Main Icon

باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 586

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوۡلُ اللّٰہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَمَنَّيَنَّ اَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ اَصَابَهُ فَاِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًافَلْيَقُلْ: اَللَّهُمَّ اَحْيِنِيْ مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِيْ وَتَوَفَّنِيْ اِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِيْ.

عن انس رضي الله عنه قال:قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم لا يتمنين احدكم الموت لضر اصابه فان كان لا بد فاعلافليقل: اللهم احيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني اذا كانت الوفاة خيرا لي.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناانسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےروایت ہےکہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”تم میں سےکوئی شخص کسی مصیبت کے پہنچنے کی وجہ سے موت کی تمنانہ کرےاوراگرموت کی تمناکرناضروری ہوتویوں کہے:اےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!مجھےاس وقت تک زندہ رکھ جب تک میرےحق میں زندگی بہترہےاورمجھےاس وقت وفات دےجس وقت میرےحق میں موت بہترہو۔‘‘

شرح حدیث

تقدیر پر راضی رہے:اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:اس حدیث میں اس بات کی تصریح ہے کہ کسی مرض، فَقْر و فاقہ ،دشمن کے خوف یا اس جیسی دوسری دُنیوی مَشَقَّتوں کی وجہ سے موت کی تمنا کرنا مکروہ ہے۔ ہاں !جب دینی نقصان یا کسی فتنہ میں مبتلا ہونے کا خوف ہو تو اس صورت میں موت کی تمنا ممنوع نہیں اور ہمارے بہت سے اَسلافرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامنے اپنے دِین میں فتنے کے خوف سے موت کی تمنا کی ہے، اگر کسی کو اس بات کو خوف ہو کہ وہ مرض کی وجہ سے جس مصیبت میں مبتلا ہے وہ اس پر صبر نہیں کرسکے گا تو وہ ارشاد ِ نبوی کے مطابق یوں دعا کرے: ’’یااللّٰہ! جب تک میرے حق میں زندگی بہتر ہو مجھے زندہ رکھ اور جب میرا مرنا بہتر ہو تومجھے موت دیدے۔‘‘اور افضل یہی ہے کہ وہ صبر کرے اور تقدیر پر راضی رہے ۔بیماری سےگناہ معاف ہوتےہیں:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:” کسی مصیبت کی وجہ سے موت کی تمنانہ کرےکیونکہ اس مصیبت سےاس کےدین اوردنیامیں اس کےلیےخیرہوتی ہےیاپھر اس مصیبت سےاس کےپچھلےگناہ معاف ہوجاتےہیں اوروہ گناہوں سےپاک ہوجاتاہےجیساکہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامایک بوڑھےشخص کی عیادت کےلیےتشریف لےگئےجبکہ اسےبخارتھاتو آپ نےارشادفرمایا:” کوئی حرج نہیںاِنْ شَآءَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّیہ بخارتمہیں پاک کرنےوالاہے۔“اوربسااوقات ایک ہی مرض میں کئی منافع بھی ہوتے ہیں ا ن میں سے ایک نفع یہ بھی ہےکہ بندہ اس مرض کی وجہ سےان گناہوں سےبچ جاتاہےجنہیں وہ حالتِ صحت میں کیاکرتاتھایایہ مرض اُس سےاوراس کےمال سےبلاؤں کودورکردیتاہےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبندۂ مومن کےحال کوخوب جاننےوالاہےبندےکوچاہیے کہ وہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسےمرض اورصحت میں راضی رہے اوراس کی تقدیرپرتہمت نہ لگائے،کسی بیماری میں مبتلاہونےکےوقت اس سےتنگ آکریادنیاوی معاملات سےپریشان ہوکرموت کاسوال نہ کرے۔موت کی تمنا کی جائز وناجائزصورتیں:میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو!رَنج و مصیبت سے گھبرا کر موت کی تمنا کرنا ممنوع ہے ۔ہاں شوقِ وصلِ الٰہی (اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے ملنے کے شوق)، صالحین سے ملنے کے اِشْتِیاق(شوق)، دِینی نقصان یا فتنے میں پڑ نے کے خوف سے موت کی تمنا کرنا جائز ہے،رَئِیْسُ الْمُتَکَلِّمِیْنحضرت علامہ مولانا نقی علی خانعَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:”جب دین میں فتنہ دیکھے تو اپنے مرنے کی دعا جائز ہے حضورِ اَقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے منقول ہے :اِذَا اَرَدْتَّ بِقَوْمٍ فِتْنَۃً فَاقْبِضْنِیْ اِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ(اےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! جب تو کسی قوم کے ساتھ عذاب و گمراہی کا ارادہ فرمائے (ان کے اعمالِ بد کے سبب) تو مجھے بغیر فتنے کے اپنی طرف اٹھا)۔ حدیثِ پاک میں ہے :تم میں سے کوئی موت کی آرزو نہ کرے مگر جب کہ نیکی کرنے پر اعتمادنہ رکھتا ہو۔“سرکار اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں :” خلاصہ یہ کہ دُنیوی مَضَرَّ توں (نقصانات) سے بچنے کے لئے موت کی تمنا ناجائز ہے اور دینی مضَرَّت (دینی نقصان) کے خوف سے جائز ۔“
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیرحکیمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتےہیں: ”بیماری و آزاری (تکلیف) سےگھبرا کرموت نہ مانگے اورجس طریقہ سے دعا کی اجازت دی گئی ہے نہایت ہی پیارا طریقہ ہے،کیونکہ اس خیروشر میں دین و دنیا کی خیروشرشامل ہے۔گویا موت کی تمنا کہہ بھی لی مگر قاعدے سے۔خیال رہے کہ یہ کہنا جائز ہے: خدایا مجھے شہادت کی موت دے،خدایا مجھے مدینہ پاک میں موت نصیب کر!چنانچہ عمر فاروق(رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ)نے دعا کی تھی کی مولا! مجھے اپنے حبیب کے شہرمیں شہادت نصیب کر،حضرتِ حفصہ(رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِا) نے عرض کیا کہ یہ کیسے ہوسکے گا تو آپ نے فرمایا :اِنْ شَآءَ اللّٰہایسے ہی ہوگا۔چنانچہ مسجد نبوی محراب النَّبی نماز کی حالت میں مُصَلَّائےمصطفےٰپر آپرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُکو کافرمجوسی ابو لُولُو نے شہید کیا، دعاکیاتھی کمان سے نکلا ہوا تیر تھا کہ جو کہا تھا وہی ہوا،کیوں نہ ہو رب کی یہ مانتے ہیں رب ان کی مانتاہے۔“بہارِ شریعت میں ہے:”مرنے کی آرزو کرنا اور اس کی دعا مانگنا مکروہ ہے، جبکہ کسی دُنیوی تکلیف کی وجہ سے ہو، مثلاً تنگی سے بسر اوقات ہوتی ہے یا دشمن کا اندیشہ ہے، مال جانے کا خوف ہے اور اگر یہ باتیں نہ ہوں بلکہ لوگوں کی حالتیں خراب ہو گئیں معصیت میں مبتلا ہیں اسے بھی اندیشہ ہے کہ گناہ میں پڑ جائے گا تو آرزوئے موت مکروہ نہیں۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 586