Main Icon

باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 767

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:سَقَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ.

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال:سقيت النبي صلی اللہ علیہ وسلم من زمزم فشرب وهو قائم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہےکہ میں نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں زَم زَم کا پانی پیش کیا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کھڑے ہو کر نوش فرمایا۔

شرح حدیث

اس حدیث سے معلو م ہوا کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمزم زم شریف کا پانی کھڑے ہوکر نوش فرمایا کرتے تھے ۔یہ بھی معلوم ہواکہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپیارے آقا،مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہراداغور سےملاحظہ فرمایا کرتے تاکہ اس پر عمل پیرا ہوں اور دوسروں تک پہنچائیں۔ مرآۃ المناجیح میں ہے: یہ بھی سنت ہے کہ آبِ زم زم کھڑے ہوکرپئے،تعظیم کے لئے۔اس پانی کی دو وجہ سے تعظیم ہے: *ایک یہ کہ یہ پانی حضرت اسماعیلعَلَیْہِ السَّلَامکی ایڑی سے پیدا ہوا۔*دوسرےیہ کہ اس میں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکالُعاب شریف ملا ہوا ہےکہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےایک بار زم زم شریف پی کرباقی پانی کنوئیں میں ڈال دیا۔صَدْرُالشَّرِیْعَہحضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”وضو کا پانی اور آبِ زم زم کھڑے ہو کر پیا جائے، باقی دوسرے پانی کو بیٹھ کر۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 767