Main Icon

باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 768

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اَتَی عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَابَ الرَّحْبَةِ فَشَرِبَ قائِمًاوَقَالَ: انِّي رَاَيْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كما رَاَيْتُمُوْنِیْ فَعَلْتُ.

عن النزال بن سبرةرضي الله عنه قال: اتی علي رضي الله عنه باب الرحبة فشرب قائماوقال: اني رايت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فعل كما رايتمونی فعلت.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا نزّال بن سَبْرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ، شیرِِخداکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمبابِ رَحْبَہ“پرتشریف لائے، پھر کھڑے ہو کر پانی پیا اور فرمایا: ’’میں نے حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ایسے ہی پیتے دیکھا جیسا تم مجھے دیکھ ر ہے ہو ۔‘‘

شرح حدیث

دو برکت والے پانی:بہارِ شریعت میں ہے: لوگ مُطلقاً کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ بتاتے ہیں حالانکہ وضو کے پانی کا یہ حکم نہیں بلکہ اس کو کھڑے ہو کر پینا مستحب ہے۔اسی طرح آبِ زم زم کو بھی کھڑے ہو کر پینا سنت ہے۔ یہ دونوں پانی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں اور اس میں حکمت یہ ہے کہ کھڑے ہوکر جب پانی پیا جاتا ہے وہ فوراً تمام اعضا کی طرف سرایت کرجاتا ہے اور یہ مُضِر ہے، مگر یہ دونوں(پانی)برکت والے ہیں اور ان سے مقصودتَبَرُّکہے، لہٰذا اِن کا تمام اَعضاء میں پہنچ جانا فائدہ مند ہے۔کھڑے ہوکرپینا مُطلقاً ممنوع نہیں:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:کوفہ کی جامع مسجد کے صحن میں ایک خاص چبوترہ تھا جہاں بیٹھ کر حضرت علی المرتضیٰ(کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم) لوگوں کے مقدمات طے فرماتے اسے”رَحْبہ“کہتے تھے۔ وہ جگہ اب بھی موجود ہے اور اس پر ایک محراب بنادی گئی ہے جسے”محرابِ علی“ کہتے ہیں۔حضرت علیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے وضو کا بچاہو ا پانی کھڑے ہوکرپیا اورفرمایا: میں نےنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ایسے پیتے دیکھا جیسے تم نے مجھے دیکھا ہے ۔ یعنی لوگ سمجھتے ہیں کہ پانی کھڑے ہوکر پینا مطلقًا ممنوع ہے حالانکہ میں نےحضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا کہ وضو کا پانی کھڑے ہوکر پیا۔معلوم ہوا کہ وضو کا پانی کھڑے ہوکر پینا سنت ہے یا یہ مطلب ہے کہ(عام پانی ) کھڑے ہوکر پینا مطلقًا ممنوع نہیں بلکہ جائز ہے۔ہاں بہتر یہ ہے کہ بیٹھ کر پئے۔تمام فقہاء کے نزدیک کھڑے ہوکر پانی پینا جائز ہے۔ ہاں بیٹھ کر پینا مستحب ہے۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:یہ واضح ہوچکا ہے کہ اَحادیث میں کھڑے ہوکر پانی پینے کی ممانعت آئی ہے،نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا عمل اس کے خلاف ثابت ہوا ہے۔مواہبِ لَدُنیہ میں حضرت جبیر بن مطعمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو کھڑے ہوکر پانی پیتے ہوئے دیکھا ۔امام مالکرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عمر،حضرت عثمان اور حضرت علیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمْکھڑے ہوکر پانی پیتے تھے ۔بعض محدثین فرماتے ہیں کہ اجازت کی احادیث ممانعت والی احادیث کی ناسخ ہیں لیکن یہ کہنا کہ ممانعت کی احادیث نے اجازت کو منسوخ کردیا ہے صحیح نہیں ہے کیونکہ کوفہ میں امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضٰیکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکا عمل اس کے مُنافی ہے۔صحیح یہ ہے کہ احادیث میں تعارُض نہیں ہے کیونکہ نہی تنزیہی ہے اور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا کھڑے ہوکر پانی پینے کا عمل بیانِ جواز کے لئے ہے ۔جب نہی تنزیہی ہے تو اَولیٰ اور زیادہ محبوب یہ ہے کہ کھڑا ہوکر نہ پئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 768