- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- حدیث نمبر 556
باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 556
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ھُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ اِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ اِلَّا رَفَعَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ.
عن ابی ھريرة رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:ما نقصت صدقة من مال وما زاد الله عبدا بعفو الا عزا وما تواضع احد للہ الا رفعه الله عز وجل.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور کسی کو معاف کردینے سےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبندے کی عزت ہی بڑھاتا ہے اور جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی خاطر تواضع اختیار کرتا ہےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاُسے بلندی ہی عطا فرماتا ہے۔“
شرح حدیث
خیرات مال بڑھاتی ہے:مذکورہ حدیثِ پاک میں صدقہ کرنے، معاف کرنے اور تواضع اختیار کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ مذکورہ حدیثِ پاک کے تین جزء ہیں، پہلے جزء میں بیان ہوا کہ صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا۔ بے شکاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جو خیرات کی جائے وہ مال کم نہیں کرتی بلکہ مال بڑھاتی ہے، زکوٰۃ دینے والے کی زکوٰۃ ہر سال بڑھتی ہی رہتی ہے۔ تجربہ ہے جو کسان کھیت میں بیج پھینک آتا ہے وہ بظاہر بوریاں خالی کرلیتا ہے لیکن حقیقت میں مع اضافہ کے بھر لیتا ہے، گھر کی رکھی بوریاں چوہے، سُسری وغیرہ آفات سے ہلاک ہوجاتی ہیں یا یہ مطلب ہے کہ جس مال میں سے صدقہ نکلتا رہے اس میں سے خرچ کرتے رہواِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّبڑھتا ہی رہے گا، کنوئیں کا پانی بھرےجاؤ تو بڑھے ہی جائے گا۔صدقہ دینے سے مال میں کمی نہ ہونے کی دو صورتیں ہیں: (1)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس مال میں برکت عطا فرماتا ہے اور اس سے نقصان کو دور فرمادیتا ہے اور صدقہ کرنے سے اس مال میں ظاہری طورپر جو کمی ہوتی ہے اُس کمی کو پوشیدہ برکت کے ذریعے پوری فرمادیتا ہے۔(2)صدقہ کرنے سے اس مال میں جو کمی ہوتی ہے اُس پراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے ثواب عطا فرما کر اس مال کی کمی کو پورا فرمادیتا ہے اور آخرت میں اُسے کئی گُنا زیادہ عطا فرماکر اس کا بہترین بدل عطا فرمادے گا۔معافی سے دِلوں پر قبضے ہوجاتے ہیں:حدیثِ پاک کے دوسرے جزء میں بیان ہوا کہ جو معاف کرتا ہےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاُس کی عزت بڑھاتا ہے۔ مرآۃ المناجیح میں ہے:یعنی جو بدلہ پر قادر ہو پھر مجرم کو معافی دے دے تو اس سے مجر م کے دل میں اس کی اطاعت اور محبت پیدا ہوجاتی ہے اور اگر بدلہ لیا جائے تو اس کے دل میں بھی انتقام کی آگ بھڑک جاتی ہے۔ فتحِ مکہ کے دن کی عام معافی سے سارے کفار مسلمان ہوکر حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے مطیع فرمان ہوگئے، معافی سے دلوں پر قبضے ہوجاتے ہیں مگر معافی اپنے حقوق میں چاہیئے نہ کہ شرعی حقوق میں۔ قومی، ملکی، دِینی مجرموں کو کبھی معاف نہ کرو اپنے مجرم کو معاف کردو۔( ) یا عزت بڑھانے سے مراد یہ ہے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّآخرت میں اسے معاف کرنے کا اجر عطا فرمائے گا اور وہاں اس کی عزت بڑھائے گا۔تواضع و اِنکساری:حدیثِ پاک کے تیسرے جزء میں بیان ہوا کہ جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے تواضع اختیار کرتا ہےاللّٰہعَزَّ وَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”اس کی دو صورتیں ہیں: (1)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے دنیا میں بلند مقام عطا فرمادے اور تواضع کرنے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں اس کی قدر و منزلت بیٹھ جائے اوراللّٰہتعالیٰ اسے لوگوں کے نزدیک رفعت و بزرگی عطا فرما دے۔(2) اسے آخرت میں اس کا اجر عطا فرمائے اور دنیا میں تواضع کرنے کے سبباللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے آخرت میں رفعت و بلندی سے سرفراز فرمائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دونوں صورتیں ایک ساتھ پائی جائیں یعنیاللّٰہعَزَّ وَجَلَّ اسے دنیا میں بھی قدر و منزلت سے نوازے اور آخرت میں بھی بلندی و رفعت عطا فرمائے۔“ مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اِنکساری جو خود داری کے ساتھ ہو وہ بڑی بہتر ہے اس کا انجام بلندیٔ درجات ہے مگر بے غیرتی کی اِنکساری اِنکساری نہیں بلکہ اِحساسِ پستی ہے، جہاد میں کفار کے مقابل فخر کرنا عبادت ہے، مسلمان بھائی کے سامنے جھکنا ثواب،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے:(αاَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ)(پ۲۶،الفتح:۲۹)( ترجمۂ کنزالایمان:کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل۔)عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں: ”انسان میں فطری طورپر مال کی محبت اور طمع ہوتی ہے اورفطری طور پر غصہ، انتقام اور تکبرجیسے اَعمال کے ذریعے درندگی بھی ہوتی ہے۔ اس لیے حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے ان بُرائیوں کو ختم کرنے کے لیے پہلے صدقہ کرنے کی ترغیب دی تاکہ انسان میں سخاوت پیدا ہو اور اس کے بعد معاف کرنے اور درگزر کرنے کا حکم دیا تاکہ انتقام لینے کی چاہت ختم ہو اور بندہ حلم و وقار کے ذریعے مُعَزَّ ز ہو جائے اور پھر تواضُع کا حکم دیا تاکہ بندے سے تکبر نکل جائے اور وہ دو جہانوں میں بلند مرتبہ ہو جائے۔“مدنی گلدستہ’’خیرات کرو‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے اوراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس میں برکت عطا فرماتا ہے۔
(2) صدقہ سے مال میں جو کمی ہوتی ہےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّآخرت میں کئی گنا زیادہ بہتر اجر عطا فرماکر اس کمی کو پورا فرمادے گا۔
(3) جو بدلہ لینے پر قادر ہو پھر بھی معاف کردے تو اس سے مجرم کے دل میں اس کی عزت اور محبت پیدا ہوتی ہے، بدلہ لینے سے مجرم کے دل میں بھی انتقام کی آگ بھڑکتی ہے جبکہ معافی سے دلوں پر قبضے ہو جاتے ہیں۔
(4) انسان کوچاہیے کہ وہ اپنے حقوق معاف کردے لیکن شرعی اور ملکی مجرم کو معاف نہ کرے۔
(5) جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے لیےعاجزی و اِنکساری کرتا ہےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّلوگوں کے دلوں میں اس کی قدر و منزلت بٹھا دیتا ہے۔
(6) جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے تواضع اختیار کرے گااللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس دنیا و آخرت میں بلندی عطا فرمائے گا۔
(7) جو انکساری خود داری کے ساتھ ہو وہ بہت اچھی ہے لیکن جس اِنکساری میں بے عزتی ہے وہ انکساری نہیں بلکہ احساسِ کمتری ہے۔
حرص، انتقام کی چاہت اور تکبر شیطان کی صفات ہیں اسی لیے حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی سیرت پر عمل کرتے ہوئے سخاوت، عفو و درگُزر اور تواضع اختیار کرنا چاہیے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں سخاوت، عفو و درگُزر اور عاجزی و اِنکساری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 556