Main Icon

باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 769

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:كُنَّا نَاکُلُ عَلٰی عَهْدِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَمْشِيْ وَنَشْرَبُ ونَحْنُ قِيَامٌ .

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال:كنا ناکل علی عهدرسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ونحن نمشي ونشرب ونحن قيام .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:ہم حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانہ ٔمبارکہ میں چلتے ہوئے کھا لیتے اور کھڑے کھڑے پی لیا کرتے تھے ۔

شرح حدیث

صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبعض چیزیں چلتے پھرتے اور کھڑے کھڑے کھا لیا کرتے تھے مگر یہ صرف وہی چیزیں ہوا کرتیں جو عموماً چلتے پھرتے کھا لی جاتی ہیں جیسے کھجور ،دانے،چنے وغیرہ ۔ہاں کھانا وغیرہ بیٹھ کر ہی کھا نا سنت ہے، کوئی مجبوری ہو تو دوسری بات ہے ۔ بطورِ فیشن کھڑے کھڑے کھانا تہذیب و اسلامی طریقے کے خلاف ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سنتوں سے محبت عطا فرمائے اور پابندِسنت بنائے۔اشعۃ اللمعات میں ہے: ”شارحین فرماتے ہیں کہ چلتے ہوئے کھانا اور کھڑے ہوکر پینا اگرچہ جائز ہے اور اصل جواز باقی ہے تاہم مختار اور اَولیٰ یہ ہے کہ چلنے اور سواری کی حالت میں کھانا خلافِ ادب ہے اور اسی طرح کھڑے ہوکر پینا۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 769