Main Icon

باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 587

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ قَيْسِ بْنِ اَبِي حَازِمٍ قَالَ:دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابِ بۡنِ الۡاَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَعُوۡدُهُ وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعَ كَيَّاتٍ فَقَالَ:اِنَّ اَصْحَابَنَا الَّذِيۡنَ سَلَفُوۡا مَضَوْاوَلَمْ تَنْقُصْهُمُ الدُّنْيَاوَاِنَّا اَصَبْنَا مَا لَا نَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا اِلَّا التُّرَابَ وَلَوْلَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا اَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ ثُمَّ اَتَيْنَاهُ مَرَّةً اُخْرَى وَهُوَ يَبْنِيْ حَائِطًا لَهُ فَقَالَ:اِنَّ الْمُسْلِمَ لَيُؤْجَرُ فِيْ كُلِّ شَيْءٍ يُنْفِقُهُ اِلَّا فِي شَيْءٍ يَجْعَلُهُ فِي هَذَا التُّرَابِ.

عن قيس بن ابي حازم قال:دخلنا على خباب بن الارت رضي الله عنه نعوده وقد اكتوى سبع كيات فقال:ان اصحابنا الذين سلفوا مضواولم تنقصهم الدنياوانا اصبنا ما لا نجد له موضعا الا التراب ولولا ان النبي صلى الله عليه وسلم نهانا ان ندعو بالموت لدعوت به ثم اتيناه مرة اخرى وهو يبني حائطا له فقال:ان المسلم ليؤجر في كل شيء ينفقه الا في شيء يجعله في هذا التراب.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناقیس بن ابوحازمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم خباب بن اَرَترَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکےپاس بیمار پُرسی کےلیےگئےانہوں نے(جسم کو)سات داغ لگائے ہوئے تھے۔انہوں نے فرمایا: ”بیشک ہمارےساتھی جو ہم سےپہلےگزرگئے دنیا نے ان کا عمل کم نہیں کیا اورہم نےدنیامیں اتنامال پایا ہے کہ مٹی (یعنی تعمیرِ عمارت)کے سوا اس کو رکھنے کی جگہ نہیں پاتے۔اگر نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں موت کی دعاکرنے سےمنع نہ کیاہوتاتومیں اس کی دعاضرورکرتا۔راوی کہتے ہیں پھر ہم دوبارہ ان کے پاس گئےتواس وقت آپ اپنی ایک دیواربنارہےتھےفرمانےلگے:”مسلمان کو ہراس چیز میں اجر دیا جاتا ہےجس کو وہ خرچ کرتاہےسوائےاس شے کے جس کو وہ مٹی میں رکھتا ہے (یعنی عمارت کی تعمیر)۔

شرح حدیث

بیماری کےسبب داغ لگوانا:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:حضرتِ سَیِّدُناخباب بن ارترَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ داغ اپنے پیٹ پرلگوائےہوئےتھےاورجس حدیث میں داغ لگوانےسےمنع کیاگیاہےاس سےمراد یہ ہےکہ جوشخص یہ عقیدہ رکھتاہوکہ شفاداغ لگوانےسےہی حاصل ہوگی اسےداغ لگوانامنع ہےجبکہ جس شخص کایہ اعتقادہوکہ شفا دینےوالی ذات صرفاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہی کی ہےتواسےداغ لگوانےمیں کوئی حرج نہیں ہےیاممانعت اس شخص کےلیے ہےجودوااستعمال کرنےپرقادرہواورجودوااستعمال کرنےپرقادرنہ ہو اسےداغ لگوانےمیں حرج نہیں۔دنیاوی مال ومتاع ثواب میں کمی کرتاہے:علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:حضرتِ خباب بن ارترَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے تواضُع واِنکساری کرتےہوئےکہاکہ جو حضرات سَرورِکائناتصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی حیاتِ طیبہ میں وفات پاگئے اوردنیاوی مال ومتاع سےسرفرازنہ ہوئےاورتنگ زندگی گزارتے ہوئےدنیاسےکوچ کرگئےدنیانےان کاعمل کم نہیں کیااورجوحضرات ان کے بعدزندہ رہےفتوحات کے باعث مَغانمِ کثیرہ کے مالک ہوئے انہیں دنیاوی مال ومتاع بہت مُیَسَّر ہواجوآخرت کےثواب میں کمی کرتاہے۔اسی لیےحضرت خباب نے کہاہم نےدنیامیں اتنامال پایاکہ اس کے رکھنے کی جگہ نہیں پاتےہیں اورمکانات بنانےکےسوااس کاکوئی مَصرف نظر نہیں آتا۔معلوم ہوامال کوعمارات میں صَرف کرنامذموم ہے،لیکن وہ عمارات جوذاتی ضرورت تک محدودہیں وہ مذموم نہیں،کیوں کہ ان سے اِستغنا بہت مشکل ہے۔مدنی گلدستہ’’کعبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(4) دُنیوی تکالیف اور مصائب سے تنگ آکر موت کی تمنا کرنا مکروہ ہے۔
(5) بندےکی عمرکاطویل ہونااوراسے توبہ کی توفیق ملناخوش بختی کی علامت ہے۔
(6) کسی فتنہ یادین کےضائع ہونےکےخوف کےسبب موت کی تمنا کرناجائزہے۔
(7) بُرا ہے وہ شخص جس کی عمرلمبی اور اعمال بُرے ہوں۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں اس وقت تک زندہ رکھے جب تک ہمارےحق میں زندگی بہترہو اور ہمیں موت دےجس وقت ہمارے حق میں موت بہترہو۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 587