Main Icon

باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 553

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: مَا سُئِلَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْاِسْلَامِ شَيْئًا اِلَّا اَعْطَاهُ وَلَقَدْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَاَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَرجَعَ اِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ: يَا قَوْمِ! اَسْلِمُوْا فَاِنَّ مُحَمَّدًا يُعطِيْ عَطَاءَ مَنْ لَا يَخْشَى الفَقْرَ. وَاِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيْدُ اِلَّا الدُّنْيَا فَمَا يَلْبَثُ اِلَّا يَسِيْرًا حَتّٰى يَكُوْنَ الْاِسْلَامُ اَحَبَّ اِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا.

عن انس رضی اللہ عنہ قال: ما سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم على الاسلام شيئا الا اعطاه ولقد جاءه رجل فاعطاه غنما بين جبلين فرجع الى قومه فقال: يا قوم! اسلموا فان محمدا يعطي عطاء من لا يخشى الفقر. وان كان الرجل ليسلم ما يريد الا الدنيا فما يلبث الا يسيرا حتى يكون الاسلام احب اليه من الدنيا وما عليها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اسلام کے نام پر جس چیز کا بھی سوال کیا گیا آپعَلَیْہِ السَّلَامنے وہ عطا فرمائی، ایک شخص آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے اسے اتنی بکریاں عطا فرمائیں جو دو پہاڑوں کی درمیان کی جگہ کو بھر دیں، پھر وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا تو کہنے لگا:”اے میری قوم! مسلمان ہو جاؤ، بےشک حضرت محمدصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتو اس شخص کی طرح عطا فرماتے ہیں جسےفقر کا خوف ہی نہ ہو۔“(حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:)اور ایک شخص محض دنیا کے حُصُول کے لیے مسلمان ہوتا ہے لیکن زیادہ عرصہ نہیں گزرتا کہ اسلام اس کے نزدیک دنیا اور جو کچھ اس دنیا میں ہے ان سب سے زیادہ محبوب ہو جاتا ہے۔

شرح حدیث

اسلام کے نام پر ہر چیز عطا کردیتے:مذکورہ حدیثِ پاک میں حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی سخاوت اور اسلام کی محبت بیان کی گئی ہے کہ اسلام کے نام پر اگر کوئی آپعَلَیْہِ السَّلَامسے کسی چیز کا تقاضہ کرتا تو آپعَلَیْہِ السَّلَاماسے وہ چیز عطا فرماتے۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”حضورعَلَیْہِ السَّلَامسے اسلام لانے کے لیے دنیا کی کوئی بھی بڑی یا چھوٹی چیز کا سوال کیا جاتا تو آپعَلَیْہِ السَّلَاماس شخص کی اسلام میں رغبت پیدا کرنے، اسے جہنم کی آگ سے بچانے اور اس پر رحم کرتے ہوئے وہ چیز عطا فرمادیتے۔“
حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ حضور
عَلَیْہِ السَّلَامنے ایک شخص کو اتنی بکریاں عطا فرمائیں کہ جن سے دو پہاڑوں کے درمیان کی خالی جگہ بھر جائے۔ ایک روایت میں ہے کہ اس شخص نے حضورعَلَیْہِ السَّلَامسے ان بکریوں کا سوال کیا تھا، یہ سب بکریاں حضورِاَنور کی اپنی تھیں کہ غزوۂ حُنَیْن میں مال غنیمت کے خُمس میں اتنی بکریاں آپ کو ملی تھیں۔ بعض روایات میں ہے کہ سائل نے حضورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی یہ بکریاں دیکھ کر عرض کیا تھا کہیارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! حضور تو بڑے مالدار ہوگئے فرمایا کیسے؟ اس نے عرض کیا کہ اتنی زیادہ بکریاں آپ کی اکیلے کی مِلک ہیں،فرمایا جا سب تجھے عطا فرمادیں، لے جا،وہ حیرت سے حضور کا منہ تکتا رہ گیا۔جب اس شخص کو حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے اس کی خواہش کے مطابق عطا کردیا تو وہ آپعَلَیْہِ السَّلَامکے جود و کرم، آپ کے توکل اور زُہد سےمُتَعَجِّبہو کر اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم! مسلما ن ہوجاؤ کیونکہ اسلام بہترین اَخلاق کی طرف ہدایت دیتا ہے۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں: ”اگر تم یہ کہو کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی سخاوت اسلام کی حقانیت پر کس طرح دلیل ہو سکتی ہے تو میں کہوں گا کہ اِنسان فطری طورپر فقر سے ڈرتا ہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے: (اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ)(پ۳،البقرۃ:۲۶۸)(ترجمۂ کنزالایمان:شیطان تمہیں اندیشہ دلاتا ہے محتاجی کا۔)اور کسی شخص کا نبوت کا دعویٰ کرنے کے ساتھ اس قدر عطائیں کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اُسے اس ذات پر کامل بھروسہ اور یقین ہے جس نے اسے مخلوق کو دین کی دعوت دینے کے لیے بھیجا ہے اور ایسا کامل یقین نبی ہی کی صفت ہے۔‘‘(کیونکہ نبوت کا جھوٹا مدعی سخاوت کرنے کے بجائے بخل سے کام لیتا ہے۔)عطا کے مختلف دروازے:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”خیال رہے کہ داتا سخی ہے مگر اس کی دَین(یعنی عطا) کے دروازے مختلف ہیں کسی کو جمال دکھا کر ایمان بخش دیا، کسی کو جود و نَوال یعنی سخاوت دکھا کر اپنا مَتوالا بنالیا، کسی کو میدانِ جہاد میں جلالِ اِلٰہی دکھاکر مؤمن بنا دیا ہم جیسے دور اُفتادہ غلاموں کو اپنا نام سناکر ایمان دے دیا۔ ان کا نام، ان کے کام، ان کی صورت، ان کی سیرت سب ہی ایمان بخشنے کا ذریعہ ہیں، اس بَدْوی نے اسی عطا کو حضور کی نَبوت کی دلیل بنایا مع اپنی قوم کے مسلمان ہوگیا وہ بکریاں کیا ملیں کہ انہیں ایمان مل گیا۔ خیال رہے کہ کسی سے مانگنا عیب ہے اس سے منع فرمایا گیا ہے مگراللہرسول سے مانگنا ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے۔حدیثِ پاک کے آخر میں بیان ہوا کہ بعض اوقات کوئی شخص صرف دنیا کے حصول کے لیے اسلام لاتا لیکن اسلام میں کچھ عرصہ رہنے کے بعد اسے اسلام دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوجاتا تھا۔اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اولاً صرف دنیا کے حصول کے لیے اسلام کا اظہار کرتا اور اس کے دل میں اسلام لانے کی کوئی اچھی نیت نہ ہوتی تھی لیکن پھر اسلام میں تھوڑا ہی عرصہ گزارنے کے بعد نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی برکت اور اسلام کے نور کی وجہ سے اس کا سینہ حقیقتِ ایمان سے کشادہ ہو جاتا اور وہ اپنے دل سے اسلام قبول کرلیتا اور اس وقت اس کے نزدیک اسلام دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہو جاتا ۔مدنی گلدستہ’’جود و کرم‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
حضور
عَلَیْہِ السَّلَامسے اسلام کے نام پر جو کچھ مانگا جاتا آپ عطا فرمادیتے ۔
(1) نبی کریم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہت بڑے سخی تھے، سخاوت کرنے میں فقر کا اندیشہ نہ کرتے اور سائل کو اس کے گمان سے بھی زیادہ عطا فرماتے۔
حضور
عَلَیْہِ السَّلَامکا جود وکرم، توکُّل اور زُہد دیکھ کر غیرمسلم مسلمان ہو جاتے۔
(2) فقر کا خوف کیے بغیر خوب سخاوت کرنا بھی حضور
عَلَیْہِ السَّلَامکا معجزہ ہے کیونکہ انسان فطری طورپر فقر سے ڈرتا ہے لیکن نبی خدا پر توکل کے سبب عطا کرنے میں کمی نہیں کرتا۔
(3) لوگوں سے مانگنا عیب ہے مگر
اللہرسول سے مانگنا ہم سب کے لیے باعِثِ فخر ہے۔
(4) حضور کی عطا کے دروازے مختلف ہیں کسی کو جمال دکھا کر ایمان بخش دیا، کسی کو سخاوت دکھا کر اپنا مَتوالا بنالیا، کسی کو میدانِ جہاد میں جلالِ الٰہی دکھاکر مؤمن بنا دیا، ہم جیسے دور اُفتادہ غلاموں کو اپنا نام سناکر ایمان دے دیا۔
(5) ابتدائے اسلام میں بعض لوگ صِرف دنیا کا مال حاصل کرنے کے لیے ایمان لاتے لیکن تھوڑا ہی عرصہ گزرنے کے بعد نبی کریم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی برکت اور اسلام کے نور سے ان کے دل جگمگا اُٹھتے تھے اور پھر وہ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ اسلام سے محبت کرتے تھے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں دِین کے لیے سخاوت کرنے اور دنیا کی ہر چیز پر اسلام کو فوقیت دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 553