Main Icon

باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 585

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوۡلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَتَمَنَّى اَحَدُكُمُ الْمَوْتَ اِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ يَزْدَادُ وَ اِمَّا مُسِيۡئًا فَلَعَلَّهُ يَسْتَعْتِبُ. وَہٰذَا لَفۡظُ الۡبُخَارِی. وَفیِ رِوَایَۃٍ لِمُسۡلِمٍ عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنۡ رَسُوۡلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَا يَتَمَنَّى اَحَدُكُمُ الْمَوْتَ وَلَا يَدْعُ بِهِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَاۡتِيَهُ اِنَّهُ اِذَا مَاتَ انْقَطَعَ عَمَلُهُ وَ اِنَّهُ لَا يَزِيۡدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ اِلَّا خَيْرًا.

عن ابي هريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا يتمنى احدكم الموت اما محسنا فلعله يزداد و اما مسيئا فلعله يستعتب. وہذا لفظ البخاری. وفی روایۃ لمسلم عن ابي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:لا يتمنى احدكم الموت ولا يدع به من قبل ان ياتيه انه اذا مات انقطع عمله و انه لا يزيد المؤمن عمره الا خيرا.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”تم میں سےکوئی شخص موت کی تمنانہ کرےنیک شخص اس وجہ سےشایدکہ وہ نیکیاں بڑھالےاورگناہ گاراس وجہ سےکہ شاید وہ (توبہ کرکے)اللّٰہتعالیٰ کو راضی کرلے۔“(یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔) مسلم کی روایت میں اس طرح ہےحضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”تم میں سےکوئی بھی شخص موت کی تمنانہ کرےاورنہ اس کے آنےسےپہلےاس کی دعا کرےکیونکہ جب کوئی شخص مرجاتاہےتواس کا عمل مُنقطع ہوجاتاہے اورمومن کی عمرتوبھلائی ہی میں اضافہ کرتی ہے۔‘‘

شرح حدیث

لمبی عمرنیکیوں میں زیادتی کاسبب ہے:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْبَارِیفرماتےہیں:”جب کوئی شخص مرجاتاہےتوخیروبھلائی میں زیادتی کی جواس کی امیدیں ہوتی ہیں وہ ختم ہوجاتی ہیں،اورمومن کی عمرزیادہ ہونےسےخیرہی زیادہ ہوتی ہے یعنی بندۂ مومن جب بلاؤ ں اورمصیبتوں پرصبرکرتاہے،اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں کاشکراداکرتاہے،تقدیرِالٰہی پرراضی رہتاہےاوراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاوراُس کےپیارے نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاَحکام کی فرمانبرداری کرتا ہےتواُس کاثواب بڑھتاہی جاتاہے۔“زندگی کازمانہ بیج بونےکاہے:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان:”مومن کی عمر بھلائی ہی بڑھاتی ہے۔“کےتحت لکھتےہیں:”زندگی کا زمانہ تخم بونے کا زمانہ ہے جو کچھ بوئے گا آگے چل کر کاٹے گا۔بدکار اگر توبہ کرے گا تو اسی زندگی میں،نیک کارنیکیاں بڑھائے گا تو اسی زندگی میں۔خیال رہے کہ بعض مؤمن قبرمیں بھی نمازیں پڑھتے ہیں،تلاوتِ قرآن بھی کرتے ہیں مگر ان اعمال پر ثواب نہیں صرف روحانی لذت ہے جیسے فرشتوں کے اعمال پرثواب نہیں بلکہ ان سے ان کی بقا اورلذت ہے۔“لمبی عمر کے متعلقتین فرامینِ مُصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:(1)’’موت کی تمنا مت کیا کرو کیونکہ اُخروی زندگی کی ابتدا بہت سخت ہے اور بندے کی عمر کا طویل ہونا اوراسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی طر ف سے توبہ کی تو فیق ملناخوش بختی ہے۔(2)ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یَا رَسُوْلَاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! لوگوں میں بہتر کون ہے؟فرمایا:” جس کی عمرطویل اور عمل اچھا ہو۔“پوچھا:اور لوگوں میں بُرا کون ہے؟ فرمایا:”جس کی عمر لمبی اور عمل بُرا ہو۔“(3)” کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہتر آدمی کی خبر نہ دوں؟ تم میں سے بہتر وہ ہے جس نے لمبی عمر گزاری ہو اور اچھے کام کیے ہوں۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 585