Main Icon

باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 555

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّہُ قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يَسِيْرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْفَلَهُ مِنْ حُنَيْنٍ فَعَلِقَهُ الْاَعْرَابُ يَسْاَلُوْنَهُ حَتَّى اضْطَرُّوْهُ اِلَى سَمُرَۃٍ فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اَعْطُوْنِيْ رِدَائِيْ فَلَوْ كَانَ لِيْ عَدَدُ هذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُوْنِيْ بَخِيْلًا وَلَا كَذَّابًا وَلَا جَبَانًا.

عن جبير بن مطعم رضی اللہ عنہ انہ قال: بينما هو يسير مع النبي صلى الله عليه وسلم مقفله من حنين فعلقه الاعراب يسالونه حتى اضطروه الى سمرۃ فخطفت رداءه فوقف النبي صلى الله عليه وسلم فقال: اعطوني ردائي فلو كان لي عدد هذه العضاه نعما لقسمته بينكم ثم لا تجدوني بخيلا ولا كذابا ولا جبانا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا جبیر بن مطعمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ وہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ غزوۂ حنین سے واپس آرہے تھے کہ چند دیہاتی آپ سے لپٹ گئے وہ آپعَلَیْہِ السَّلَامسے کچھ مانگ رہے تھے یہاں تک کہ وہ آپعَلَیْہِ السَّلَامکوببول کے درخت کی طرف لے گئے اور آپ کی چادر لے لی ۔نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمٹھہر گئے اور فرمایا: ”مجھے میری چادر دے دو، اگر میرے پاس ان خار دار درختوں کے برابر بھی اونٹ ہوتے تو میں ضرور انہیں تمہارے درمیان تقسیم کردیتا پھر تم مجھے نہ بخیل پاتے نہ جھوٹا اور نہ ہی بزدل۔“

شرح حدیث

غزوۂ حنین:مذکورہ حدیثِ پاک میں حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے کمال حُسنِ اَخلاق اور حلم و فضل کو بیان کیا گیا ہے کہ آپعَلَیْہِ السَّلَامان لوگوں کے ساتھ بھی نرمی کا مظاہرہ فرماتے تھے کہ جن سے حضورعَلَیْہِ السَّلَامکو تکلیف پہنچتی تھی۔ حدیثِ پاک میں غزوۂ حنین سے واپسی کا ذکر ہے۔’’حنین ایک جنگل ہے جو مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ہے، غزوۂ حنین فتحِ مکہ کے بعد واقع ہوا، حضرت سَیِّدَتُنا دائی حلیمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِااسی علاقہ بلکہ اسی قوم یعنی قبیلہ بنی ہوازن کی ہیں اس لیے حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان تمام قیدیوں کو آزاد فرما دیا تھا جو اس غزوہ میں گرفتار ہوئے تھے۔ اس غزوہ میں مسلمانوں کو بہت زیادہ مالِ غنیمت ملا تھا، حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فتحِ مکہ میں مسلمان ہونے والےمُؤَلَّفَۃُ الْقُلُوبکو اس میں سے بہت زیادہ مال عطا فرمایا تھا۔‘‘حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ وہ لوگ مانگتے ہوئے حضورعَلَیْہِ السَّلَامسے چمٹ گئے۔مُفَسِّرِ شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”یہ لوگ حضور سے ایسے لپٹ گئے تھے جیسے فقراءومساکین ایک کریم غنی کو گھیر لیں، حضور کسی منگتے کو ہٹایا نہیں کرتے۔آپعَلَیْہِ السَّلَامنے ان لوگوں سے فرمایا کہ اگر میرے پاس ان خاردار درختوں کے برابر اونٹ ہوتے تو میں وہ بھی تمہارے درمیان تقسیم کردیتا۔’’ بے شک اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جب حضورعَلَیْہِ السَّلَاماپنا ذاتی مال لوگوں میں تقسیم کرنے میں فراخ دلی کا مظاہرہ فرماتے تھے تو پھر مالِ غنیمت تو بدرجَۂ اَولیٰ کھلے دل سے ان لوگوں میں تقسیم فرماتے۔‘‘حضور کے خصائلِ حمیدہ:حدیثِ پاک کے آخر میں بیان ہوا کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا کہ نہ تم مجھے بخیل پاتے، نہ جھوٹا اور نہ بزدل۔مرآۃ المناجیح میں ہے:یہاں شجاعت، صدق کا ذکر اپنے فضائل کی تکمیل کے لیے بیان فرمایا یعنی مجھےاللّٰہتعالیٰ نے ان تین عیبوں سے بری کیا بخل، بزدلی، جھوٹ۔ حضورِ انورسخی نہیں بلکہ جواد ہیں، خود نہ کھائیں زمانہ بھر کو کھلائیں۔شعروہ آقا جو کہ خودکھائےکھجوریں اورغلاموں کو……کھلائے نعمتیں دنیا کی کب ایسا کہیں دیکھا
∞حضرت سَیِّدُنا عبد
اللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا یہ ارشاد (یعنی ”تم مجھے نہ بخیل پاؤ گے نہ جھوٹا اور نہ بزدل“)جَوَامِعُ الْکَلِمْسے ہے۔کیونکہ اَخلاقِ حَسنہ کے بنیادی اُصول حکمت، جود و کرم اور شجاعت ہیں تو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے بخیل نہ ہونے سے جود و کرم، بزدل نہ ہونے سے شجاعت و بہادری اور جھوٹا نہ ہونے سے حکمت کی طرف اشارہ فرمایا، الغرض حضورعَلَیْہِ السَّلَامنہ تو بخیل تھے اور نہ بزدل اور نہ کبھی آپ کی زبانِ مبارک پر خلافِ واقعہ بات آئی۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”مذکورہ حدیثِ پاک میں بُری صفات کی مذمت بیان کی گئی ہے اور اسی لیے مسلمانوں کے پیشوا کے لیے مناسب نہیں ہے کہ اس میں بخل، جھوٹ اور بزدلی جیسی کوئی بھی صفت پائی جائے۔ مذکورہ حدیثِ پاک میں حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے اَخلاقِ حسنہ کو بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے دیہاتیوں کی طرف سے تکلیف پہنچنے کے باوجود حِلم،حُسنِ اَخلاق، جُودو سخاوت اور صبر کا مظاہرہ فرمایا۔“عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”جب کسی بلند مرتبہ شخص کو بے علم لوگوں کی طرف سے بدگمانی کا خوف ہو تو اس کے لیے لوگوں سے اپنی اچھی صفات بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں اور بخل، بزدلی اور جھوٹ ایسی مذموم صفات ہیں کہ یہ قوم کے سردار میں نہیں ہونی چاہئیں اور جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک بھی صفت ہو اُسے مسلمانوں کا حاکم اور خلیفہ نہ بنایا جائے اور اسی طرح جس شخص میں جھوٹ بولنے کی صفت ہو اُسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے دین میں امام نہیں بنائیں گے۔“مدنی گلدستہ’’عفو و کرم‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
حضور
عَلَیْہِ السَّلَامان لوگوں کے ساتھ بھی حُسنِ اَخلاق اور نرمی سے پیش آتے تھے جن سے آپ کو تکلیف پہنچتی تھی۔
(1) غزوۂ حنین کے تمام قیدیوں کو حضور
عَلَیْہِ السَّلَامنے رہا کردیا تھا اور اس غزوہ سے حاصل ہونے والے مال غنیمت میں سے بہت زیادہ فتحِ مکہ میں مسلمان ہونے والےمُؤَلَّفَۃُ الْقُلُوْبکو عطا فرمایا تھا۔
(2) حضورنبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی سائل کو ہٹاتے نہیں تھے اسی لیے کچھ دیہاتی حضور سے مانگتے ہوئے ایسے لپٹ گئے جیسے فقراء و مساکین ایک کریم غنی کو گھیر لیتے ہیں۔
حضور
عَلَیْہِ السَّلَامسخی نہیں بلکہ جواد ہیں، کیونکہ سخی وہ ہوتا ہے جو خود بھی کھائے اور دوسروں کو بھی کھلائے لیکن جواد وہ ہوتا ہے جو خود نہ کھائے بلکہ دوسروں کو کھلائے۔
حضور
عَلَیْہِ السَّلَامہر طرح کی بُری صفات سے پاک ہیں اور اَخلاقِ حسنہ کے جامع ہیں۔
(3) لوگوں کو بدگمانی سے بچانے کے لیے ان کے سامنے اپنی اچھائیاں بیان کرنے میں حرج نہیں ہے۔
(4) ایسے شخص کو مسلمانوں کا خلیفہ نہ بنایا جائے جس میں بخل، جھوٹ اور بزدلی جیسی صفات ہوں۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں حُسنِ اَخلاق اور سخاوت کی نعمت سے سرفراز فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 555