Main Icon

باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 544

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا حَسَدَ اِلَّا فِی اثْنَتَيْنِ:رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ في الْحَقِّ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِيْ بِهَا ويُعَلِّمُهَا.

عن ابن مسعود رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا حسد الا فی اثنتين:رجل آتاه الله مالا فسلطه على هلكته في الحق ورجل آتاه الله حكمة فهو يقضي بها ويعلمها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا عبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”دو آدمیوں کے علاوہ کسی پر حسد (یعنی رشک) کرنا جائز نہیں:(1) وہ شخص جسےاللہ عَزَّ وَجَلَّنے مال عطا فرمایا اور اُسے صحیح راستے میں خرچ کرنے کی قدرت عطا فرمائی ۔(2) وہ مرد جسےاللہتعالیٰ نے (دِین کا)علم عطا کیا تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرے اور اس کی تعلیم دے۔“

شرح حدیث

حسداوررَشک میں فرق:مذکورہ حدیثِ پاک میں راہِ خدا میں خرچ کرنے والے اور علم حاصل کرکے دوسروں کو سکھانے والے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”کسی نعمت والے پرجلنا اور اس کی نعمت کا زوال، اپنے لیے حصول چاہنا حسد ہے، جوبہت بڑاعیب ہے جس سے شیطان مارا گیا مگر دوسروں کی سی نعمت اپنے لیے بھی چاہنا غِبْطَہ (رشک) ہے۔ حسد مطلقًا حرام ہے، غِبْطَہ دو جگہ جائز ہے، یہاں حسدبمعنیٰ غِبْطَہ ہے۔“صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیمذکورہ حدیث ذِکر کرکے فرماتے ہیں:اس حدیث سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان دو چیزوں میں حسد جائز ہے مگر بغور دیکھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی حسد حرام ہے۔ اور بعض علماء نے فرمایا کہ معنیٔ حدیث یہ ہیں کہ حسد انھیں دونوں میں ہوسکتا ہے اور چیزیں تو اس قابل ہی نہیں کہ ان میں حسد پایا جاسکے کہ حسد کے معنیٰ یہ ہیں کہ دوسرے میں کوئی نعمت دیکھے اوریہ آرزو کرے کہ وہ مجھے مل جائے اور دنیا کی چیزیں نعمت نہیں کہ جن کی تحصیل کی فکر ہو دنیا کی چیزوں کا مآل(یعنی انجام)اللہتعالیٰ کی ناراضی ہے اور یہ چیزیں وہ ہیں کہ ان کا مآلاللہتعالیٰ کی خوشنودی و رضا ہے، لہٰذا نعمت جس کا نام ہے وہ یہی ہیں ان میں حسد ہوسکتا ہے۔آرزو کرنے کے لائق نعمتیں:مرآۃ المناجیح میں ہے: مالدارسخی جسے خدا اچھے کاموں میں خرچ کرنے کی توفیق دے ایسے ہی بافیض عالِمِ دِین جس کے علم سے لوگ فائدہ اٹھائیں قابلِ رشک ہے۔سُبْحٰنَ ا اللہ!بعض علماء کے علم اوربعض سخیوں کے مال سے لوگ تاقیامت فائدہ اٹھاتے ہیں۔ خیال رہے کہ نیکی کی تمنا کرنے والااِنْ شَآءَ اللہتَعَالٰیقیامت میں نیکوں کے ساتھ ہی ہوگا۔ فقیہِ اعظم، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”اللہ عَزَّ وَجَلَّکسی کو مال عطا فرمائے یہ اس کا فضل ہے اور اسے اپنی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے یہ دوسرا فضل ہے۔ اسی طرح علمِ دِین اس کا فضلِ عظیم ہے اور علم پر عمل اور اس کے مطابق فیصلہ کرنے اور اس کے نشر و اشاعت کی توفیق یہ مزید فضل ہے۔ مراد یہ ہے کہ لوگ طرح طرح کی آرزو کرتے ہیں مگر آرزو کرنے کے لائق صرف یہ دو نعمتیں ہیں، اس سے ان دونوں نعمتوں کی عظمت ظاہر کرنا مقصود ہے۔“مدنی گلدستہ’’علم‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) وہ شخص جسے
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مال عطا کیا اور اسے صحیح جگہ خرچ کرنے کی توفیق دی ہو اور وہ شخص جسےاللہ عَزَّ وَجَلَّنے دِین کا علم عطا کیا اور وہ اس کے ذریعے درست فیصلے کرتا ہو اور وہ علم دوسروں کو سکھاتا ہو ان دونوں شخصوں پر رشک کرنا جائز ہے۔
(2) کسی کی نعمت پر جلنا اور اس بات کی خواہش کرنا کہ وہ نعمت اس سے زائل ہوکر میرے پاس آجائے یہ حسد ہے جو بہت بڑا گناہ ہے اور کسی کی نعمت دیکھ کر یہ خواہش کرنا کہ اسی کی مثل میرے پاس بھی ہو یہ رشک ہے اوررشک اِن دوچیزوں میں ہی کرنا چاہیے۔
(3) نیکیوں کی تمنا کرنے والا بھی قیامت میں نیکوں کے ساتھ ہوگا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں حلال مال عطا فرمائے اور اسے صحیح جگہ خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 544