- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- حدیث نمبر 553
باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 553
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: مَا سُئِلَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْاِسْلَامِ شَيْئًا اِلَّا اَعْطَاهُ وَلَقَدْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَاَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَرجَعَ اِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ: يَا قَوْمِ! اَسْلِمُوْا فَاِنَّ مُحَمَّدًا يُعطِيْ عَطَاءَ مَنْ لَا يَخْشَى الفَقْرَ. وَاِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيْدُ اِلَّا الدُّنْيَا فَمَا يَلْبَثُ اِلَّا يَسِيْرًا حَتّٰى يَكُوْنَ الْاِسْلَامُ اَحَبَّ اِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا.
عن انس رضی اللہ عنہ قال: ما سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم على الاسلام شيئا الا اعطاه ولقد جاءه رجل فاعطاه غنما بين جبلين فرجع الى قومه فقال: يا قوم! اسلموا فان محمدا يعطي عطاء من لا يخشى الفقر. وان كان الرجل ليسلم ما يريد الا الدنيا فما يلبث الا يسيرا حتى يكون الاسلام احب اليه من الدنيا وما عليها.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اسلام کے نام پر جس چیز کا بھی سوال کیا گیا آپعَلَیْہِ السَّلَامنے وہ عطا فرمائی، ایک شخص آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے اسے اتنی بکریاں عطا فرمائیں جو دو پہاڑوں کی درمیان کی جگہ کو بھر دیں، پھر وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا تو کہنے لگا:”اے میری قوم! مسلمان ہو جاؤ، بےشک حضرت محمدصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتو اس شخص کی طرح عطا فرماتے ہیں جسےفقر کا خوف ہی نہ ہو۔“(حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:)اور ایک شخص محض دنیا کے حُصُول کے لیے مسلمان ہوتا ہے لیکن زیادہ عرصہ نہیں گزرتا کہ اسلام اس کے نزدیک دنیا اور جو کچھ اس دنیا میں ہے ان سب سے زیادہ محبوب ہو جاتا ہے۔
شرح حدیث
اسلام کے نام پر ہر چیز عطا کردیتے:مذکورہ حدیثِ پاک میں حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی سخاوت اور اسلام کی محبت بیان کی گئی ہے کہ اسلام کے نام پر اگر کوئی آپعَلَیْہِ السَّلَامسے کسی چیز کا تقاضہ کرتا تو آپعَلَیْہِ السَّلَاماسے وہ چیز عطا فرماتے۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”حضورعَلَیْہِ السَّلَامسے اسلام لانے کے لیے دنیا کی کوئی بھی بڑی یا چھوٹی چیز کا سوال کیا جاتا تو آپعَلَیْہِ السَّلَاماس شخص کی اسلام میں رغبت پیدا کرنے، اسے جہنم کی آگ سے بچانے اور اس پر رحم کرتے ہوئے وہ چیز عطا فرمادیتے۔“
حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے ایک شخص کو اتنی بکریاں عطا فرمائیں کہ جن سے دو پہاڑوں کے درمیان کی خالی جگہ بھر جائے۔ ایک روایت میں ہے کہ اس شخص نے حضورعَلَیْہِ السَّلَامسے ان بکریوں کا سوال کیا تھا، یہ سب بکریاں حضورِاَنور کی اپنی تھیں کہ غزوۂ حُنَیْن میں مال غنیمت کے خُمس میں اتنی بکریاں آپ کو ملی تھیں۔ بعض روایات میں ہے کہ سائل نے حضورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی یہ بکریاں دیکھ کر عرض کیا تھا کہیارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! حضور تو بڑے مالدار ہوگئے فرمایا کیسے؟ اس نے عرض کیا کہ اتنی زیادہ بکریاں آپ کی اکیلے کی مِلک ہیں،فرمایا جا سب تجھے عطا فرمادیں، لے جا،وہ حیرت سے حضور کا منہ تکتا رہ گیا۔جب اس شخص کو حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے اس کی خواہش کے مطابق عطا کردیا تو وہ آپعَلَیْہِ السَّلَامکے جود و کرم، آپ کے توکل اور زُہد سےمُتَعَجِّبہو کر اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم! مسلما ن ہوجاؤ کیونکہ اسلام بہترین اَخلاق کی طرف ہدایت دیتا ہے۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں: ”اگر تم یہ کہو کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی سخاوت اسلام کی حقانیت پر کس طرح دلیل ہو سکتی ہے تو میں کہوں گا کہ اِنسان فطری طورپر فقر سے ڈرتا ہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے: (اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ)(پ۳،البقرۃ:۲۶۸)(ترجمۂ کنزالایمان:شیطان تمہیں اندیشہ دلاتا ہے محتاجی کا۔)اور کسی شخص کا نبوت کا دعویٰ کرنے کے ساتھ اس قدر عطائیں کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اُسے اس ذات پر کامل بھروسہ اور یقین ہے جس نے اسے مخلوق کو دین کی دعوت دینے کے لیے بھیجا ہے اور ایسا کامل یقین نبی ہی کی صفت ہے۔‘‘(کیونکہ نبوت کا جھوٹا مدعی سخاوت کرنے کے بجائے بخل سے کام لیتا ہے۔)عطا کے مختلف دروازے:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”خیال رہے کہ داتا سخی ہے مگر اس کی دَین(یعنی عطا) کے دروازے مختلف ہیں کسی کو جمال دکھا کر ایمان بخش دیا، کسی کو جود و نَوال یعنی سخاوت دکھا کر اپنا مَتوالا بنالیا، کسی کو میدانِ جہاد میں جلالِ اِلٰہی دکھاکر مؤمن بنا دیا ہم جیسے دور اُفتادہ غلاموں کو اپنا نام سناکر ایمان دے دیا۔ ان کا نام، ان کے کام، ان کی صورت، ان کی سیرت سب ہی ایمان بخشنے کا ذریعہ ہیں، اس بَدْوی نے اسی عطا کو حضور کی نَبوت کی دلیل بنایا مع اپنی قوم کے مسلمان ہوگیا وہ بکریاں کیا ملیں کہ انہیں ایمان مل گیا۔ خیال رہے کہ کسی سے مانگنا عیب ہے اس سے منع فرمایا گیا ہے مگراللہرسول سے مانگنا ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے۔حدیثِ پاک کے آخر میں بیان ہوا کہ بعض اوقات کوئی شخص صرف دنیا کے حصول کے لیے اسلام لاتا لیکن اسلام میں کچھ عرصہ رہنے کے بعد اسے اسلام دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوجاتا تھا۔اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اولاً صرف دنیا کے حصول کے لیے اسلام کا اظہار کرتا اور اس کے دل میں اسلام لانے کی کوئی اچھی نیت نہ ہوتی تھی لیکن پھر اسلام میں تھوڑا ہی عرصہ گزارنے کے بعد نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی برکت اور اسلام کے نور کی وجہ سے اس کا سینہ حقیقتِ ایمان سے کشادہ ہو جاتا اور وہ اپنے دل سے اسلام قبول کرلیتا اور اس وقت اس کے نزدیک اسلام دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہو جاتا ۔مدنی گلدستہ’’جود و کرم‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
حضورعَلَیْہِ السَّلَامسے اسلام کے نام پر جو کچھ مانگا جاتا آپ عطا فرمادیتے ۔
(1) نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہت بڑے سخی تھے، سخاوت کرنے میں فقر کا اندیشہ نہ کرتے اور سائل کو اس کے گمان سے بھی زیادہ عطا فرماتے۔
حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا جود وکرم، توکُّل اور زُہد دیکھ کر غیرمسلم مسلمان ہو جاتے۔
(2) فقر کا خوف کیے بغیر خوب سخاوت کرنا بھی حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا معجزہ ہے کیونکہ انسان فطری طورپر فقر سے ڈرتا ہے لیکن نبی خدا پر توکل کے سبب عطا کرنے میں کمی نہیں کرتا۔
(3) لوگوں سے مانگنا عیب ہے مگراللہرسول سے مانگنا ہم سب کے لیے باعِثِ فخر ہے۔
(4) حضور کی عطا کے دروازے مختلف ہیں کسی کو جمال دکھا کر ایمان بخش دیا، کسی کو سخاوت دکھا کر اپنا مَتوالا بنالیا، کسی کو میدانِ جہاد میں جلالِ الٰہی دکھاکر مؤمن بنا دیا، ہم جیسے دور اُفتادہ غلاموں کو اپنا نام سناکر ایمان دے دیا۔
(5) ابتدائے اسلام میں بعض لوگ صِرف دنیا کا مال حاصل کرنے کے لیے ایمان لاتے لیکن تھوڑا ہی عرصہ گزرنے کے بعد نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی برکت اور اسلام کے نور سے ان کے دل جگمگا اُٹھتے تھے اور پھر وہ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ اسلام سے محبت کرتے تھے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں دِین کے لیے سخاوت کرنے اور دنیا کی ہر چیز پر اسلام کو فوقیت دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 553