Main Icon

باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 556

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ اِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ اِلَّا رَفَعَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ.

عن ابی ھريرة رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:ما نقصت صدقة من مال وما زاد الله عبدا بعفو الا عزا وما تواضع احد للہ الا رفعه الله عز وجل.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور کسی کو معاف کردینے سےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبندے کی عزت ہی بڑھاتا ہے اور جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی خاطر تواضع اختیار کرتا ہےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاُسے بلندی ہی عطا فرماتا ہے۔“

شرح حدیث

خیرات مال بڑھاتی ہے:مذکورہ حدیثِ پاک میں صدقہ کرنے، معاف کرنے اور تواضع اختیار کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ مذکورہ حدیثِ پاک کے تین جزء ہیں، پہلے جزء میں بیان ہوا کہ صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا۔ بے شکاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جو خیرات کی جائے وہ مال کم نہیں کرتی بلکہ مال بڑھاتی ہے، زکوٰۃ دینے والے کی زکوٰۃ ہر سال بڑھتی ہی رہتی ہے۔ تجربہ ہے جو کسان کھیت میں بیج پھینک آتا ہے وہ بظاہر بوریاں خالی کرلیتا ہے لیکن حقیقت میں مع اضافہ کے بھر لیتا ہے، گھر کی رکھی بوریاں چوہے، سُسری وغیرہ آفات سے ہلاک ہوجاتی ہیں یا یہ مطلب ہے کہ جس مال میں سے صدقہ نکلتا رہے اس میں سے خرچ کرتے رہواِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّبڑھتا ہی رہے گا، کنوئیں کا پانی بھرےجاؤ تو بڑھے ہی جائے گا۔صدقہ دینے سے مال میں کمی نہ ہونے کی دو صورتیں ہیں: (1)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس مال میں برکت عطا فرماتا ہے اور اس سے نقصان کو دور فرمادیتا ہے اور صدقہ کرنے سے اس مال میں ظاہری طورپر جو کمی ہوتی ہے اُس کمی کو پوشیدہ برکت کے ذریعے پوری فرمادیتا ہے۔(2)صدقہ کرنے سے اس مال میں جو کمی ہوتی ہے اُس پراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے ثواب عطا فرما کر اس مال کی کمی کو پورا فرمادیتا ہے اور آخرت میں اُسے کئی گُنا زیادہ عطا فرماکر اس کا بہترین بدل عطا فرمادے گا۔معافی سے دِلوں پر قبضے ہوجاتے ہیں:حدیثِ پاک کے دوسرے جزء میں بیان ہوا کہ جو معاف کرتا ہےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاُس کی عزت بڑھاتا ہے۔ مرآۃ المناجیح میں ہے:یعنی جو بدلہ پر قادر ہو پھر مجرم کو معافی دے دے تو اس سے مجر م کے دل میں اس کی اطاعت اور محبت پیدا ہوجاتی ہے اور اگر بدلہ لیا جائے تو اس کے دل میں بھی انتقام کی آگ بھڑک جاتی ہے۔ فتحِ مکہ کے دن کی عام معافی سے سارے کفار مسلمان ہوکر حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے مطیع فرمان ہوگئے، معافی سے دلوں پر قبضے ہوجاتے ہیں مگر معافی اپنے حقوق میں چاہیئے نہ کہ شرعی حقوق میں۔ قومی، ملکی، دِینی مجرموں کو کبھی معاف نہ کرو اپنے مجرم کو معاف کردو۔( ) یا عزت بڑھانے سے مراد یہ ہے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّآخرت میں اسے معاف کرنے کا اجر عطا فرمائے گا اور وہاں اس کی عزت بڑھائے گا۔تواضع و اِنکساری:حدیثِ پاک کے تیسرے جزء میں بیان ہوا کہ جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے تواضع اختیار کرتا ہےاللّٰہعَزَّ وَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”اس کی دو صورتیں ہیں: (1)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے دنیا میں بلند مقام عطا فرمادے اور تواضع کرنے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں اس کی قدر و منزلت بیٹھ جائے اوراللّٰہتعالیٰ اسے لوگوں کے نزدیک رفعت و بزرگی عطا فرما دے۔(2) اسے آخرت میں اس کا اجر عطا فرمائے اور دنیا میں تواضع کرنے کے سبباللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے آخرت میں رفعت و بلندی سے سرفراز فرمائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دونوں صورتیں ایک ساتھ پائی جائیں یعنیاللّٰہعَزَّ وَجَلَّ اسے دنیا میں بھی قدر و منزلت سے نوازے اور آخرت میں بھی بلندی و رفعت عطا فرمائے۔“ مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اِنکساری جو خود داری کے ساتھ ہو وہ بڑی بہتر ہے اس کا انجام بلندیٔ درجات ہے مگر بے غیرتی کی اِنکساری اِنکساری نہیں بلکہ اِحساسِ پستی ہے، جہاد میں کفار کے مقابل فخر کرنا عبادت ہے، مسلمان بھائی کے سامنے جھکنا ثواب،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے:(αاَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ)(پ۲۶،الفتح:۲۹)( ترجمۂ کنزالایمان:کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل۔)عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں: ”انسان میں فطری طورپر مال کی محبت اور طمع ہوتی ہے اورفطری طور پر غصہ، انتقام اور تکبرجیسے اَعمال کے ذریعے درندگی بھی ہوتی ہے۔ اس لیے حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے ان بُرائیوں کو ختم کرنے کے لیے پہلے صدقہ کرنے کی ترغیب دی تاکہ انسان میں سخاوت پیدا ہو اور اس کے بعد معاف کرنے اور درگزر کرنے کا حکم دیا تاکہ انتقام لینے کی چاہت ختم ہو اور بندہ حلم و وقار کے ذریعے مُعَزَّ ز ہو جائے اور پھر تواضُع کا حکم دیا تاکہ بندے سے تکبر نکل جائے اور وہ دو جہانوں میں بلند مرتبہ ہو جائے۔“مدنی گلدستہ’’خیرات کرو‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے اور
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس میں برکت عطا فرماتا ہے۔
(2) صدقہ سے مال میں جو کمی ہوتی ہے
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّآخرت میں کئی گنا زیادہ بہتر اجر عطا فرماکر اس کمی کو پورا فرمادے گا۔
(3) جو بدلہ لینے پر قادر ہو پھر بھی معاف کردے تو اس سے مجرم کے دل میں اس کی عزت اور محبت پیدا ہوتی ہے، بدلہ لینے سے مجرم کے دل میں بھی انتقام کی آگ بھڑکتی ہے جبکہ معافی سے دلوں پر قبضے ہو جاتے ہیں۔
(4) انسان کوچاہیے کہ وہ اپنے حقوق معاف کردے لیکن شرعی اور ملکی مجرم کو معاف نہ کرے۔
(5) جو
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے لیےعاجزی و اِنکساری کرتا ہےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّلوگوں کے دلوں میں اس کی قدر و منزلت بٹھا دیتا ہے۔
(6) جو
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے تواضع اختیار کرے گااللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس دنیا و آخرت میں بلندی عطا فرمائے گا۔
(7) جو انکساری خود داری کے ساتھ ہو وہ بہت اچھی ہے لیکن جس اِنکساری میں بے عزتی ہے وہ انکساری نہیں بلکہ احساسِ کمتری ہے۔
حرص، انتقام کی چاہت اور تکبر شیطان کی صفات ہیں اسی لیے حضور
عَلَیْہِ السَّلَامکی سیرت پر عمل کرتے ہوئے سخاوت، عفو و درگُزر اور تواضع اختیار کرنا چاہیے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں سخاوت، عفو و درگُزر اور عاجزی و اِنکساری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 556