- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- حدیث نمبر 562
باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 562
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِيْ بِفَلاَةٍ مِنَ الْاَرْضِ فَسَمِعَ صَوْتًا فِیْ سَحَابَةٍ اسْقِ حَدِيْقَةَ فُلَانٍ، فَتَنَحَّى ذٰلِكَ السَّحَابُ فَاَفْرَغَ مَاءَهُ فِيْ حَرَّةٍ، فَاِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشِّرَاجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتْ ذٰلِكَ الْمَاءَ كُلَّهُ، فَتَتَبَّعَ الْمَاءَ، فَاِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِيْ حَدِيْقَتِهِ يُحَوِّلُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَاللهِ! مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: فُلَانٌ، لِلْاِسْمِ الَّذِيْ سَمِعَ فِي السَّحَابَةِ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَاللهِ! لِمَ تَسْاَلُنِيْ عَنِ اِسْمِيْ؟ فَقَالَ:اِنِّيْ سَمِعْتُ صَوْتًا فِی السَّحَابِ الَّذِيْ هَذَا مَاؤُهُ يَقُوْلُ:اسْقِ حَدِيْقَةَ فُلَانٍ، لِاِسْمِكَ فَمَا تَصْنَعُ فِيْهَا. فَقَالَ:اَمَّا اِذْ قُلْتَ هَذَا، فَاِنِّي اَنْظُرُ اِلَى مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، فَاَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ وَآكُلُ اَنَا وَعِيَالِيْ ثُلُثًا وَاَرُدُّ فِيْهَا ثُلُثَهُ.
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: بينما رجل يمشي بفلاة من الارض فسمع صوتا فی سحابة اسق حديقة فلان، فتنحى ذلك السحاب فافرغ ماءه في حرة، فاذا شرجة من تلك الشراج قد استوعبت ذلك الماء كله، فتتبع الماء، فاذا رجل قائم في حديقته يحول الماء بمسحاته، فقال له: يا عبدالله! ما اسمك؟ قال: فلان، للاسم الذي سمع في السحابة، فقال له: يا عبدالله! لم تسالني عن اسمي؟ فقال:اني سمعت صوتا فی السحاب الذي هذا ماؤه يقول:اسق حديقة فلان، لاسمك فما تصنع فيها. فقال:اما اذ قلت هذا، فاني انظر الى ما يخرج منها، فاتصدق بثلثه وآكل انا وعيالي ثلثا وارد فيها ثلثه.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”ایک شخص جنگل سے گزر رہاتھا کہ اس نے بادل میں سے ایک آواز سنی کہ ”فلاں کے باغ کو سیراب کرو۔“ یہ بادل ایک طرف ہو گیا اور ایک پتھریلی زمین میں اپنا پانی برسادیا۔ وہاں کے نالوں میں سے ایک نالے میں وہ سارا پانی جمع ہوگیا (اوربہنے لگا)۔ یہ شخص اس پانی کے پیچھے پیچھے چل پڑا (وہ پانی ایک باغ میں داخل ہوا) کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص باغ میں کھڑا اپنے پھاؤڑے سے پانی کو اِدھر اُدھر کررہا ہے، اس نے باغ والے سے پوچھا اےاللّٰہکے بندے تیرا نام کیا ہے؟ وہ بولا: فلاں۔یہ وہ ہی نام تھا جو اس نے بادل سے آنے والی آواز میں سنا تھا۔باغ والے نے کہا :اےاللّٰہکے بندے تو میرا نام کیوں پوچھ رہا ہے؟ اس نے کہا: جس بادل نے یہ پانی برسایا ہے میں نے اس بادل سے یہ آواز سُنی تھی، کوئی تیرا نام لے کر کہہ رہاتھا کہ فلاں کے باغ کو سیراب کردو ،تو تم اس باغ میں کیا کرتے ہو؟ اس نے کہا: جب تونے پوچھ ہی لیا ہے (تو سُن) میں اس کی پیداوار کا اندازہ کرتا ہوں پھر ایک تہائی صدقہ کرتا ہوں، ایک تہائی میں اور میرے گھروالے کھاتے ہیں اور ایک تہائی کو اس باغ میں خرچ کردیتا ہوں۔“
شرح حدیث
بادل کی گرج فرشتہ کی آواز ہے:مذکورہ حدیثِ پاک میں صدقہ و سخاوت کرنے والے شخص کی فضیلت اور اس پراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے احسان و اکرام کو بیان کیا گیا ہے۔ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ایک شخص نے جنگل سے گرزتے ہوئے بادلوں سے ایک آواز سنی کہ فلاں شخص کے باغ کو سیراب کردو۔ مُفَسِّرِشَہِیْرمفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”شاید یہ شخص اس زمانہ کے اولیاء میں سے ہوگا جس نے فرشتہ کی یہ آواز سنی اورسمجھ بھی لیا۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ بادل کی گرج ہی تھی، گرج فرشتہ کی آواز ہی ہوتی ہے جو بادلوں کو احکام دیتا ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ بادل پر فرشتہ مقرر ہے جس کے حکم سے بادل آتے جاتے برستے اور کھلتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض نیک بندوں کے طفیل بدوں پر بھی بارش ہوجاتی ہے۔“مزید فرماتے ہیں: ”سُبْحٰنَ ا اللّٰہ! اس نیک بندے کی کیسی عزت افزائی کی گئی کہ پانی ایک پتھریلے علاقہ پر برسایا گیا،پھر اسے ایک نالی میں جمع کیا گیا،اس نالی کے ذریعہ اس کے باغ میں پانی پہنچایا گیا خود بادل اس باغ پر نہ برسایا گیا جیسے کہ وہ گنہگار جو ایک بستی میں گناہ کرکے دوسری بستی میں کسی عالم کے پاس توبہ کرنے جارہا تھا رستہ میں مر گیا،رب تعالیٰ نے حکم دیا کہ یہ جس بستی سے قریب ہو اسی کے احکام اس پر جاری کیے جائیں، ناپا گیا تو بالکل بیچ میں تھا تو گناہ کی بستی پیچھے ہٹائی گئی اور توبہ کی بستی آگے بڑھائی، خود اس کی لاش کو حرکت نہ دی گئی اس کے احترام کی وجہ سے۔ اس نالہ کے کنارے والے کھیتوں کو بھی اس کے طفیل پانی مل گیا ہوگا۔“باغ کو تین حصوں میں تقسیم کردیا:حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ یہ شخص باغ میں کھڑے ہوئے شخص کے پاس گیا اور اس کانام پوچھا اس شخص نے فلاں نام بتایا، یہ وہی نام تھا جو اس نے بادلوں سے آنے والی آواز میں سنا تھا، ”غالِب یہ ہے کہ خود حضور انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ہی اس کا نام نہ بتایا بلکہ فلاں فرما دیا یہ راوی نہیں بھولے ہیں اور فلاں فرمانا اسی لیے ہےکہ نام لینے کی ضرورت نہ تھی۔اس سے حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی بے علمی یا کم علمی ثابت نہیں ہوتی۔“ باغ والے نے پوچھا تم میرا نام کیوں جاننا چاہتے ہو؟ وہ بولا: جس پانی سے تم باغ کو سیراب کررہے ہو وہ جس بادل نے برسایا ہے میں نے اس بادل سے اس طرح کی آواز سنی کہ کوئی تمہارا نام لے کر کہہ رہا تھا کہ اس کے باغ کو سیراب کردو، میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے اس کرم کے بارے میں تم سے جاننا چاہتا ہوں کہ تم اس باغ میں ایسا کیا عمل کرتے ہو، ”یعنی رب تعالیٰ کے ہاں تیری یہ عزت کہ تیرے نام کی دہائی بادلوں میں ہے اور تیرے لیے دور سے بادل لائے جاتے ہیں، تیری کسی نیکی کی وجہ سے ہے بتا وہ خاص نیکی کون سی تو کرتا ہے؟“ باغ والے نے کہا جب تونے مجھ سے اس بارے میں پوچھ ہی لیا ہے تو سُن میں اس باغ سے حاصل ہونے والی پیداوار کو تین حصوں میں تقسیم کرتا ہوں، ایک حصہ صدقہ کرتا ہوں، ایک حصہ اپنی ذات اور اپنے گھر والوں پر خرچ کرتا ہوں اور بقیہ ایک حصے سے اسی کھیت میں کاشت کاری کرتا ہوں۔”یعنی میرے پاس اور تو کوئی نیکی نہیں صرف یہ ہے کہ اس کی پیداوار گناہ میں خرچ نہیں کرتا، اپنے بچوں سے روکتانہیں خدا کا حق بھولتا نہیں ساری ایک دم خرچ نہیں کردیتا۔ اس کا تہائی خیرات کرنا نفلی صدقہ بھی تھا ورنہ بنی اسرائیل کے ہاں ہر مال کی زکوٰۃ چوتھائی حصہ تھی، ہمارے ہاں پیداوار کی زکوٰۃ دسواں یا بیسواں حصہ ہے اور چاندی سونے وغیرہ کی چالیسواں حصہ۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ اپنی خفیہ نیکیاں کسی کو بتانا تاکہ وہ بھی اس پر عمل کرے ریا نہیں بلکہ تبلیغ ہے فخرنہیں بلکہ رب تعالیٰ کا شکر ہے۔‘‘نیز معلوم ہوا کہ کسی کی چھپی ہوئی نیکیاں پوچھنا تاکہ خود بھی وہ نیکی کرے جائز بلکہ بہتر ہے۔مدنی گلدستہ’’سخی بنو‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) بادل کی گرج اس فرشتہ کی آواز ہوتی ہے جو بادلوں کو حکم دیتا ہے۔
(2) بعض نیک لوگوں کے طفیل بدوں پر بھی بارش برس جاتی ہے۔
(3) اپنے مال سےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے صدقہ کرنے اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات پوری کرنے والے کے مال میں برکت ہوتی ہے اور اس پراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت نازل ہوتی ہے۔
(4) اپنے مال کو بُرے کاموں میں لگا کر ضائع کرنے سے بچنا چاہیے۔
(5) اپنی پوشیدہ نیکیاں کسی کو اس لیے بتانا تاکہ وہ بھی عمل کرے ریا کاری نہیں بلکہ نیکی کی دعوت ہے۔
(6) کسی کی چھپی ہوئی نیکیاں اس لیے پوچھنا تاکہ خود اس پر عمل کرے بہت اچھی بات ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اپنا مال صدقہ خیرات کرنے اور اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 562