Main Icon

باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 561

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ تَصَدَّقَ بعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللهُ اِلَّا الطَّیِّبَ فَاِنَّ اللهَ يَقْبَلُهَا بِيَمِيْنِهِ ثُمَّ يُرَبِّيْهَا لِصَاحِبِهَا كَمَا يُرَبِّيْ اَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حَتّٰى تَكُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ.

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من تصدق بعدل تمرة من كسب طيب ولا يقبل الله الا الطیب فان الله يقبلها بيمينه ثم يربيها لصاحبها كما يربي احدكم فلوه حتى تكون مثل الجبل.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”جو شخص اپنی پاکیزہ کمائی میں سے ایک کھجور کے برابر بھی صدقہ دیتا ہےاوراللّٰہتعالیٰ پاکیزہ چیز ہی قبول فرماتا ہے تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ(اپنے شایانِ شان) اس صدقہ کو اپنے دائیں دستِ قدرت میں لیتا ہے پھر اسے صدقہ دینے والے کے لیے بڑھاتا رہتا ہےجس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچے کی پرورش کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ صدقہ پہاڑ کی طرح ہو جاتا ہے۔“

شرح حدیث

صدقہ کب قبول ہوگا؟مذکورہ حدیثِ پاک میں پاکیزہ کمائی سے صدقہ کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ پاکیزہ کمائی سے مراد وہ حلال رزق ہے کہ جو انسان کو شرعی اصولوں کے مطابق صنعت و تجارت یا زراعت یا اس کے علاوہ کسی اور حلال ذریعے سے حاصل ہو جیساکہ وراثت یا تحفہ میں ملے تو ایسے مال سے کھجور یا کھجور کی مقدار و قیمت کے برابر جو چیزاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں صدقہ کی جاتی ہے تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس معمولی چیز کو بڑھاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ پہاڑ کی مثل ہو جاتی ہے۔حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّپاک چیز ہی قبول فرماتا ہے یعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں وہی صدقہ، خیرات اور حج و قربانی مقبول ہے جو حلال مال سے کی جائے۔مُفَسِّرشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یہ بہت ہی اہم قانون ہے کہ خیرات حلال کمائی سے کی جائے تب ہی قبول ہوگی، حتی کہ حج بھی طیب و پاک کمائی سے کرے۔ یہاں دو قاعدے یاد رکھنا چاہئیں: ایک یہ کہ مال مخلوط سے اجرت، صدقہ، دعوت وغیرہ لینا جائز ہے، دیکھو موسیٰعَلَیْہِ السَّلَامنے فرعون کے ہاں اورحضورِ انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ابو طالب کے ہاں پرورش پائی جن کا مال مخلوط تھا، اگر اس مال پر حرام کے احکام جاری ہوتے تو رب تعالیٰ اپنے ان محبوبوں کو وہاں پرورش نہ کراتا۔ دوسرا یہ کہ مال حرام دو قسم کا ہے: ایک وہ جو انسان کی ملکیت میں آتا ہی نہیں جیسے زنا کی اجرت، سود کا پیسہ اوربیع باطل کے معاوضے، سُؤر شراب وغیرہ کی قیمتیں۔ دوسرا وہ کہ مالک کی ملک میں آجاتاہے اگرچہ مالک اس کاروبار پر گنہگار ہوتا ہےجیسے بیع بالشرط وغیرہ تمام فاسد بیعوں کی قیمت اور ناجائز پیشوں(گانے بجانے، داڑھی مونڈنے وغیرہ) کی اجرت۔بنیت ثواب حرام مال صدقہ کرنا کفر ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بے شکاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات پاک ہے اور وہ پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے، نیکیاں گناہوں کو مٹادیتی ہیں اور صدقہ کرنا نیکی ہے لیکن یہ صدقہ اسی صورت گناہوں کو مٹائے گا جبکہ یہ حلال مال سے کیا جائے کیونکہ پاک پانی ہی نجس کپڑے کو پاک کرسکتا ہے ناپاک نہیں، ایسے ہی حلال و طیب مال کا صدقہ گناہوں کو مٹائے گا حرام مال کا صدقہ نہیں بلکہ حرام مال سے صدقہ کرنا تو گناہ کا باعث ہے اور بعض صورتوں میں تو کفر بھی ہو جاتا ہے چنانچہ،عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں: ”حرام مال سے صدقہ کرنا برا ہے اوراللّٰہتعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا، بلکہ ہمارے بعض علماء فرماتے ہیں کہ جس نے حرام مال سے صدقہ کیا اور اس پر ثواب کی امید رکھی تو اس نے کفر کیا اور جس فقیر کو یہ صدقہ دیا گیا اس نے یہ جانتے ہوئے کہ حرام مال ہے پھر بھی دینے والے کے لیے دعا کی تو اس نے بھی کفر کیا۔“حدیث پاک میں بیان ہوا کہ صدقہ کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاپنے دستِ قدرت میں لیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے قبول فرماتا ہے،اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاعضاء جوارح اور جسم و جسمانیت سے منزہ ہے یہاں سمجھانے کے لیے سیدھے ہاتھ کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ ہم اور آپ اپنی پسندیدہ چیزیں دائیں ہاتھ میں لیتے ہیں اسی طرح یہاں پراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رضامندی اور حسن قبول کو سیدھے ہاتھ میں لینے سے تعبیر کیا گیا ہے۔( ) نیز حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّتمہارے صدقہ کو بڑھاتا رہتا ہے جس طرح تم اپنے گھوڑے کے بچے کی پرورش کرتے ہو یہاں تک کہ وہ صدقہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مال و نیتِ خیر کا صدقہ رضائے الٰہی کا باعث ہے اور وہ صدقہ کے وقت سے لے کر قیامت تک بھاری ہوتا رہے گا حتی کہ میزان میں سارے گناہوں پر غالب آجائے گا جیسے اچھی زمین میں بوئی ہوئی ادرک آلو وغیرہ۔ اس حدیث کی تائید اس آیت سے ہے: (یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِؕ)(پ۳،البقرۃ:۲۷۶)
( ترجمۂ کنزالایمان:
اللّٰہہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو۔)مدنی گلدستہ’’پاک مال‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں پاکیزہ کمائی سے صدقہ کرنا چاہیے اگرچہ صدقہ کی مقدار کم ہی کیوں نہ ہو۔
(2) پاکیزہ کمائی سے مراد وہ حلال رزق ہے جو انسان کو شرعی اصولوں کے مطابق صنعت و تجارت، زراعت، ملازمت، وراثت یا اس کے علاوہ کسی اور حلال ذریعے سے حاصل ہو۔
(3) حرام مال سے صدقہ کرنا حرام ہے اور اگر اس پر ثوا ب کی نیت کی تو کفر ہے۔
(4) صدقہ گناہوں کو مٹاتا ہے لیکن صدقہ اسی صورت گناہوں کو مٹائے گا جبکہ یہ حلال مال سے کیا جائے۔
(5) مال مخلوط سے اجرت، صدقہ اور دعوت وغیرہ لینا جائز ہے۔
(6) اچھی نیت سے کھجور کے برابر دیا ہوا صدقہ رضائے الٰہی کا باعث ہے اور وہ صدقہ کے وقت سے لے کر قیامت تک بھاری ہوتا رہے گا حتی کہ پہاڑ کی مثل ہو جائے گا۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اچھی نیت کے ساتھ حلال مال سے صدقہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں حرام مال سے محفوظ فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 561