Main Icon

باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 753

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذا اَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ اَصَابِعَهُ الثَّلاثَ وَقالَ: اِذَاسَقَطَتْ لُقْمَةُ اَحَدِكُم فَلْيَأْخُذْها وَلْيُمِطْ عَنْهَا الْاَذٰى وَلْيَأْ كُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيطَانِ، واَمَرنَا اَن نَسْلُتَ القَصْعَةَ وَقَالَ: اِنَّكم لَا تَدْرُوْنَ فِيْ اَيِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكةُ.

عن انس رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اكل طعاما لعق اصابعه الثلاث وقال: اذاسقطت لقمة احدكم فليأخذها وليمط عنها الاذى وليأ كلها ولا يدعها للشيطان، وامرنا ان نسلت القصعة وقال: انكم لا تدرون في اي طعامكم البركة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنااَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھانا تناوُل فرما تے تو اپنی (مبارک) اُنگلیاں تین مرتبہ چاٹتے اور فرمایا کرتے کہ” جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اُسے چاہیے کہ اُٹھا کر صاف کر کے کھالے، شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔“ اور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں برتن صاف کرنے کا حکم دیتے اور فرماتے کہ” تم نہیں جانتے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔“

شرح حدیث

تین مرتبہ انگلیاں چاٹنا:اُنگلیاں تین تین بار چاٹنی چاہئیں، اگر پھر بھی انگلیوں پر غذا باقی رہ جائے تو زیادہ بار چاٹ لیجئے یہاں تک کہ غذا کاا ثر نظر نہ آئے۔ شمائل ترمذی میں ہے:”سلطانِ دوجہاں، شَہَنشاہِ کون و مکانصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(کھانے کے بعد) اپنی مبارک انگلیاں تین تین مرتبہ چاٹاکرتے تھے۔“انگلیاں چاٹنے کی ترتیب:حضرت سیِّدُناکعب بن عُجْرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”میں نے سر ورِکائنات، شاہِ موجوداتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو انگوٹھا، شہادت والی اور درمِیانی انگلی ملا کر تین اُنگلیوں سے کھاتے دیکھا ۔پھر میں نے دیکھا کہ سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں پُونچھنے سے پہلے چاٹ لیا، سب سے پہلے درمیانی پھر شہادت والی اور پھر انگوٹھا شریف چاٹا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 753