامًا لَا يُدْرِكُ لَهَا قَعْرًا وَاللهِ لَتُمْلَاَنَّ اَفَعَجِبْتُمْ؟ وَلَقَدْ ذُكِرَ لَنَا اَنَّ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ اَرْبَعِينَ عَامًا وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهِ يَوْمٌ وَهُوَ كَظِيظٌ مِنَ الزِّحَامِ وَلَقَدْ رَاَ يْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ اِلَّا وَرَقُ الشَّجَرِ حَتّٰى قَرِحَتْ اَشْدَاقُنَا فَالْتَقَطْتُ بُرْدَةً فَشَقَقْتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ فَاتَّزَرْتُ بِنِصْفِهَا وَاتَّزَرَ سَعْدٌ بِنِصْفِهَا فَمَا اَصْبَحَ الْيَوْمَ مِنَّا اَحَدٌ اِلَّا اَصْبَحَ اَمِيرًا عَلَى مِصْرٍ مِنَ الْاَمْصَارِ وَإِنِّي اَعُوذُ بِاللهِ اَنْ اَكُونَ فِي نَفْسِي عَظِيمًا وَعِنْدَ اللهِ صَغِيرًا.
عن خالد بن عمير العدوي قال: خطبنا عتبة بن غزوان و كان اميرا على البصرة فحمد الله واثنی عليه ثم قال: اما بعد!فان الدنيا قد اذنت بصرم وولت حذاء ولم يبق منها الا صبابة كصبابة الاناء يتصابها صاحبها و انكم منتقلون منها الى دار لا زوال لها فانتقلوا بخير مابحضر تكم فانه قد ذكر لنا ان الحجر يلقی من شفیر جهنم فيهوي فيها سبعين عاما لا يدرك لها قعرا والله لتملان افعجبتم؟ ولقد ذكر لنا ان ما بين مصراعين من مصاريع الجنة مسيرة اربعين عاما وليأتين عليه يوم وهو كظيظ من الزحام ولقد را يتني سابع سبعة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لنا طعام الا ورق الشجر حتى قرحت اشداقنا فالتقطت بردة فشققتها بيني وبين سعد بن مالك فاتزرت بنصفها واتزر سعد بنصفها فما اصبح اليوم منا احد الا اصبح اميرا على مصر من الامصار وإني اعوذ بالله ان اكون في نفسي عظيما وعند الله صغيرا.
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا خالِد بن عمیر عدویرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : امیرِ بصرہ حضرت سیدنا عتبہ بن غزوانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے ہمیں خطبہ دیا اوراللہتعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی، پھر فرمایا:”اَمَّا بَعْد!بے شک! دنیا اپنے فنا ہونے کا اِعلان کر چکی، وہ پیٹھ پھیر کربہت تیزی سے جارہی ہے اور اب صرف اتنی باقی رہ گئی ہے جتنا برتن میں بچا ہوا پانی (جسے پینے والا چھوڑدیتاہے۔) تم اس فانی دنیا سےباقی رہنے والے گھر کی طرف جارہے ہو، لہٰذااپنی بہترین چیز ساتھ لے کر جاؤ،بیشک ہمیں بتایا گیا ہے کہ ”اگرجہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے اور وہ ستر سال تک گرتا رہے تب بھی جہنم کی تہہ تک نہ پہنچ سکےگا۔“ خدا کی قسم! اس جہنم کو ضرور بھر ا جائے گا، کیا تم اس پر تعجب کرتے ہو اور ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ جنت کی چوکھٹوں میں سے دو چوکھٹوں کا درمیانی فاصلہ چالیس سال کی مسافت ہے اور ایک دن ایسا آئے گا وہ دروازہ لوگوں کے رش کی وجہ سے بھر جائے گا۔بے شک !میں نے وہ وقت بھی دیکھا جب ہم سات اشخاص رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ تھے اور ہمارے پاس درخت کے پتوں کے سوا کھانے کو کچھ نہ تھا، پتے کھانے کی وجہ سے ہمارے جبڑے زخمی ہوگئے۔ مجھے ایک چادر ملی تو اس کے دو حصے کر کےآدھی میں نے بطور ِتہبند استعمال کی اور آدھی سعد بن مالکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے۔( ہم نے ایسی تنگی بھی دیکھی)اور آج ہماری یہ حالت ہے کہ ہم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی شہر کا حاکم ہے۔ میںاللہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ چاہتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو بڑاسمجھوں اوراللہ عَزَّوَجَلَّکے ہاں حقیر ہوں۔“
شرح حدیث
فکرآخرت کا بیان:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکور میں دنیا کی ناپائیداری اور بے ثباتی کا بیان ہے کہ یہ بہت جلد ختم ہونے والی ہے ،اس کے باوجود صرف دنیا ہی کی تیاری میں مصروف رہنا اور آخرت کو بھول جانا غفلت اور دنیا سے محبت کی علامت ہے ۔عقلمندی کا تقاضایہی ہے کہ اس فانی دنیا کے پیچھے بھاگنےکے بجائےہمیشہ رہنے والی جنت کے حصول کی کوشش کی جائے ۔حدیثِ مذکور میں جہنم کی ہولناکی اور جنت کی وسعت کا بیا ن بھی ہے تاکہ اسے سن کر لوگ گناہوں سے تائب ہوں اوراعمالِ صالحہ کی طرف راغب ہو کر جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے بچیں اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت پر بھروسہ کرتے ہوئے جنت اور اس کی دائمی نعمتوں کی طرف سبقت کریں۔جہنم کی گہرائی:”جہنم کے کنارے سے پتھرپھینکا جائے تو وہ سترسال میں بھی جہنم کی تہہ تک نہ پہنچے گا۔“مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اللہ اکبر! یہ ہے دوزخ کی گہرائی،پتھر اگر آسمان سے پھینکا جائے تو صبح سے چلا ہوا شام تک زمین پر پہنچ جائے مگر دوزخ کے کنارے سے چلا ہوا ستر سال میں اس کی تہہ تک نہ پہنچے،سوچ لو گہرائی کتنی ہے اتنی گہری دوزخ کو کفار انسانوں سے بھرنا ہے۔“جنت کی وُسعت :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جب جنتی دروازوں کی دو چوکھٹوں کا درمیانی فاصلہ چالیس برس کی راہ ہے تو خود جنت کتنی بڑی ہوگی،اللہ عَزَّوَجَلَّفرماتاہے:( α وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُۙ( ∞(پ۴،آل عمران:۱۳۳)( ترجمۂ کنزالایمان:جس کی چوڑان میں سب آسمان و زمین آجائیں) اور یہ ایک عام فہم بات ہے کہ کسی بھی چیز کی لمبائی اس کی چوڑائی سے زیادہ ہی ہوتی ہے تو جب جنت کی چوڑائی اتنی زیادہ ہے تو پھر لمبائی کتنی زیادہ ہوگی۔ پاک ہے وہ ذات جو انعام و فضل کرنے والی ہے۔ جنت میں داخلے کے وقت اتنے وسیع و عریض دروازے بھی رش کی وجہ سے بھرجائیں گے۔اس سے معلوم ہواکہاللہ عَزَّوَجَلَّکے فضل وکرم اوراس کی رحمت سے بہت سے لوگ جنت میں داخل ہونگے۔ “بھوک کی وجہ سے درختوں کے پتے کھانا :حدیثِ مذکورمیں بیان ہوا کہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے بھوک کی وجہ سے پتے کھا کر بھی گزارہ کیا دِین کی خاطر طرح طرح کی تکالیف برداشت کیں اگر وہ چاہتے تودنیا جہاں کی دولت ان کے قدموں میں ڈھیر ہو جاتی مگر انہوں نے قصداًفقر اختیار کیا اور ہر حال میں دینِ اسلام کی تبلیغ و ترویج کے لئے کوشاں رہے،پھر ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ہمارے اَسلاف کرام نے بھی اختیاری بھوک برداشت کی۔ چنانچہ،سبزکھال والے بزرگ:حضرتِ سیِّدُنا ابو طالب مکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیکے تقویٰ کا عالَم یہ تھا کہ ایک مدّت تک کھانا ہی چھوڑ دیا تھا فَقَط قدرتی طور پر اُگ جانے والی گھاس کھا کر گزارہ فرماتے رہے اِس لئے آپ کی کھال سبز ہو گئی تھی۔ بوقتِ وفات کسی نے ان کی خدمتِ سراپا عظمت میں عرض کی:” حضور! مجھے کچھ وصیّت فرمایئے“ فرمایا:” اگر میرا خاتِمہ بالخیر ہو جائے تو میرے جنازہ پر بادام و شکر لُٹانا۔“ عرض کیا: مجھے کیسے پتا چلے گا؟ فرمایا: ”میرے پاس بیٹھے رہو اور اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیدو ۔ اگر میں نے تمہارا ہاتھ بقوَّت دبا لیا تو سمجھ لینا میرا خاتِمہ ایمان پر ہوا ہے۔“ چُنانچِہ ہاتھ میں ہاتھ دیدیا ۔ جب وقتِ رخصت قریب آیا تو آپرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے اُس کاہاتھ زور سے دبا لیا اور روح قَفَسِ عُنْصُری سے پرواز کر گئی۔ جب جنازہ مبارَکہ اٹھایا گیا تو اُس پر شکروبادام لُٹائے گئے۔“اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمینمدنی گلدستہ’’رَحْمَتِ حق‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناپنے پیارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ گزرے ہوئے مبارک لمحات کو ہمیشہ یاد رکھتے تھے اور وقتاً فوقتاً اپنے متعلقین کوبھی بتایا کرتے تھے ۔
(2) جہنم اتنی گہری ہےکہ زمین وآسمان کا درمیانی فاصلہ اس کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ جہنمیوں کو اتنی گہرائی میں رکھا جانابھی ایک بہت بڑا عذاب ہے ۔
(3) جنت میں جاتے وقت جنتیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگی کہ جنت کے دروازے اپنی تمام تر وُسعت کے باوجود جنتیوں سے بھر جائیں گے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے ۔آمین
(4) ہرتنگی کے بعد آسانی ہے ، اچھا بندہ وہی ہے جو ہر حال میں اپنے ربِّ کریم کا شکر گزار رہے ۔
(5) ہمیشہ رہنے والی عظیم جنتی نعمتوں کو چھوڑکر بہت جلد فنا ہوجانے والی حقیر دنیا سے دِل لگانا انتہائی درجے کی غفلت و بے وقوفی ہے۔
(6) اَعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے جس کی موت ایمان پر ہوئی وہ کامیاب ہوگیا اور مَعَاذَاللہجس کا ایمان چھین لیا گیا وہ دا ئمی بد بخت ہو گیا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 498