باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا

فیضان ریاض الصالحین جلد 5

حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”تم میں سےکوئی شخص موت کی تمنانہ کرےنیک شخص اس وجہ سےشایدکہ وہ نیکیاں بڑھالےاورگناہ گاراس وجہ سےکہ شاید وہ (توبہ کرکے)اللّٰہتعالیٰ کو راضی کرلے۔“(یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔) مسلم کی روایت میں اس طرح ہےحضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”تم میں سےکوئی بھی شخص موت کی تمنانہ کرےاورنہ اس کے آنےسےپہلےاس کی دعا کرےکیونکہ جب کوئی شخص مرجاتاہےتواس کا عمل مُنقطع ہوجاتاہے اورمومن کی عمرتوبھلائی ہی میں اضافہ کرتی ہے۔‘‘

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوۡلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَتَمَنَّى اَحَدُكُمُ الْمَوْتَ اِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ يَزْدَادُ وَ اِمَّا مُسِيۡئًا فَلَعَلَّهُ يَسْتَعْتِبُ. وَہٰذَا لَفۡظُ الۡبُخَارِی. وَفیِ رِوَایَۃٍ لِمُسۡلِمٍ عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنۡ رَسُوۡلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَا يَتَمَنَّى اَحَدُكُمُ الْمَوْتَ وَلَا يَدْعُ بِهِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَاۡتِيَهُ اِنَّهُ اِذَا مَاتَ انْقَطَعَ عَمَلُهُ وَ اِنَّهُ لَا يَزِيۡدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ اِلَّا خَيْرًا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 585 ، باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا

حضرتِ سَیِّدُناانسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےروایت ہےکہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”تم میں سےکوئی شخص کسی مصیبت کے پہنچنے کی وجہ سے موت کی تمنانہ کرےاوراگرموت کی تمناکرناضروری ہوتویوں کہے:اےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!مجھےاس وقت تک زندہ رکھ جب تک میرےحق میں زندگی بہترہےاورمجھےاس وقت وفات دےجس وقت میرےحق میں موت بہترہو۔‘‘

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوۡلُ اللّٰہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَمَنَّيَنَّ اَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ اَصَابَهُ فَاِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًافَلْيَقُلْ: اَللَّهُمَّ اَحْيِنِيْ مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِيْ وَتَوَفَّنِيْ اِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِيْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 586 ، باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا

حضرت سَیِّدُناقیس بن ابوحازمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم خباب بن اَرَترَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکےپاس بیمار پُرسی کےلیےگئےانہوں نے(جسم کو)سات داغ لگائے ہوئے تھے۔انہوں نے فرمایا: ”بیشک ہمارےساتھی جو ہم سےپہلےگزرگئے دنیا نے ان کا عمل کم نہیں کیا اورہم نےدنیامیں اتنامال پایا ہے کہ مٹی (یعنی تعمیرِ عمارت)کے سوا اس کو رکھنے کی جگہ نہیں پاتے۔اگر نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں موت کی دعاکرنے سےمنع نہ کیاہوتاتومیں اس کی دعاضرورکرتا۔راوی کہتے ہیں پھر ہم دوبارہ ان کے پاس گئےتواس وقت آپ اپنی ایک دیواربنارہےتھےفرمانےلگے:”مسلمان کو ہراس چیز میں اجر دیا جاتا ہےجس کو وہ خرچ کرتاہےسوائےاس شے کے جس کو وہ مٹی میں رکھتا ہے (یعنی عمارت کی تعمیر)۔

عَنْ قَيْسِ بْنِ اَبِي حَازِمٍ قَالَ:دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابِ بۡنِ الۡاَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَعُوۡدُهُ وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعَ كَيَّاتٍ فَقَالَ:اِنَّ اَصْحَابَنَا الَّذِيۡنَ سَلَفُوۡا مَضَوْاوَلَمْ تَنْقُصْهُمُ الدُّنْيَاوَاِنَّا اَصَبْنَا مَا لَا نَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا اِلَّا التُّرَابَ وَلَوْلَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا اَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ ثُمَّ اَتَيْنَاهُ مَرَّةً اُخْرَى وَهُوَ يَبْنِيْ حَائِطًا لَهُ فَقَالَ:اِنَّ الْمُسْلِمَ لَيُؤْجَرُ فِيْ كُلِّ شَيْءٍ يُنْفِقُهُ اِلَّا فِي شَيْءٍ يَجْعَلُهُ فِي هَذَا التُّرَابِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 587 ، باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا