Main Icon

باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 748

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَن ابْنِ عَبّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:اِذَا اَكلَ اَحَدُكُمْ طَعَاماً، فَلا يَمْسَحْ اَصَابِعَهُ حَتّٰى يَلْعَقَهَا اَو يُلْعِقَهَا.

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:اذا اكل احدكم طعاما، فلا يمسح اصابعه حتى يلعقها او يلعقها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مَروی ہےکہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا:”جب تم میں سے کوئی کھانا کھاچکے تو اُس وقت تک اپنی اُنگلیاں نہ پونچھے جب تک اُنھیں چاٹ نہ لے یا (دوسرے کو)چٹا نہ دے۔“

شرح حدیث

کیا پتا اِسی حصے میں برکت ہو:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاِرشادفرماتے ہیں: کھانےکے بعدانگلیاں چاٹ لینی چاہئیں ، کیا پتا کھانے کے اِسی حصے میں برکت ہو۔“صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہ، حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد اَمجد علی اَعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”ایسے شخص کو چٹا دے جو کراہت و نفرت نہ کرتا ہو، مثلاً تلامذہ و مریدین کہ یہ استاد و شیخ کے جھوٹے کوتَبَرُّکجانتے ہیں اور بڑی خوشی سے استعمال کرتے ہیں۔“ٹشو پیپر سےبھی ہاتھ پونچھ سکتے ہیں:ہاتھ چاٹ لینے کے بعد ٹشو پیپر سے بھی پونچھے جاسکتے ہیں۔چنانچہ شیخ طریقت امیرِ اَہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں:”ٹِشو پیپر سے ہاتھ پونچھنےاورٹوائیلٹ پیپر سے جائے اِستِنجاء خشک کرنے کی عُلَما اِجازت دیتے ہیں کیوں کہ یہ اِسی کام کیلئے ہے، اس پر کچھ لکھا نہیں جاتا۔یاد رہے کھانے کے بعد انگلیوں کو کاغذ سے پونچھنا مکروہ ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 748