Main Icon

باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1129

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اجْعَلُوْا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوْ تِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوْهَا قُبُورًا.

عن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: اجعلوا من صلاتكم في بيو تكم ولا تتخذوها قبورا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”اپنی کچھ نمازیں گھروں میں بھی پڑھو اور گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔“

شرح حدیث

اپنے گھروں کو ذِکرُﷲ سےمُنَوَّرکرو:شارِحِ بخاری علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:” گھروں کو نماز اورتلاوتِ قرآن سے قبروں کی طرح خالی نہ رکھو جبکہ ان میں نہ نماز پڑھی جاتی ہے اور نہ ہی قرآن پڑھا جاتا ہے۔ طبرانی میں مرفوع روایت ہے کہ سید ِعالَمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”اپنے گھروں کواﷲتعالیٰ کے ذِکر سے مُنَوّر کرو،ان میں تلاوتِ قرآن بکثرت کرو اور ان کو قبریں نہ بنالو جیسے یہود ونصاریٰ نے کیا تھا کیونکہ جس گھر میں قرآن پڑھا جائے اس گھر والوں کا رزق کشادہ اور خیر زیادہ ہوتی ہے، اس گھر میں فرشتے حاضر ہوتے اور شیطان وہاں سے بھاگتے ہیں اور جس گھر میں تلاوتِ قرآن نہ ہو اُس گھر والوں کا رِزق تنگ اور خیر کم ہوجاتی ہے ،فرشتے وہاں سے بھاگتے ہیں اور شیطان آجاتے ہیں۔نیزحدیث کا معنیٰ تشبیہِ بلیغ پر مبنی ہے جبکہ حرفِ تشبیہ محذوف ہے تو حدیث کا معنیٰ یہ ہوگا کہ تم اپنے گھروں کو قبروں کی مثل نہ بناؤ جبکہ ان میں نماز نہیں پڑھی جاتی اور گھروں میں نماز سے مراد نوافل ہیں۔ علّامہ خطابیرَحِمَہُ اﷲ تَعَالٰینے کہا:”حدیث میں اس معنیٰ کا بھی احتمال ہے کہ اپنے گھروں کو نیند خانہ نہ بناؤ کہ ان میں نماز نہ پڑھو کیونکہ نیند موت کا ساتھی ہے۔“ اس حدیث کے مقصد میں علما کے دو قول ہیں:ایک یہ کہ یہ حدیث نوافل کی نماز میں وارد ہے کیونکہ فرض نماز جماعت کے ساتھ واجب ہے دوسرا یہ کہ یہ فرض نماز میں وارد ہے تاکہ جو شخص مسجد میں نماز ادا کرنے سے قاصر ہو وہ گھر میں فرض نماز باجماعت پڑھ لے کیونکہ وہ جماعت کا ثواب پالیتا ہے۔“
شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:” گھروں کو قبروں کی طرح نہ بناؤ کہ ان میں مُردوں کی طرح پڑے سوئے رہو، اور ان میں کوئی عبادت ، نماز وغیرہ ادا نہ کرو بلکہ جس طرح تم لوگ مساجد میں عبادت کرتے اور انوار وبرکات حاصل کرتے ہو گھروں میں بھی کچھ نہ کچھ عبادت کیا کرو تاکہ اس کے انوار و برکات سے تمہارے گھر بھی روشن ومنور ہوں اور تمہارے اہل خانہ بھی اس سے مستفید ہوں، لہٰذا فرض نمازیں مسجد میں ادا کرو اور نوافل گھروں میں۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1129