Main Icon

باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1128

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثابتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلُّوْا ا َيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوْ تِكُمْ فَاِنَّ اَفْضَلَ الصَّلَاةِ صَلَاةُ الْمَرْءِ في بَيْتِهِ اِلَّا الْمَكْتُوْبَةَ.

عن زيد بن ثابت رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال: صلوا ا يها الناس في بيو تكم فان افضل الصلاة صلاة المرء في بيته الا المكتوبة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا زید بن ثابترَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”اے لوگو! (نفل )نماز اپنے گھروں میں پڑھو کیونکہ مردکے لئے گھر میں (نفل )نماز پڑھنا افضل ہے سوائے فرائض کے ۔“

شرح حدیث

نفل نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے:شارح بخاری علامہ غلامِ رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفلی نماز مسجد کی نسبت گھر میں افضل ہے حتّٰی کہ تینوں مساجد(مسجد حرام،مسجد نبوی اور مسجد اقصٰی)بھی اس عموم میں داخل ہیں۔ابو داؤد نے صحیح اسناد کے ساتھ زید بن ثابت سے روایت کی کہ فرض نماز کے سوا آدمی کی نماز میری مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے لہٰذا مسجدِ نبوی میں اگر نفلی نماز پڑھیں تو ہزار نماز کا ثواب ہوتا ہے تو عموم حدیث کے اعتبار سے جب اسے گھر میں پڑھے تو ایک ہزار نماز سے افضل ہوگی۔یہی حکم مسجد حرام اور مسجد اقصٰی کا ہےمگر عموم حدیث سے عیدین،استسقاء اور کسوف کی نمازیں مستثنیٰ ہیں جو باجماعت پڑھی جاتی ہیں،وہ گھر سے باہر اکمل ہیں اور عورتوں کا گھر ہی میں پڑھنا افضل ہے۔“حضر ت سیدناامام ابو جعفر احمد بن محمد طحاویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفل نماز مسجد کی نسبت گھر میں پڑھنا افضل ہے خواہ وہ مسجد نبوی ہو،مسجد اقصٰی ہو یا کعبہ معظمہ ۔“فقیہِ اعظم، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”نفل نماز گھر میں پڑھنا بہ نسبت مسجد کے افضل ہے کہ نوافل میں اِخفاء اورسَتْر زیادہ اچھا ہے تاکہ رِیا ونُمود کو دخل نہ ہو۔ لیکن آج کل مساجد ہی میں نوافل کا عام رواج ہو گیا ہے اگر کوئی مسجد میں نفل نہ پڑھے تو عوام اسے متہم کردیں گے اس لئے عوام کو بدگمانی سے بچانے کے لئے مسجد ہی میں پڑھنا ایک حد تک ضروری ہے۔“مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”یہاں عام نوافل کا ذِکر ہے ورنہ نمازِ اِشراق،نمازِسفر،نمازِ کسوف،نمازِاِستسقاء وغیرہ نوافل مسجد میں افضل ہیں۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدگھر میں نوافل پڑھنےکی حکمتیں:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیگھرمیں نوافل پڑھنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:” گھر میں نماز پڑھنے سے ریا کاری کا گمان نہیں ہوتا ، گھر میں برکت ہوتی ہے،اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت نازل ہوتی ہے اور شیطان دور ہوتا ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1128