Main Icon

باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1131

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍاَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ اَرْسَلَهُ اِلَى السَّائِبِ ابْنِ اُخْتِ نَمِرٍ يَسْاَلُهُ عَنْ شَيْءٍرَاٰهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ:نَعَمْ صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُوْرَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ الْاِمَامُ قُمْتُ في مَقَامِيْ فَصَلَّيْتُ فَلَمَّا دَخَلَ اَرْسَلَ اِلَيَّ فَقَالَ: لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ. اِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلاَ تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَتَكَلَّمَ اَوْ تَخْرُجَ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَمَرَنَا بِذٰلِكَ اَنْ لَّا نُوْ صِلَ صَلَاةً بِصَلَاةٍ حَتّٰى نَـتَكَلَّمَ اَوْ نَخْرُجَ .

عن عمر بن عطاءان نافع بن جبير ارسله الى السائب ابن اخت نمر يساله عن شيءراه منه معاوية في الصلاة فقال:نعم صليت معه الجمعة في المقصورة فلما سلم الامام قمت في مقامي فصليت فلما دخل ارسل الي فقال: لا تعد لما فعلت. اذا صليت الجمعة فلا تصلها بصلاة حتى تتكلم او تخرج فان رسول الله صلى الله عليه وسلم امرنا بذلك ان لا نو صل صلاة بصلاة حتى نـتكلم او نخرج .

حدیث ترجمہ

حضرت عُمربِن عطاءرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”حضرت سَیِّدُنا نافِع بِن جبیررَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہنے انہیں نَمِرکے بھانجےحضرت سَیِّدُنا سائب بن یزیدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس وہ بات پوچھنے کے لئے بھیجا جو حضرت سَیِّدُنا امیرِ معاویہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے ان کی نماز میں دیکھی تھی۔تو انہوں نے فرمایا (وہ بات یہ تھی )کہ میں نے حضرت سیدنا امیر مُعاویہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ مقصورہ میں نمازِ جمعہ ادا کی ،امام کے سلام پھیرنے کے بعد میں اسی جگہ کھڑا ہوگیا اوربقیہ نماز ادا کی توحضرت امیرِ معاویہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے مجھے اپنے گھر بلا کر فرمایا: آئندہ ایسا نہ کرنا، جب تم نمازِ جمعہ ادا کر لو تو جگہ تبدیل کئے بغیر یا کوئی بات کئے بغیراسے کسی اور نماز سے نہ ملاؤ کیونکہ ہمیں رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےحکم دیا کہ کلا م کئے بغیر یاجگہ تبدیل کئے بغیر نماز کو نماز سے نہ ملائیں۔“

شرح حدیث

فرائض وسنن میں فاصلہ:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:” نافِع ابنِ جُبَیْر ابنِ مُطْعِم نے عُمربِن عطا کو حضرت سائب (رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ)کے پاس یہ پوچھنے بھیجا کہ کیا تمہاری کوئی نماز یا نماز کا کوئی عمل حضرت معاویہ(رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ)نے دیکھا ہے اور اس کی تائید یا تردید کی ہے چونکہ امیر معاویہ(رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ)فقیہ صحابہ سے ہیں اس لیے ان کی تائید یا تردید حجتِ شرعیَّہ ہے۔خیال رہے کہ عمربن عطا اور جبیر ابنِ مُطْعِم دونوں تابعی ہیں اور حضرت سائب اور امیر معاویہ(رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَا) دونوں صحابی مگر حضرت معاویہ(رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ) فقیہ صحابی ہیں۔مقصورہ جامع مسجد کا وہ خاص مقام ہے جہاں مکبر یا سلطان اسلام کھڑے ہو کر جماعت سے نماز ادا کریں،چونکہ یہ جگہ ان لوگوں پر مقصور و محدود ہوتی ہے اس لیے اسے مقصورہ کہا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ جب سے حضرت عمر فاروق (رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ) کو نماز میں شہید کیا گیا تب سے بادشاہوں کے لیے مسجد میں خاص جگہ مقرر کی جانے لگی جہاں صر ف وہی کھڑے ہوں آس پاس ان کے خاص آدمی پیچھے حفاظتی پولیس تاکہ نماز میں ان پر کوئی حملہ نہ کرسکے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فرائض و نوافل میں کچھ فاصلہ ضروری ہے جگہ کا فاصلہ ہو یا دعا وظیفہ یا کلام کا بلکہ بہتر یہ ہے کہ دعا بھی مانگے جگہ بھی قدرے بدل لے بلکہ مقتدی لوگ صفیں بھی توڑ دیں پھر سنتیں ادا کریں تاکہ آنے والے کو یہ شبہ نہ ہو کہ جماعت ہورہی ہے اسی لیے بعد نمازِ جنازہ صفیں توڑ کر بلکہ بیٹھ کر دعا مانگتے ہیں۔نوافِل فرائِض سے نہ ملاؤ یہ حکم استحبابی ہے نہ کہ وجوبی۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّداِصلاح کا اَحسن انداز:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حضرت امیرِ معاویہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکا علیحدگی میں بلاکرسمجھانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اہلِ فضل کے ساتھ ادب کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں علیحدگی میں نصیحت کی جائے اور اس میں کسی کو اچھے طریقے سے تنبیہ کرنا بھی ہے۔امام شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:” جس نے اپنے بھائی کو چپکے سے نصیحت کی اس نے اسے نصیحت بھی کی اور زینت بھی بخشی اورجس نے اپنے بھائی کو اِعلانیہ نصیحت کی اس نے اسے ذلیل کیااور عیب لگایا۔“
امیرِ اہلسنت مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارقادری
دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں:” کاش ہمیں بھی اِصلاح کا ڈھنگ آجائے، ہمارا تو اکثر حال یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی کو سمجھانا بھی ہو تو بِلا ضَرورتِ شرعی سب کے سامنے نام لے کر یا اُسی کی طرف دیکھ کر اِس طرح سمجھائیں گے کہ بے چارے کی پَولیں بھی کھول کر رکھ دیں گے اپنے ضمیر سے پوچھ لیجئے کہ یہ سمجھانا ہوا یا اگلے کو ذلیل کرنا ہوا ؟ اِس طرح سُدھار پیدا ہوگا یا مزید بگاڑ بڑھے گا؟یاد رکھئے! اگر ہمارے رُعب سے سامنے والا چپ ہوگیا یا مان گیا تب بھی اُس کے دل میں ناگواری سی رہ جائے گی جو کہ بُغض و کینہ غیبت و تہمت وغیرہ کے دروازے کھول سکتی ہے ۔البتہ اگر پوشیدہ نصیحت نفع نہ دے تو پھر (موقع اور منصب کی مُناسَبَت سے )اِعلانیہ نصیحت کرے۔“مدنی گلدستہ’’جنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) فرائض و نوافل میں جگہ،دعا وظیفہ یا کلام کے ذریعے فاصلہ کرناچاہیے بہتر یہ ہے کہ دعا بھی مانگے اور جگہ بھی بدلے۔
(2) اہلِ فضل کے ساتھ ادب کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں علیحدگی میں نصیحت اور ان کی غلطی پر تنبیہ کی جائے۔
(3) سب کے سامنے کسی کونصیحت کرنا اسے ذلیل ورُسو اکرنا ہےالبتہ اگر پوشیدہ نصیحت نفع نہ دے تو پھر (موقع اور منصب کی مُناسَبَت سے )اِعلانیہ نصیحت کی جاسکتی ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں دیگرنمازیوں کی نماز کا خیال کرتے ہوئے فرائض کے بعدجگہ تبدیل کرکے بقیہ نمازاداکرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1131