Main Icon

باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 547

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: مَا سُئِلَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ: لَا.

عن جابر رضی اللہ عنہ قال: ما سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا قط فقال: لا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”ایسا کبھی نہیں ہوا کہ نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کسی چیز کا سوال کیا گیا ہو اور آپ نے اس کے جواب میں ”لَا“(یعنی نہیں)فرمایا ہو۔“

شرح حدیث

کسی سائل کو خالی ہاتھ نہ لَوٹاتے:مذکورہ حدیثِ پاک میں حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی سخاوت بیان کی گئی ہے کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے جب کوئی سائل اپنی حاجت کا سوال کرتا تو آپ اس کی حاجت پوری فرماتے حتی کہ بعض اوقات اُدھار لے کر بھی مدد فرماتے اور اگر مانگنے والا ایسی چیز مانگتا جو اس وقت آپ کے پاس موجود نہ ہوتی تو آپ بعد میں دینے کا وعدہ فرمالیتے یا اسے دعائیں عطا فرماتے یا پھر اَحسن طریقے سے معذرت کر لیتے۔اللہ عَزَّوَجَلَّقرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے: (وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا(۲۸))(پ۱۵،بنی اسرائیل:۲۸) ترجمۂ کنزالایمان:’’اور اگر تو ان سے منہ پھیرے اپنے رب کی رحمت کے انتظار میں جس کی تجھے امید ہے تو ان سے آسان بات کہہ۔‘‘صَدرُ ا لاَفاضِل مولانا نعیم الدین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْہَادِیتفسیرِ خزائنُ العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ”یہ آیتمِہْجَعو بلال وصُہیبو سالم و خبّاب اصحابِ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شان میں نازل ہوئی جو وقتاً فوقتاً سیِّدِ عالَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اپنے حوائج (حاجات)و ضروریات کے لیے سوال کرتے رہتے تھے، اگر کسی وقت حضور کے پاس کچھ نہ ہوتا تو آپ ’’حیاءً ‘‘ اُن سے اِعراض کرتے اور خاموش ہو جاتے بایں انتظار کہاللہتعالیٰ کچھ بھیجے تو انہیں عطا فرمائیں۔“اعلیٰ حضرت اور حدیث کی ترجمانی:اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمدرضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰناپنے نعتیہ دیوان حدائقِ بخشش میں مختلف مقامات پراِس حدیثِ پاک کی ترجمانی کچھ یوں کرتے ہیں:
واہ کیا جود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا
’’نہیں‘‘ سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
ہم بھکاری وہ کریم اُن کا خدا اُن سے فُزوں
اور ’’نا‘‘ کہنا نہیں عادت رسولُ
اللہکی
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
مانگیں گے مانگے جائیں گے منھ مانگی پائیں گے
سرکار میں نہ ’’لا‘‘ ہے نہ حاجت ’’اگر‘‘ کی ہے
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”حضورِ انور (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے کسی سائل بھکاری کو یہ کبھی نہیں فرمایا کہ ہم تم کو نہیں دیں گے اگر وہ چیز ہو تو عطا فرمادی ورنہ یا خاموشی اختیار کی یا آئندہ کے لیے وعدہ فرمالیا یا معذرت کردی لہٰذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں: (قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ۪ -) (پ۱۰،التوبۃ:۹۲) ترجمۂ کنزالایمان:”تم سے یہ جواب پائیں کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کروں۔“ کہ آیت کریمہ میں معذرت کا” لَا“ ہے اور یہاں انکار کا ”لَا“ مراد ہے۔فرزدق شاعر نے حضور کی نعت میں عرض کیا۔ شعرمَا قَالَ لَا قَطُّ اِلَّا فِیْ تَشَھُّدِہِ……لَوْلَا التَّشَھُّدُ کَانَتْ لَاءُہُ نَعَمْیعنی حضورِ انور نے بجز کلمہ طیبہ کے ”لَا“ انکار کے لیے بھی ارشاد نہ فرمایا۔آج بھی حضور سے مانگ کر دیکھ لو محروم نہ پھرو گے،یہ تو کوئی مجھ سے پوچھے میں نے بہت تجربہ کیا ہے ہم نے عرض کیا ہے۔شعر
زمانہ نے زمانہ میں سخی ایسا کہیں دیکھا
زبان پر جس کے سائل نے ’’نہیں‘‘ آتے نہیں دیکھا
سخاوت کرنے میں خوشی محسوس فرماتے:عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہالْوَالِیفرماتے ہیں:”حضورعَلَیْہِ السَّلَامکبھی بھی سائل کو منع نہ فرماتے تھے اگرچہ وہ زیادہ کا سوال کرتااور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعطا فرمانے میں فقر کا خوف نہ کرتےاور لینے والے کو لینے سے جو خوشی ہوتی ہے حضورعَلَیْہِ السَّلَامعطا فرمانے اور جودو سخاوت میں اس سے کہیں زیادہ خوشی و فرحت محسوس فرماتے تھے۔“مدنی گلدستہ’’فیاض‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
حضور
عَلَیْہِ السَّلَامنے کبھی کسی مانگنے والے کو’’لَا‘‘یعنی نہیں نہ فرمایا۔
(1) جب کوئی سائل آپ سے سوال کرتا تو آپ
عَلَیْہِ السَّلَامکے پاس اگر وہ چیز موجود ہوتی تو آپ اُسے عطا فرما دیتے اور اگر نہ ہوتی تو بعد میں دینے کا وعدہ فرما لیتے یا اَحسن انداز سے معذرت فرما لیتے لیکن کبھی بھی صَراحتًا انکار نہ فرماتے۔
حضور
عَلَیْہِ السَّلَامکی بارگاہ سے اپنی حاجات مانگنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔لینے والے کو صدقہ یا ہدیہ لینے سے جو خوشی ملتی ہے حضورعَلَیْہِ السَّلَامکو اُس سے بہت زیادہ خوشی و مسرت دینے سے ہوتی تھی۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں مسلمانوں کی حاجت روائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 547