Main Icon

باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 750

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَمَرَ بِلَعْقِ الْاَصَابِعِ والصَّحْفَةِ وَقَالَ: اِنَّكُمْ لَا تَدْرُوْنَ فِيْ اَيِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكَةُ.

عن جابر رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بلعق الاصابع والصحفة وقال: انكم لا تدرون في اي طعامكم البركة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناجابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ ”رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انگلیاں اور برتن چاٹ لینے کا حکم دیا اور فرمایا کہ تم نہیں جانتے کہ برکت کھانے کے کس حصے میں ہے۔“

شرح حدیث

برتن چاٹنے سے مراد:یاد رہے کہ برتن چاٹ لینے سے مراد یہ نہیں کہ اسے زبان لگا کر چاٹا جائے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ برتن کوانگلیوں سے صاف کر کے انگلیوں کو چاٹ لیا جائے چنانچہ بہارِ شریعت میں ہے:”برتن کو انگلیوں سے پونچھ کر چاٹ لے۔“برتن چاٹنے کی حکمتیں:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمفتی اَحمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:” برتن چاٹنے میں کھانے کا ادب ہے، اِس کو بربادی سے بچانا ہے، برتن یوں ہی چھوڑ دینے سے اِس پر مَکّھیاں بِھنبِھناتی ہیں، برتن میں لگے ہوئے کھانے کے اَجزاءمَعاذ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنالیوں ، گندگیوں میں پھینک دیئے جاتے ہیں، جس سے اُس کی سخْت بے اَدَبی ہوتی ہے ۔ اگر ایک وقت میں ہر فرد چند دانے بھی برتن میں چھوڑ کر ضائِع کر دے تو روزانہ کئی من کھانا برباد ہو گا ۔ برتن چاٹ لینے سے عاجزی وانکساری بھی پیدا ہوتی ہے، غرضیکہ برتن چاٹنے میں کئی حِکمتیں ہیں۔“برتن چاٹ لینے کے بارے میں مزید چند احادیث مبارکہ :(1)جس نے کسی پیالے میں کھایا پھر اس کو چاٹا تو وہ پیالہ اس کیلئے استغفار کرے گا۔(2)جو پیالہ کھانے کے بعد چاٹ لیا جائے وہ چاٹنے والے کے لئے یوں دعاکرتاہے:”یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! اسے نارِجہنم سے آزاد فرما جس طرح اس نے مجھے شیطان سے چھٹکارا دلایا۔“(3)میرے نزدیک پیالہ چاٹ لینا پیالہ بھر کھاناصدقہ کرنے سے افضل ہے۔(4)جس نے برتن اور انگلیوں کو چاٹااللّٰہاس کو دنیا اور آخرت میں شکم سیر فرمائے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 750