Main Icon

باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 562

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِيْ بِفَلاَةٍ مِنَ الْاَرْضِ فَسَمِعَ صَوْتًا فِیْ سَحَابَةٍ اسْقِ حَدِيْقَةَ فُلَانٍ، فَتَنَحَّى ذٰلِكَ السَّحَابُ فَاَفْرَغَ مَاءَهُ فِيْ حَرَّةٍ، فَاِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشِّرَاجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتْ ذٰلِكَ الْمَاءَ كُلَّهُ، فَتَتَبَّعَ الْمَاءَ، فَاِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِيْ حَدِيْقَتِهِ يُحَوِّلُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَاللهِ! مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: فُلَانٌ، لِلْاِسْمِ الَّذِيْ سَمِعَ فِي السَّحَابَةِ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَاللهِ! لِمَ تَسْاَلُنِيْ عَنِ اِسْمِيْ؟ فَقَالَ:اِنِّيْ سَمِعْتُ صَوْتًا فِی السَّحَابِ الَّذِيْ هَذَا مَاؤُهُ يَقُوْلُ:اسْقِ حَدِيْقَةَ فُلَانٍ، لِاِسْمِكَ فَمَا تَصْنَعُ فِيْهَا. فَقَالَ:اَمَّا اِذْ قُلْتَ هَذَا، فَاِنِّي اَنْظُرُ اِلَى مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، فَاَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ وَآكُلُ اَنَا وَعِيَالِيْ ثُلُثًا وَاَرُدُّ فِيْهَا ثُلُثَهُ.

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: بينما رجل يمشي بفلاة من الارض فسمع صوتا فی سحابة اسق حديقة فلان، فتنحى ذلك السحاب فافرغ ماءه في حرة، فاذا شرجة من تلك الشراج قد استوعبت ذلك الماء كله، فتتبع الماء، فاذا رجل قائم في حديقته يحول الماء بمسحاته، فقال له: يا عبدالله! ما اسمك؟ قال: فلان، للاسم الذي سمع في السحابة، فقال له: يا عبدالله! لم تسالني عن اسمي؟ فقال:اني سمعت صوتا فی السحاب الذي هذا ماؤه يقول:اسق حديقة فلان، لاسمك فما تصنع فيها. فقال:اما اذ قلت هذا، فاني انظر الى ما يخرج منها، فاتصدق بثلثه وآكل انا وعيالي ثلثا وارد فيها ثلثه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”ایک شخص جنگل سے گزر رہاتھا کہ اس نے بادل میں سے ایک آواز سنی کہ ”فلاں کے باغ کو سیراب کرو۔“ یہ بادل ایک طرف ہو گیا اور ایک پتھریلی زمین میں اپنا پانی برسادیا۔ وہاں کے نالوں میں سے ایک نالے میں وہ سارا پانی جمع ہوگیا (اوربہنے لگا)۔ یہ شخص اس پانی کے پیچھے پیچھے چل پڑا (وہ پانی ایک باغ میں داخل ہوا) کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص باغ میں کھڑا اپنے پھاؤڑے سے پانی کو اِدھر اُدھر کررہا ہے، اس نے باغ والے سے پوچھا اےاللّٰہکے بندے تیرا نام کیا ہے؟ وہ بولا: فلاں۔یہ وہ ہی نام تھا جو اس نے بادل سے آنے والی آواز میں سنا تھا۔باغ والے نے کہا :اےاللّٰہکے بندے تو میرا نام کیوں پوچھ رہا ہے؟ اس نے کہا: جس بادل نے یہ پانی برسایا ہے میں نے اس بادل سے یہ آواز سُنی تھی، کوئی تیرا نام لے کر کہہ رہاتھا کہ فلاں کے باغ کو سیراب کردو ،تو تم اس باغ میں کیا کرتے ہو؟ اس نے کہا: جب تونے پوچھ ہی لیا ہے (تو سُن) میں اس کی پیداوار کا اندازہ کرتا ہوں پھر ایک تہائی صدقہ کرتا ہوں، ایک تہائی میں اور میرے گھروالے کھاتے ہیں اور ایک تہائی کو اس باغ میں خرچ کردیتا ہوں۔“

شرح حدیث

بادل کی گرج فرشتہ کی آواز ہے:مذکورہ حدیثِ پاک میں صدقہ و سخاوت کرنے والے شخص کی فضیلت اور اس پراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے احسان و اکرام کو بیان کیا گیا ہے۔ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ایک شخص نے جنگل سے گرزتے ہوئے بادلوں سے ایک آواز سنی کہ فلاں شخص کے باغ کو سیراب کردو۔ مُفَسِّرِشَہِیْرمفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”شاید یہ شخص اس زمانہ کے اولیاء میں سے ہوگا جس نے فرشتہ کی یہ آواز سنی اورسمجھ بھی لیا۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ بادل کی گرج ہی تھی، گرج فرشتہ کی آواز ہی ہوتی ہے جو بادلوں کو احکام دیتا ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ بادل پر فرشتہ مقرر ہے جس کے حکم سے بادل آتے جاتے برستے اور کھلتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض نیک بندوں کے طفیل بدوں پر بھی بارش ہوجاتی ہے۔“مزید فرماتے ہیں: ”سُبْحٰنَ ا اللّٰہ! اس نیک بندے کی کیسی عزت افزائی کی گئی کہ پانی ایک پتھریلے علاقہ پر برسایا گیا،پھر اسے ایک نالی میں جمع کیا گیا،اس نالی کے ذریعہ اس کے باغ میں پانی پہنچایا گیا خود بادل اس باغ پر نہ برسایا گیا جیسے کہ وہ گنہگار جو ایک بستی میں گناہ کرکے دوسری بستی میں کسی عالم کے پاس توبہ کرنے جارہا تھا رستہ میں مر گیا،رب تعالیٰ نے حکم دیا کہ یہ جس بستی سے قریب ہو اسی کے احکام اس پر جاری کیے جائیں، ناپا گیا تو بالکل بیچ میں تھا تو گناہ کی بستی پیچھے ہٹائی گئی اور توبہ کی بستی آگے بڑھائی، خود اس کی لاش کو حرکت نہ دی گئی اس کے احترام کی وجہ سے۔ اس نالہ کے کنارے والے کھیتوں کو بھی اس کے طفیل پانی مل گیا ہوگا۔“باغ کو تین حصوں میں تقسیم کردیا:حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ یہ شخص باغ میں کھڑے ہوئے شخص کے پاس گیا اور اس کانام پوچھا اس شخص نے فلاں نام بتایا، یہ وہی نام تھا جو اس نے بادلوں سے آنے والی آواز میں سنا تھا، ”غالِب یہ ہے کہ خود حضور انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ہی اس کا نام نہ بتایا بلکہ فلاں فرما دیا یہ راوی نہیں بھولے ہیں اور فلاں فرمانا اسی لیے ہےکہ نام لینے کی ضرورت نہ تھی۔اس سے حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی بے علمی یا کم علمی ثابت نہیں ہوتی۔“ باغ والے نے پوچھا تم میرا نام کیوں جاننا چاہتے ہو؟ وہ بولا: جس پانی سے تم باغ کو سیراب کررہے ہو وہ جس بادل نے برسایا ہے میں نے اس بادل سے اس طرح کی آواز سنی کہ کوئی تمہارا نام لے کر کہہ رہا تھا کہ اس کے باغ کو سیراب کردو، میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے اس کرم کے بارے میں تم سے جاننا چاہتا ہوں کہ تم اس باغ میں ایسا کیا عمل کرتے ہو، ”یعنی رب تعالیٰ کے ہاں تیری یہ عزت کہ تیرے نام کی دہائی بادلوں میں ہے اور تیرے لیے دور سے بادل لائے جاتے ہیں، تیری کسی نیکی کی وجہ سے ہے بتا وہ خاص نیکی کون سی تو کرتا ہے؟“ باغ والے نے کہا جب تونے مجھ سے اس بارے میں پوچھ ہی لیا ہے تو سُن میں اس باغ سے حاصل ہونے والی پیداوار کو تین حصوں میں تقسیم کرتا ہوں، ایک حصہ صدقہ کرتا ہوں، ایک حصہ اپنی ذات اور اپنے گھر والوں پر خرچ کرتا ہوں اور بقیہ ایک حصے سے اسی کھیت میں کاشت کاری کرتا ہوں۔”یعنی میرے پاس اور تو کوئی نیکی نہیں صرف یہ ہے کہ اس کی پیداوار گناہ میں خرچ نہیں کرتا، اپنے بچوں سے روکتانہیں خدا کا حق بھولتا نہیں ساری ایک دم خرچ نہیں کردیتا۔ اس کا تہائی خیرات کرنا نفلی صدقہ بھی تھا ورنہ بنی اسرائیل کے ہاں ہر مال کی زکوٰۃ چوتھائی حصہ تھی، ہمارے ہاں پیداوار کی زکوٰۃ دسواں یا بیسواں حصہ ہے اور چاندی سونے وغیرہ کی چالیسواں حصہ۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ اپنی خفیہ نیکیاں کسی کو بتانا تاکہ وہ بھی اس پر عمل کرے ریا نہیں بلکہ تبلیغ ہے فخرنہیں بلکہ رب تعالیٰ کا شکر ہے۔‘‘نیز معلوم ہوا کہ کسی کی چھپی ہوئی نیکیاں پوچھنا تاکہ خود بھی وہ نیکی کرے جائز بلکہ بہتر ہے۔مدنی گلدستہ’’سخی بنو‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) بادل کی گرج اس فرشتہ کی آواز ہوتی ہے جو بادلوں کو حکم دیتا ہے۔
(2) بعض نیک لوگوں کے طفیل بدوں پر بھی بارش برس جاتی ہے۔
(3) اپنے مال سے
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے صدقہ کرنے اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات پوری کرنے والے کے مال میں برکت ہوتی ہے اور اس پراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت نازل ہوتی ہے۔
(4) اپنے مال کو بُرے کاموں میں لگا کر ضائع کرنے سے بچنا چاہیے۔
(5) اپنی پوشیدہ نیکیاں کسی کو اس لیے بتانا تاکہ وہ بھی عمل کرے ریا کاری نہیں بلکہ نیکی کی دعوت ہے۔
(6) کسی کی چھپی ہوئی نیکیاں اس لیے پوچھنا تاکہ خود اس پر عمل کرے بہت اچھی بات ہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اپنا مال صدقہ خیرات کرنے اور اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 562