Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 499

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِى مُوْسَی الْاَشْعَرِیْ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ اَخْرَجَتْ لَنَا عَائِشَةُ كِسَاءً وَ اِزَارًا غَلِيظًا قَالَتْ قُبِضَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِى هٰذَيْنِ.

عن ابى موسی الاشعری رضی اللہ عنہ قال اخرجت لنا عائشة كساء و ازارا غليظا قالت قبض رسول اللہ صلى الله عليه وسلم فى هذين.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابوموسیٰ اشعریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:ہمیں اُمُّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِانےایک چادر اور موٹا تہبند نکال کر دکھایا اورفرمایا:”رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رُوح اِن دو کپڑوں میں قبض ہوئی۔“

شرح حدیث

حدیث پاک کی باب سے مناسبت:یہ باب بھوکا رہنے،کم کھانے اور سادہ لباس پہننے وغیرہ کی فضلیت کے بارے میں ہے۔ مذکورہ حدیث اس باب کے اگلے حصے یعنی سادہ لباس پہننے کے متعلق ہے کیونکہ اس حدیثِ پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصال جس لباس میں ہوا وہ بہت سادہ تھا۔اسی وجہ سے علامہ نوویرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس حدیث کو اس باب میں بیان فرمایا۔حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی عاجزی واِنکساری:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:”بوقتِ وِصال نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےجو لباس زیبِ تن فرمایا اس میں ایک اِحتمال یہ ہے کہ آپ نے عاجزی و انکساری اختیار کرتے ہوئے اور آسودہ حالی کو ترک کرنے کے لیے وہ لباس پہنا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے اچھا لباس نہ ہونے کی وجہ سے آپ نے یہ لباس زیب تن فرمایا۔“حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انتہائی سادہ زندگی گزاری اور سادہ غذا اور لباس اپنایا لیکن کبھی کبھی عمدہ لباس بھی زیبِ تن فرمایا مگر اس پرہمیشگی اختیار نہ فرمائی۔چنانچہ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”ہم جیسے کمینے غلام ان کے نام پر عیش کررہے ہیں اور وہ خود اس حالت میں دنیا سے پردہ فرماتے ہیںصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم۔خیال رہے کہ حضورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اعلیٰ و عمدہ لباس بھی پہنے ہیں مگر اُن کی عادت نہ ڈالی،ہر قسم کا لباس بے تکلُّف پہن لیتے تھے،آخر وقت یہ لباس جسمِ اَطہر پر تھا۔ “مرقاۃ المفاتیح میں ہے:”حدیث ِ مذکور میں بیان ہواکہ حضورنبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدنیا سے بے رغبت تھے،آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدُنیوی مال واَسباب اور اس کی لذتوں سے اِعراض کیا کرتے تھے،پس اُمتیوں پربھی لازم ہے کہ اپنے پیارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سیرتِ مبارکہ کی پیروی کریں ۔“سادہ لباس کی فضیلت:تاجدارِ مدینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جو باوجودِ قدرت اچھے کپڑے پہننا تواضع (عاجزی) کے طور پر چھوڑدے گااللہ عَزَّوَجَلَّاُسے کرامت کا حُلّہ(یعنی جنتی لباس) پہنائے گا۔“مدنی گلدستہ’’بقیع‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) دوعالَم کے مالک ومختار، شہنشاہِ اَبرار
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےعاجزی و انکساری اپناتے ہوئے بہت سادہ زندگی گزاری اور دُنیوی مال واَسباب اور اُس کی لذّات سے ہمیشہ دوررہے ۔
(2) حضورنبی کریم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عادتِ مبارکہ تھی کہ جو لباس مُیَسَّر ہوتا استعمال فرمالیتے ، حسب ِ موقع اعلیٰ وعُمدہ لباس بھی زیب تن فرماتے مگر اس پر ہمیشگی اختیار نہ فرماتے۔
(3) جوباوجودِ قدرت بطورِعاجزی عُمدہ لباس پہننا ترک کر دے اسے جنتی لباس پہنایا جائے گا۔
(4) فقر و آسودگی،صحت و بیماری ہر حالت میں تقدیرِاِلٰہی پر راضی رہناچاہیے۔
اللہعَزَّ وَجَلّ َسے دعا ہے کہ وہ ہمیں شریعت کے مطابق لباس پہننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 499