- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- حدیث نمبر 557
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ کَبْشَةَ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ الْاَنْمَارِيِّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:ثَلاَثَةٌ اُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ وَاُحَدِّثُكُمْ حَدِيْثًا فَاحْفَظُوْهُ:مَا نَقَصَ مَالُ عَبْدٍ مِنْ صَدَقَةٍ وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ مَظْلِمَةً صَبَرَ عَلَيْهَا اِلَّا زَادَهُ اللهُ عِزًّا وَلَا فَتَحَ عَبْدٌ بَابَ مَسْاَلَةٍ اِلَّا فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ اَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا وَاُحَدِّثُكُمْ حَدِيْثًا فَاحْفَظُوْهُ قَالَ: اِنَّمَا الدُّنْيَا لِاَرْبَعَةِ نَفَرٍ:عَبْدٍ رَزَقَهُ اللهُ مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَتَّقِيْ فِيْهِ رَبَّهُ وَيَصِلُ فِيْهِ رَحِمَهُ وَيَعْلَمُ لِلّٰہِ فِيْهِ حَقًّا فَهٰذَا بِاَفْضَلِِ الْمَنَازِلِ وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللهُ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا فَهُوَ صَادِقُ النِّيَّةِ يَقُوْلُ: لَوْ اَنَّ لِيْ مَالًا لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَهُوَ بِنِيَّتِهِ فَاَجْرُهُمَا سَوَاءٌ وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا فَهُوَ يَخْبطُِ فِیْ مَالِهِ بِغَيرِ عِلْمٍ لَا يَتَّقِيْ فِيْهِ رَبَّهُ وَلَا يَصِلُ فِيْهِ رَحِمَهُ وَلَا يَعْلَمُ لِلّٰہِ فِيْهِ حَقًّا فَهٰذَا بِاَخْبَثِ الْمَنَازِلِ وَعَبْدٍ لَمْ يَرْزُقْهُ اللهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا فَهُوَ يَقُوْلُ:لَوْ اَنَّ لِيْ مَالًا لَعَمِلْتُ فِيْهِ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَهُوَ نِيَّتُهُ فَوِزْرُهُمَا سَوَاءٌ.
عن ابی کبشة عمر بن سعد الانماري رضی اللہ عنہ انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم یقول:ثلاثة اقسم عليهن واحدثكم حديثا فاحفظوه:ما نقص مال عبد من صدقة ولا ظلم عبد مظلمة صبر عليها الا زاده الله عزا ولا فتح عبد باب مسالة الا فتح الله عليه باب فقر او كلمة نحوها واحدثكم حديثا فاحفظوه قال: انما الدنيا لاربعة نفر:عبد رزقه الله مالا وعلما فهو يتقي فيه ربه ويصل فيه رحمه ويعلم للہ فيه حقا فهذا بافضل المنازل وعبد رزقه الله علما ولم يرزقه مالا فهو صادق النية يقول: لو ان لي مالا لعملت بعمل فلان فهو بنيته فاجرهما سواء وعبد رزقه الله مالا ولم يرزقه علما فهو يخبط فی ماله بغير علم لا يتقي فيه ربه ولا يصل فيه رحمه ولا يعلم للہ فيه حقا فهذا باخبث المنازل وعبد لم يرزقه الله مالا ولا علما فهو يقول:لو ان لي مالا لعملت فيه بعمل فلان فهو نيته فوزرهما سواء.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو کَبْشہ عمر بن سعد اَنْمارِیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا: ”میں تین باتوں پر قسم اُٹھاتا ہوں اور تم سے ایک بات بیان کرتا ہوں اسے اچھی طرح یاد کرلو۔ صدقہ سے آدمی کا مال کم نہیں ہوتا، مظلوم جب ظلم پر صبر کرتا ہے تواللّٰہتعالیٰ اس کی عزت بڑھاتا ہے، جب کوئی بندہ سوال کا دروازہ کھولتا ہے تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس پر محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے“ (راوی کو شک ہے کہ) یا اس کی مثل کوئی اور بات بیان فرمائی۔ پھر فرمایا کہ میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں اسے یاد رکھو، فرمایا: ”دنیا چار آدمیوں کے لیے ہے:(1)وہ شخص جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے مال اور علم عطا فرمایا اور وہ اس میں اپنے رب سے ڈرتا ہے اور صلہ رحمی کرتا ہے اور اس میںاللّٰہتعالیٰ کے حق کو جانتا ہے، یہ شخص سب سے افضل مرتبہ میں ہے۔(2)وہ شخص ہے جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے علم دیا مال نہیں دیا، یہ شخص سچی نیت کے ساتھ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح عمل کرتا پس یہ اپنی نیت کے مطابق ہے اور ان دونوں کا ثواب برابر ہے۔(3)وہ شخص جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے مال دیا لیکن علم نہیں دیا، وہ اپنے مال میں لاعلمی کی وجہ سے خَلط مَلط کرتا ہے اور نہ اس کے بارے میں رب سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ ہی یہ جانتا ہے کہ اس میںاللّٰہتعالیٰ کا حق بھی ہے، یہ بدترین درجہ میں ہے۔(4)چوتھا شخص وہ ہے جسےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے نہ تو مال دیا نہ علم، وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح (برے)عمل کرتا پس اس کی نیت کے مطابق بدلہ ہوگا اور ان دونوں کا گناہ برابر ہے۔“
شرح حدیث
قسم کے ساتھ تین چیزوں کی خبردی:مذکورہ حدیثِ پاک میں حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے تین باتیں قسم کے ساتھ بیان فرمائیں اور اس کے علاوہ اپنی اُمَّت کو ایک بات کی نصیحت فرمائی اور اسے یاد رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔”خیال رہے کہ حضورِ انور (صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی خبر خواہ قسم سے ہو یا بغیر قسم بالکل حق اور درست ہے، حضور کی خبر کا درست ہونا ایسا ہی لازم و ضروری ہے جیسےاللّٰہتعالیٰ کی خبر کا حق ہونا لازم ہے کہ رب تعالیٰ کا جھوٹ بھی ناممکن ہے اور نبی کا جھوٹ بھی ناممکن اگرچہ وہ بِالذَّات ہے یہ محال بِالغیر جیسے رب تعالیٰ کی قسمیں تاکید کے لیے ہوتی ہیں ایسے ہی حضورِ انور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی قسمیں تاکیدِ کلام کے لیے ہیں۔“حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے قسم کے ساتھ یہ تین باتیں بیان فرمائیں:(1)”صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا۔“یعنی صدقہ سے مال میں برکت نازل ہوتی ہے یا مراد یہ ہے کہ صدقہ دینے والے کو آخرت میں اجر ملے گا جو مال کی کمی کو پورا کردے گا۔صدقہ کرنے سے مال کم یا ضائع نہیں ہوتا بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل ہو جاتا ہے کیونکہ انسان کے دو گھر ہیں دنیا اور آخرت اور ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل ہونے والے مال کے بارے میں یہ نہیں کہا جاتا کہ وہ ختم یا ضائع ہوگیا یہی وجہ ہے کہ جب بزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللّٰہ الْمُبِیْنکسی سائل کو دیکھتے تو فرماتے:”خوش آمدید تم تو ہمارے دنیا کے مال کو ہماری آخرت کی طرف منتقل کرنے والے ہو۔“مرآۃ المناجیح میں ہے:”صدقہ سے مراد ہر خیرات ہے فرضی ہو یا نفلی۔ تجربہ شاہد ہے کہ خیرات سے مال بڑھتا ہے گھٹتا نہیں۔آزما کر دیکھ لو میرا رب سچا،اس کے رسول سچےصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم۔ صدقہ سے دنیا میں برکت آخرت میں ثواب ہے۔فقیر کا تجربہ تو یہ ہے کہ صدقہ والے مال کو عمومًا حاکم، حکیم، وکیل چور نہیں کھاتے دنیاوی نقصانات بھی بہت کم ہوتے ہیں۔“ (2) ”جو ظالِم کے ظلم پر صبر کرتا ہےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاُسے عزت عطا فرماتا ہے۔“ یہاں صبر سے مراد اَخلاقی صبرہے نہ کہ مجبوری کا صبر۔صبر، معافی،تحمل کی جوآیات منسوخ ہیں ان میں مجبوری کاصبرہی مرادہے۔رب فرماتاہے: (فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ)(پ۱، البقرۃ:۱۰۹)( ترجمۂ کنزالایمان:تو تم چھوڑو اور درگزر کرو یہاں تک کہاللّٰہاپنا حکم لائے۔)چنانچہ یوسفعَلَیْہِ السَّلَامنے اپنے دربار میں آئے ہوئے بھائیوں کو معافی دی، حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فتحِ مکہ کے موقع پر تمام اہلِ مکہ کو معافی دے دی جن سے عمر بھر ظلم و ستم دیکھے تھے، دیکھ لو آج تک ان حضرات کی واہ واہ ہورہی ہے، یہ ہے عزت بڑھنا۔شعر
صدقےاس انعام کےقربان اس احسان کے …… ہو رہی دونوں عالَم میں تمہاری واہ واہ
”اور ظلم پرصبر کرنے والے کیاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک عزت بڑھتی ہے جیساکہ ظلم کرنے والے کیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے یہاں ذِلَّت زیادہ ہوتی ہے یا مظلوم کو دنیا میں بھی عزت نصیب ہوتی ہے اور ظالم دنیا میں بھی رُسوا ہوتا ہے اگرچہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ہی کیوں نہ ہو اور کبھی ایسا معاملہ بھی ہوتا ہے کہ ظالم جس پر ظلم کرتا ہے ایک دن خود اسی مظلوم کےماتحت ہوکر ذلیل و رُسوا ہو تا ہے۔“(3)”جو مانگنے کا دروازہ کھولتا ہےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس پر محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔‘‘تجربہ شاہد ہے کہ پیشہ ور بھکاریوں کے پاس اولًا تو مال جمع ہوتا ہی نہیں اگر ہوجائے تو وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے جمع کرکے چھوڑ جاتے ہیں،انکے مال میں برکت نہیں ہوتی۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”سوال کرنے والے کی حاجت بڑھتی ہےیا اس کے پاس جو نعمتیں ہوتی ہیں وہ بھی چھین لی جاتی ہیں جس سے اس کی حالت مزید خراب ہو جاتی ہے نیر مانگنے والے کی مثال اس کتے سے دی گئی ہے جو منہ میں ہڈی کا ٹکڑا لیے صاف و شفاف نہر پرگزرے اس میں اپنے عکس کو دیکھ کر سمجھے کہ یہ دوسرا کتا ہے تو اس سے ہڈی چھیننے کے لیے اس پر منہ پھاڑ کر حملہ کرے اور اپنی ہڈی بھی پانی میں کھو بیٹھے۔ پس حرص نحوست ہے اور حریص محروم ہے۔“دنیا میں چار طرح کے لوگ ہیں:حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے قسم کے ساتھ تین باتیں بیان فرمانے کے بعد فرمایا کہ میں تمہیں ایک بات بیان کرتا ہوں تم اسے یاد رکھنا پھر فرمایا کہ دنیا چار آدمیوں کے لیے ہے اور پھر ان میں سے ہر ایک کے متعلق بیان فرمایا۔(1)”پہلا شخص وہ ہے جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنےمال دیا یعنی حلال مال عطا فرمایا اور اسے علم دیا یعنی اسے شریعت کا ایسا علم عطا کیا جو اسے دین میں نفع پہنچاتا ہے اور وہ شخص اپنے مال اور علم کے معاملے میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتا ہے یعنی اپنے مال کو نیک کاموں میں خرچ کرتا ہے اور اپنے علم پر عمل کرتا ہے اور کسی دنیاوی غرض کے بغیر خالصاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے دوسروں کو سکھاتا ہے اور اپنے مال کے ذریعے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہے اور انہیں علم سکھاتا ہے اور اپنے مال اور علم میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے حق کو جانتا ہے یعنی اپنے مال کو اچھے کاموں کے لیے وقف کرتا ہے اور اپنے علم سے درس و تدریس اور فتوے دینے کے ذریعے سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے تو ایسا شخصاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک بہت اعلیٰ درجے والا ہے۔“مُفَسِّرِ شہیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اس لیے کہ یہ شخص دِین و دنیا دونوں جگہ سُرخُرو شاد آباد رہے گا کیونکہ وہ مال کمائے گا حکمِ اِلٰہی کے مطابق، خرچ کرے گا اسی کے مطابق، جمع کرے گا اسی فرمان کے ماتحت۔ مال کی آمد، جمع، خرچ سب شریعت کے مطابق چاہیے۔“
(2) دوسرا شخص وہ ہے جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے علم تو عطا فرمایا ہے لیکن مال عطا نہیں کیا کہ جسے یہ صدقہ کرے اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرے، یہ شخص سچی نیت کے ساتھ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح عمل کرتا یعنی اس مال کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا والے کاموں میں خرچ کرتا تو ایسے شخص کو اس کی اچھی نیت پر اسی طرح ثواب دیا جائے گا جس طرح اس شخص کو دیا گیا ہے جو اپنے مال کو نیک کاموں میں خرچ کرتا ہے کیونکہ اگر اس کے پاس مال ہوتا تو یہ ضرور اسے نیک کام میں خرچ کرتا۔“ معلوم ہوا کہ نیکی کی تمنا بھی نیکی ہے۔غریب عالم خواہ زبان سے تمنا کرے یا فقط دل سے بہرحال ثواب برابر ہی ہے۔
(3)تیسرا شخص وہ ہے جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے مال تو عطا فرمایا لیکن علم عطا نہیں کیا۔ یہ شخص لاعلمی کی وجہ سے اپنے مال میں خَلط مَلط کرتا ہے یعنی وہ ہر حرام و حلال طریقے سے مال کماتا ہے اور ہر حلال حرام جگہ خرچ کرتا رہتا ہے، نہ خود عالم ہے نہ علماء کی بات مانتا ہے جیساکہ آج کل عام امیروں کا حال ہے، ایسے لوگ اگر کبھی اچھی جگہ خرچ بھی کرتے ہیں تو اپنی نامْوَری کے لیے خرچ کرتے ہیں مگر بے فائدہ بلکہ مُضِر۔ اور نہ وہ اس معاملے میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسےڈرتا ہے یعنی وہ مال کے معاملے میں بے خوف ہوتا ہے اور اس پر جو زکوٰۃ فرض ہوتی ہے وہ نہیں نکالتا اور نہ اس مال کے ذریعے اپنے قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا حق جانتا ہے یعنی نہ بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے، نہ بے لباس کو کپڑا پہناتا ہے اور نہ بے قصور قیدی کو رہا کرواتا ہے تو ایسا شخصاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک انتہائی حقیراورخسیس ہے۔“ کیونکہ اس کا مال اس کے لیے وبال ہے، مال کی وجہ سے اس پر گناہوں کے دروازے بہت کھل جاتے ہیں وہ مال کے نشہ میں نہ کرنے والے کام کرتا رہتا ہے۔اللّٰہتعالیٰ عثمانی مال دے ابوجہلی مال سے بچائے۔“
(4)چوتھا شخص وہ ہے جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے نہ تو مال دیا نہ علم، وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح عمل کرتا ”یعنی فلاں بدمعاش مالدار کی طرح میں بھی شراب پیتا، جوا کھیلتا، زنا کرتا، کروں کیا کہ یہ کام پیسہ سے ہوتے ہیں اور میرے پاس پیسہ نہیں۔“ تو پس ایسے شخص کو اس کی نیت کے مطابق بدلہ دیا جائے گا، اس کا اور تیسرے شخص دونوں کا گناہ برابر ہے، ”یہ بدنصیب بغیر کچھ کیے سب کچھ کررہا ہے، کرنے والوں کے ساتھ دوزخ میں جارہا ہے۔“مدنی گلدستہ’’نیکی کرو‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے قسم کے ساتھ یہ تین باتیں بیان فرمائیں کہ صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا، جو ظلم پر صبر کرتا ہےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس کی عزت بڑھاتا ہے اور جو مانگنے کا دروازہ کھولتا ہےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
(1) حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا کلام قسم کے ساتھ ہو یا بغیر قسم کے ہر حال میں سچا ہے نبی کا جھوٹا ہونا محال ہے، حضورِ اَنورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قسمیں تاکیدِ کلام کے لیے ہوتی ہیں۔
(2) انسان کے دو گھر ہیں دنیا اور آخرت، صدقہ کرنے سے ہمارا مال دنیا سے ہماری آخرت کی طرف منتقل ہو جاتا ہے نیز جس مال سے صدقہ دیا جاتا ہے وہ دنیاوی نقصانات سے بھی محفوظ رہتا ہے۔
(3) ظلم پر صبر کرنے والا دنیا و آخرت میں عزت پاتا ہے اور ظالم دونوں جہاں میں ذلیل ہوتا ہے۔
(4) پیشہ وربھکاریوں کے پاس مال جمع نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کے مال میں برکت ہوتی ہے۔
(5) جس شخص کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے مال اور علم عطا کیا اور اس نے ان دونوں چیزوں کے ذریعےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاور لوگوں کے حقوق ادا کیے تو اس شخص کا درجہ بہت اعلیٰ ہے اور جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے صرف علم عطا کیا مال نہیں دیا اور یہ دل میں سچی نیت کرتا ہے کہ اگر اس کے پاس مال ہوتا تو یہ بھی نیک کاموں میں خرچ کرتا تو ایسے شخص کا درجہ بھی پہلے والے شخص کی طرح ہے۔
(6) جس شخص کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے مال عطا کیا لیکن علم نہیں دیا اور وہ شخص اپنے مال کو گناہوں میں ضائع کرتا ہے اوراللّٰہتعالیٰ اور بندوں کے حقوق ادا نہیں کرتا تو یہ سب سے بدترین شخص ہے اور جسے نہ مال عطا ہوا نہ علم اور وہ ارادہ کرتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں شخص کی طرح عیش و عشرت کی زندگی گزارتا اور مختلف قسم کے گناہ کرتا تو یہ شخص بھی پہلے والے کی طرح بدترین ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں مال کی حرص سے بچائے اور ہمیں ایسا علم اور مال عطا فرمائے جو ہماری دنیا و آخرت کو بہتر بنانے میں ہمارا مددگار ہو۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 557