Main Icon

باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 771

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ نَهٰى اَنْ يَّشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا.وَقَالَ قَتَادَةُ: فَقُلْنَا لِاَنَسٍ:فَالْاَ كْلُ؟ قَالَ:ذٰلِكَ اَشَرُّ اَوْ اَخْبَثُ.وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُ:اَنَّ النَّبيَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زَجَرَ عَن الشُّرْب قائِمًا.

عن انس رضي الله عنه عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم انه نهى ان يشرب الرجل قائما.وقال قتادة: فقلنا لانس:فالا كل؟ قال:ذلك اشر او اخبث.وفي رواية له:ان النبي صلی اللہ علیہ وسلم زجر عن الشرب قائما.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا اَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کھڑے ہوکر پانی پینے سے منع فرمایا۔ حضرت قتادہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: تو کھڑے ہوکر کھانے کاکیا حکم ہے؟ارشاد فرمایا: یہ تو بہت زیادہ بُرا اور خبیث کام ہے۔مسلم شریف کی ایک روایت میں ہےکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کھڑے ہو کر پینے پر ڈانٹ ڈپٹ فرمائی ہے۔

شرح حدیث

ممانعت تنزیہی ہے:مِرقاۃ المفاتیح میں ہے:قاضی عیاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَہَّابفرماتے ہیں:اس ممانعت میں کھڑے ہو کر پینے پرتنبیہ وتادیب اَولیٰ وبہتر کی ترغیب ہے۔ خیال رہے کہ کھڑے ہوکر پینا مکروہ ِ تنزیہی ہے تحریمی نہیں۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: کوئی چیز کھڑے ہوکر پینا ممنوع ہے پانی ہو یا دودھ یا شربت یا اور کوئی چیز، یہ حکم استحبابی ہے یعنی بیٹھ کر پینا مستحب ہے۔اس حکم سے تین پانی مستثنیٰ ہیں: آبِ زمزم،وضو کا بچا ہواپانی اور بزرگوں کا پس خوردہ (جھوٹا)پانی کہ ان تینوں پانیوں کوکھڑے ہوکر پینا مستحب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 771