Main Icon

باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1130

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِذَا قَضٰى اَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ فِيْ مَسْجِدِهِ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيْبًا مِّنْ صَلَاتِهِ فَاِنَّ اللهَ جَاعِلٌ في بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا.

عن جابر رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اذا قضى احدكم صلاته في مسجده فليجعل لبيته نصيبا من صلاته فان الله جاعل في بيته من صلاته خيرا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضورِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی مسجد میں (فرض)نماز پڑھ لےتو وہ اپنی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لئے بھی رکھے کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کی نماز کی برکت سے اس کے گھر میں خیروبرکت رکھے گا۔“

شرح حدیث

نوافل گھرمیں پڑھنے کے فوائد:حدیثِ پاک میں فرمایاگیا:”اپنی نمازکا کچھ حصہ اپنے گھرکیلئے بھی رکھے۔“اس کی شرح میںاِمَام نَوَوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:اس سے مراد نفل نماز ہے اورحدیث میں نفل نماز گھر پر پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے کیونکہ نوافل میں خفاء اور پوشیدگی مطلوب ہےاور یہ گھر میں متصور ہے،دوسرا اس میں ریا کا خطرہ نہیں،تیسرا اس سے گھرمیں برکت حاصل ہوگی،اﷲعَزَّوَجَلَّکی رحمت اور فرشتے نازل ہوں گے۔اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّاور اُس کے رسولصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نزدیک زندہ وہ ہےجواﷲ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرتا ہو اور جواﷲعَزَّ وَجَلَّکی عبادت نہ کرے وہ مُردہ ہے اور اس کا گھر قبر کی مانند ہے۔“مدنی گلدستہ’’طیبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) سنتیں اور نوافل مسجد کی نسبت گھر میں پڑھنا افضل ہے۔
(2) نمازِ اِشراق،نمازِسفر،نمازِکسوف،نمازِاِستسقاءاور تراویح وغیرہ مسجد میں پڑھنا افضل ہیں۔
(3) گھر میں نوافل وسُنَن پڑھنے سے گھر میں برکت ہوتی ہے،
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت نازل ہوتی ہےاور شیطان دُور ہوتا ہے۔
(4) جس گھر میں قرآن پڑھا جائے اس گھر میں رزق کشادہ اور خیر زیادہ ہوتی ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے طریقے پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1130