- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- حدیث نمبر 555
باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 555
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّہُ قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يَسِيْرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْفَلَهُ مِنْ حُنَيْنٍ فَعَلِقَهُ الْاَعْرَابُ يَسْاَلُوْنَهُ حَتَّى اضْطَرُّوْهُ اِلَى سَمُرَۃٍ فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اَعْطُوْنِيْ رِدَائِيْ فَلَوْ كَانَ لِيْ عَدَدُ هذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُوْنِيْ بَخِيْلًا وَلَا كَذَّابًا وَلَا جَبَانًا.
عن جبير بن مطعم رضی اللہ عنہ انہ قال: بينما هو يسير مع النبي صلى الله عليه وسلم مقفله من حنين فعلقه الاعراب يسالونه حتى اضطروه الى سمرۃ فخطفت رداءه فوقف النبي صلى الله عليه وسلم فقال: اعطوني ردائي فلو كان لي عدد هذه العضاه نعما لقسمته بينكم ثم لا تجدوني بخيلا ولا كذابا ولا جبانا.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا جبیر بن مطعمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ وہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ غزوۂ حنین سے واپس آرہے تھے کہ چند دیہاتی آپ سے لپٹ گئے وہ آپعَلَیْہِ السَّلَامسے کچھ مانگ رہے تھے یہاں تک کہ وہ آپعَلَیْہِ السَّلَامکوببول کے درخت کی طرف لے گئے اور آپ کی چادر لے لی ۔نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمٹھہر گئے اور فرمایا: ”مجھے میری چادر دے دو، اگر میرے پاس ان خار دار درختوں کے برابر بھی اونٹ ہوتے تو میں ضرور انہیں تمہارے درمیان تقسیم کردیتا پھر تم مجھے نہ بخیل پاتے نہ جھوٹا اور نہ ہی بزدل۔“
شرح حدیث
غزوۂ حنین:مذکورہ حدیثِ پاک میں حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے کمال حُسنِ اَخلاق اور حلم و فضل کو بیان کیا گیا ہے کہ آپعَلَیْہِ السَّلَامان لوگوں کے ساتھ بھی نرمی کا مظاہرہ فرماتے تھے کہ جن سے حضورعَلَیْہِ السَّلَامکو تکلیف پہنچتی تھی۔ حدیثِ پاک میں غزوۂ حنین سے واپسی کا ذکر ہے۔’’حنین ایک جنگل ہے جو مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ہے، غزوۂ حنین فتحِ مکہ کے بعد واقع ہوا، حضرت سَیِّدَتُنا دائی حلیمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِااسی علاقہ بلکہ اسی قوم یعنی قبیلہ بنی ہوازن کی ہیں اس لیے حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان تمام قیدیوں کو آزاد فرما دیا تھا جو اس غزوہ میں گرفتار ہوئے تھے۔ اس غزوہ میں مسلمانوں کو بہت زیادہ مالِ غنیمت ملا تھا، حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فتحِ مکہ میں مسلمان ہونے والےمُؤَلَّفَۃُ الْقُلُوبکو اس میں سے بہت زیادہ مال عطا فرمایا تھا۔‘‘حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ وہ لوگ مانگتے ہوئے حضورعَلَیْہِ السَّلَامسے چمٹ گئے۔مُفَسِّرِ شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”یہ لوگ حضور سے ایسے لپٹ گئے تھے جیسے فقراءومساکین ایک کریم غنی کو گھیر لیں، حضور کسی منگتے کو ہٹایا نہیں کرتے۔آپعَلَیْہِ السَّلَامنے ان لوگوں سے فرمایا کہ اگر میرے پاس ان خاردار درختوں کے برابر اونٹ ہوتے تو میں وہ بھی تمہارے درمیان تقسیم کردیتا۔’’ بے شک اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جب حضورعَلَیْہِ السَّلَاماپنا ذاتی مال لوگوں میں تقسیم کرنے میں فراخ دلی کا مظاہرہ فرماتے تھے تو پھر مالِ غنیمت تو بدرجَۂ اَولیٰ کھلے دل سے ان لوگوں میں تقسیم فرماتے۔‘‘حضور کے خصائلِ حمیدہ:حدیثِ پاک کے آخر میں بیان ہوا کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا کہ نہ تم مجھے بخیل پاتے، نہ جھوٹا اور نہ بزدل۔مرآۃ المناجیح میں ہے:یہاں شجاعت، صدق کا ذکر اپنے فضائل کی تکمیل کے لیے بیان فرمایا یعنی مجھےاللّٰہتعالیٰ نے ان تین عیبوں سے بری کیا بخل، بزدلی، جھوٹ۔ حضورِ انورسخی نہیں بلکہ جواد ہیں، خود نہ کھائیں زمانہ بھر کو کھلائیں۔شعروہ آقا جو کہ خودکھائےکھجوریں اورغلاموں کو……کھلائے نعمتیں دنیا کی کب ایسا کہیں دیکھا
∞حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا یہ ارشاد (یعنی ”تم مجھے نہ بخیل پاؤ گے نہ جھوٹا اور نہ بزدل“)جَوَامِعُ الْکَلِمْسے ہے۔کیونکہ اَخلاقِ حَسنہ کے بنیادی اُصول حکمت، جود و کرم اور شجاعت ہیں تو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے بخیل نہ ہونے سے جود و کرم، بزدل نہ ہونے سے شجاعت و بہادری اور جھوٹا نہ ہونے سے حکمت کی طرف اشارہ فرمایا، الغرض حضورعَلَیْہِ السَّلَامنہ تو بخیل تھے اور نہ بزدل اور نہ کبھی آپ کی زبانِ مبارک پر خلافِ واقعہ بات آئی۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”مذکورہ حدیثِ پاک میں بُری صفات کی مذمت بیان کی گئی ہے اور اسی لیے مسلمانوں کے پیشوا کے لیے مناسب نہیں ہے کہ اس میں بخل، جھوٹ اور بزدلی جیسی کوئی بھی صفت پائی جائے۔ مذکورہ حدیثِ پاک میں حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے اَخلاقِ حسنہ کو بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے دیہاتیوں کی طرف سے تکلیف پہنچنے کے باوجود حِلم،حُسنِ اَخلاق، جُودو سخاوت اور صبر کا مظاہرہ فرمایا۔“عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”جب کسی بلند مرتبہ شخص کو بے علم لوگوں کی طرف سے بدگمانی کا خوف ہو تو اس کے لیے لوگوں سے اپنی اچھی صفات بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں اور بخل، بزدلی اور جھوٹ ایسی مذموم صفات ہیں کہ یہ قوم کے سردار میں نہیں ہونی چاہئیں اور جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک بھی صفت ہو اُسے مسلمانوں کا حاکم اور خلیفہ نہ بنایا جائے اور اسی طرح جس شخص میں جھوٹ بولنے کی صفت ہو اُسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے دین میں امام نہیں بنائیں گے۔“مدنی گلدستہ’’عفو و کرم‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
حضورعَلَیْہِ السَّلَامان لوگوں کے ساتھ بھی حُسنِ اَخلاق اور نرمی سے پیش آتے تھے جن سے آپ کو تکلیف پہنچتی تھی۔
(1) غزوۂ حنین کے تمام قیدیوں کو حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے رہا کردیا تھا اور اس غزوہ سے حاصل ہونے والے مال غنیمت میں سے بہت زیادہ فتحِ مکہ میں مسلمان ہونے والےمُؤَلَّفَۃُ الْقُلُوْبکو عطا فرمایا تھا۔
(2) حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی سائل کو ہٹاتے نہیں تھے اسی لیے کچھ دیہاتی حضور سے مانگتے ہوئے ایسے لپٹ گئے جیسے فقراء و مساکین ایک کریم غنی کو گھیر لیتے ہیں۔
حضورعَلَیْہِ السَّلَامسخی نہیں بلکہ جواد ہیں، کیونکہ سخی وہ ہوتا ہے جو خود بھی کھائے اور دوسروں کو بھی کھلائے لیکن جواد وہ ہوتا ہے جو خود نہ کھائے بلکہ دوسروں کو کھلائے۔
حضورعَلَیْہِ السَّلَامہر طرح کی بُری صفات سے پاک ہیں اور اَخلاقِ حسنہ کے جامع ہیں۔
(3) لوگوں کو بدگمانی سے بچانے کے لیے ان کے سامنے اپنی اچھائیاں بیان کرنے میں حرج نہیں ہے۔
(4) ایسے شخص کو مسلمانوں کا خلیفہ نہ بنایا جائے جس میں بخل، جھوٹ اور بزدلی جیسی صفات ہوں۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں حُسنِ اَخلاق اور سخاوت کی نعمت سے سرفراز فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 555