- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 6
حضرت سَیِّدُنا ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مَروی ہےکہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا:”جب تم میں سے کوئی کھانا کھاچکے تو اُس وقت تک اپنی اُنگلیاں نہ پونچھے جب تک اُنھیں چاٹ نہ لے یا (دوسرے کو)چٹا نہ دے۔“
عَن ابْنِ عَبّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:اِذَا اَكلَ اَحَدُكُمْ طَعَاماً، فَلا يَمْسَحْ اَصَابِعَهُ حَتّٰى يَلْعَقَهَا اَو يُلْعِقَهَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 748 ، باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
حضرت سَیِّدُنا کَعْب بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”میں نے دیکھا کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتین اُنگلیوں سے کھانا تناول فرمارہے ہیں اورکھانےسے فراغت کے بعدآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی مبارک انگلیاں چاٹ لیں۔“
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَأْكُلُ بِثَلاثِ اَصَابِعَ فاِذَا فَرَغَ لَعِقَهَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 749 ، باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
حضرت سَیِّدُناجابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ ”رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انگلیاں اور برتن چاٹ لینے کا حکم دیا اور فرمایا کہ تم نہیں جانتے کہ برکت کھانے کے کس حصے میں ہے۔“
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَمَرَ بِلَعْقِ الْاَصَابِعِ والصَّحْفَةِ وَقَالَ: اِنَّكُمْ لَا تَدْرُوْنَ فِيْ اَيِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكَةُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 750 ، باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
حضرت سیدنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا:” جب کسی کا لقمہ گر جائےتو اُسے اُٹھا کر صاف کرکے کھالے، شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور جب تک اُنگلیاں چاٹ نہ لےرُومال سے صاف نہ کرے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ برکت کھانے کے کس حصے میں ہے۔“
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ اَحَدِكُمْ، فَلْيَأْخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ اَذًى وَلْيَأْ كُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيْلِ حَتّٰى يَلْعَقَ اَصَابِعَهُ، فَاِنَّهُ لَا يَدْرِيْ فِي اَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 751 ، باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
حضرت سیدنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا :”بے شک!شیطان ہر کام کے وقت تمہارے پاس آجاتا ہے یہاں تک کہ کھانے کے وقت بھی، لہٰذا جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے اٹھا کر صاف کر کے کھالے، شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور جب کھانے سے فارغ ہو تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔“
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ اَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَأْنِهِ، حَتّٰى يَحْضُرَهُ عِندَ طعَامِهِ، فَاِذا سَقَطَتْ لُقْمةُ اَحَدِكم فَليَأْخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِن اَذًى، ثُمَّ لِيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، فَاِذا فَرغَ فَلْيَلْعَقْ اَصابِعَهُ فَاِنَّه لَا يَدْرِيْ فِيْ اَيِّ طَعَامِهِ الْبرَكَةُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 752 ، باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
حضرت سَیِّدُنااَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھانا تناوُل فرما تے تو اپنی (مبارک) اُنگلیاں تین مرتبہ چاٹتے اور فرمایا کرتے کہ” جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اُسے چاہیے کہ اُٹھا کر صاف کر کے کھالے، شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔“ اور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں برتن صاف کرنے کا حکم دیتے اور فرماتے کہ” تم نہیں جانتے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔“
عَنْ اَنسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذا اَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ اَصَابِعَهُ الثَّلاثَ وَقالَ: اِذَاسَقَطَتْ لُقْمَةُ اَحَدِكُم فَلْيَأْخُذْها وَلْيُمِطْ عَنْهَا الْاَذٰى وَلْيَأْ كُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيطَانِ، واَمَرنَا اَن نَسْلُتَ القَصْعَةَ وَقَالَ: اِنَّكم لَا تَدْرُوْنَ فِيْ اَيِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكةُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 753 ، باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
حضرت سیدناسعید بن حارثرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سَیِّدُناجابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے پوچھا:”کیاآگ پر پکائی گئی چیز کھانے کے بعد وضو ضروری ہے؟“فرمایا :’’نہیں ! ہم حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانے میں اِس قسم کا (یعنی آگ پر پکاہوا)کھانا کم ہی پاتے تھے، جب کبھی ایساکھانا میسر آتا تو رُومال نہ پاتے تھے بلکہ ہتھیلیوں، پنڈلیوں اور قدموں پر (ہاتھ)مل لیتے،پھرنماز پڑھ لیتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔“
عَنْ سَعِيْدِ بْنِ الْحَارثِ اَنَّه سَاَلَ جَابِراً رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْوُضُوْ ءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ فقال: لَا، قَدْ كُنَّا زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَجِدُ مِثْلَ ذٰلِكَ الطَّعَامِ اِلَّا قَلِيْلًا فَاِذَا نَحْنُ وَجَدْنَاهُ لَمْ يَكُنْ لَنَا مَنَادِيلُ اِلّا اَكُفَّنَا وَسَوَاعِدَنَا وَاَقْدَامَنَا ثُمَّ نُصَلِّيْ وَلَا نَتَوَضَّأُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 754 ، باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان