Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 507

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہَا قَالَتْ كَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اَدَمٍ حَشْوُهُ لِيْفٌ.

عن عائشة رضی اللہ عنہا قالت كان فراش رسول الله صلى الله عليه وسلم من ادم حشوه ليف.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں:”رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا بچھونا چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔“

شرح حدیث

حدیثِ مذکور سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دنیاوی آسائشوں اور راحتوں کو یکسر ترک فرمادیا تھا آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی زندگی کا ہر پہلو نہایت سادگی کے ساتھ گزارا، آپ کی زندگی کے کسی گوشے میں عیش پسندی یا آرام طلبی نہیں تھی۔ آپ کا بسترِ مبارک چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی جب اس پر آرام فرماہوتے تو پہلو مبارک پر اس کے نشان پڑجاتے۔حضور صَلَّیاللہعَلَیْہِ وَسَلَّم کا سادہ بستر:فتح الباری میں ہے:”نبی مکرم، شہنشاہ بنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھجور کی چٹائی پر آرام فرمایا کرتے جس کی سختی سے جسمِ نازنین پر نشان بن جاتے۔ ایک خاتون نے حضورنبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا سادہ بستر دیکھ کر اُون سے بنا ہوا ایک نرم بستر بھجوایا تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اے عائشہ !اِسے واپس کردو، خدا کی قسم! اگر میں چاہوں تواللہتعالیٰ میرے ساتھ سونے اور چاندی کے پہاڑوں کوچلائے(مگر میں سادگی پسند کرتاہوں)۔“حضرت سیدنا عبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے جب جسمِ اقدس پر چٹائی کے نشانات دیکھے تو عرض کی:حضور! اگر آپ چاہیں تو ہم کھجورکی تکلیف دہ چٹائی کے بجائے آپ کے لئے نرم بستر کا اہتمام کردیں؟سردارِ دو جہاںصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”مجھے دنیا سے کچھ سروکار نہیں، بے شک! میں اِس دنیا میں اُس مسافر کی طرح رہتاہوں جوکسی درخت کے سائے میں کچھ دیر آرام کرے پھر اسے چھوڑ کر چلا جائے۔“
قبضہ میں جس کے ساری خدائی***اس کا بچھونا ایک چٹائی
نظروں میں کتنی ہیچ ہے دنیا***
صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمصحابہ ٔ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناپنے پیارے نبی محمدمصطفےٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سچے عاشق تھے اُنہوں نے اپنی پوری زندگی سنتوں پر عمل پیرا ہوکر بسر کی،ہر موڑپر اپنے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اداؤں کویاد رکھا ، بڑی بڑی سلطنتوں کے فرماں روا بن گئے مگر سادگی وعاجزی کو نہ چھوڑا ، سب کچھ ہونے کے باوجود نہایت سادہ زندگی بسر کی ،اگر کبھی کسی آسائش کی طرف دل مائل بھی ہواتو اپنے پیارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سادگی کو یاد کرکے اس سے کنارہ کش ہوگئے۔چنانچہ ،حضرتِ سیِّدُنافاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکی سادگی:خلیفۃالمسلمین، امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُخلیفہ بننے کے بعد انتہائی سادہ غذا استعمال فرمانے لگے جس کی وجہ سے بظاہر کمزور نظر آنے لگے۔ کچھ لوگوں نے آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکی صاحبزادی اُمّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُنا حفصہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِاسے عرض کی کہ”امیر المومنین کافی کمزور ہو گئے ہیں اور کپڑے بھی ایسے پہنتے ہیں کہ جن پر کئی کئی پیوند لگے ہوتے ہیں ،اُن سے عرض کریں کہ اچھا کھانا کھالیا کریں اور عمدہ و نرم لباس پہن لیا کریں تاکہ لوگوں کے معاملات پر تقویت ملے۔“اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا حفصہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِانے لوگوں کی باتیں آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے سامنے بیان کیں تو حضرت عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ” تم تو بہتر جانتی ہو،بتاؤ ! کیا میرے آقا و مولیٰ، رہبر ورہنما،محمدِ مصطفےٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی کبھی اپنی زندگی میں عمدہ و نرم بستر استعمال فرمایا؟‘‘عرض کی:” نہیں، بلکہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا بستر ایک کمبل پر مشتمل تھا جسے دوہرا کر کےبچھا دیاجاتا، جب وہ سخت ہو جاتا تو میں اسے چار تہہ کرکے بچھادیا کرتی۔ “ فرمایا:”اچھا یہ بتاؤ کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا سب سے قیمتی وعمدہ لباس کونسا تھا ؟“عرض کی :”ایک دھاری دار چادر تھی جسے ہم نے ہی بنایا تھا،حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب اُسے زیب ِتن کرکے باہر تشریف لے گئے تو کسی نے وہ چادر مانگ لی اورآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُسے عنایت فرمادی ۔“امیرالمؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:”تمہارا کیا خیال ہے کہ مجھے عمدہ کھانے کی خواہش نہیں ہوتی، مجھے عمدہ چیزوں کی خواہش ہوتی ہے مگرمیرے دونوں رہنما (حضورنبئ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صدیق اکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ) ایک راستے پر چلے، میں نہیں چاہتا کہ ان کی مخالفت کروں ۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 507