Main Icon

باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 550

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَىُّ الْاِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ: تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَاُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ.

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما ان رجلا سال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اى الاسلام خير؟ قال: تطعم الطعام وتقرا السلام على من عرفت ومن لم تعرف.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا عبداللہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا:اسلام کی کونسی خصلت بہترہے؟ آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ”کھانا کھلاؤ اور ہرشخص کو سلام کرو خواہ تم اُسے جانتے ہو یا نہ جانتے ہو۔“

شرح حدیث

مذکورہ حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ ایک شخص نے حضورعَلَیْہِ السَّلَامسے اسلام کی بہترین خصلت کے بارے میں سوال کیا۔ علامہ سید محموداحمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”یہ سوال غالبًا حضرت ابوذر غفاریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے کیا تھا، حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے اِس کے جواب میں دو باتوں کو اِسلام کی بہترین خصلت قراردیا، کھانا کھلانا اور سلام کرنا مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف دوہی بہترین خصلتیں ہیں بلکہ مقصود یہ بتانا ہے کہ اسلام کی بہترین خصلتوں میں سے یہ دو بھی ہیں، کھانا کھلانے کی اہمیت و افادیت سے کون انکار کرسکتا ہے خصوصاً غریب و نادار کو کھانا کھلانا ایک ایسا عمل ہے جواللہ عَزَّ وَجَلَّکو بہت ہی محبوب ہے۔ کتابِ مجید میں یتیموں، مسکینوں، غریبوں کے لیے خوراک مہیا کرنے کی مختلف و مؤثر انداز میں ترغیب دی گئی ہے۔سلام و طعام کے افضل ہونے کی وجہ:فقیہِ اعظم، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”سب مخلوق کو کھانا کھلاؤ خواہ وہ مالدار ہو خواہ وہ غریب ہو، خواہ شناسا ہو خواہ غیر شناسا، انسان ہو یا حیوان سب کو کھلاؤ۔ مزید فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں کھانا کھلانے اور سلام کرنے کو خیر الاسلام فرمایا، اس میں ایک دقیق اشارہ اس بات کی جانب ہے کہ اگرچہ بعض اعمال بعض سے فی نفسہٖ افضل ہیں مگر کبھی خاص وجہ سے کوئی خاص عمل افضل اور بہتر ہو جاتا ہے۔ اِس سے اُن تمام اَحادیث میں تطبیق ہوگئی کہ کسی میں جہاد کواَفْضَلُ الْاَعْمَالبتایا کسی میں کلمہ طیبہ پڑھنے کو وغیرہ وغیرہ ۔ مثلاً کسی عالم سے پوچھئے کہ کس صدقۂ نافلہ میں زیادہ ثواب ہے تو یہ جواب دے گا کہ دینی مدرسہ کی امداد کرنے میں لیکن اسی عالم سے پوچھئے کہ کسی کے پاس پانچ روپے ہیں اور اس کا کوئی پڑوسی بھوک سے مررہا ہے تو اب کس میں زیادہ ثواب ہے تو یہی عالم جواب دے گا کہ اس بھوکے مسلمان پڑوسی کی جان بچانے میں۔حدیث زیرِ بحث کے بارے میں ایک اندازہ یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں تشریف لاتے ہی فرمایا تھا۔ جیساکہ حضرت سَیِّدُنا عبداللہبن سلامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ میں نے جب سنا کہ حضورِ اقدسصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لاچکے ہیں تو میں حاضر ہوا میں نے جب بغور رُوئے انور دیکھا تو کہہ اُٹھا کہ یہ جھوٹے کا چہرہ نہیں اور پہلا ارشاد جو سنا وہ یہ تھا کہ ”اے لوگو! سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ، رات میں جب لوگ سورہے ہوں نماز پڑھو سلامتی کے ساتھ جنت میں چلے جاؤ۔“ ظاہر ہےکہ ایسے وقت جب مکہ سے لُٹے پٹے خانما برباد مہاجرین مدینہ طیبہ آرہے ہیں ان کی یہاں کوئی شناسائی نہیں، اجنبی ہیں، اس کی ضرورت تھی کہ ان کو اپنایا جائے ان کو بھوکا نہ رہنے دیا جائے، خود جنگِ بُغاث کی وجہ سے انصار میں کافی تناؤ تھا، اس وقت اِفْشَاءِ سَلام(یعنی سلام کو پھیلانے یا عام کرنے)، اِطْعَا مِ طَعام(یعنی کھانا کھلانے) کی حاجت شدید تھی، لوگ نماز کے عادی نہ تھے وہ بھی تہجد سے اس وقت واقف بھی نہ ہوں گے، انہیںرُجُوْع اِلَی اللہکے لیے نماز کی کتنی شدید ضرورت تھی، اس لیے ان تین چیزوں کو اس موقع پر خصوصیت سے بیان فرمایا۔ پھر سلام و طعام ایسی چیزیں ہیں کہ ان کی افادیت سے کسی عاقل کو انکار ہوہی نہیں سکتا، یہ دونوں چیزیں آپس میں محبت و اتفاق پیدا کرنے کے لیے مُجَرَّب تیر بَہَدَف عمل ہیں۔مسلمانوں کو کھانا کھلائیں:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”اس حدیثِ پاک میں باہمی بھائی چارے، کھانا کھلاکر لوگوں کے دلوں کو ایک دوسرے کے قریب کرنے اور سلام کو عام کرنے پر اُبھارا گیا ہے کیونکہ کوئی اورعمل ایسا نہیں جو اِن دو کاموں سے زیادہ دِلوں میں باہمی محبت و مَوَدَّت پیدا کرے،اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآنِ کریم میں بھی کھاناکھلانے والوں کی تعریف بیان فرمائی ہے، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا(۸)(پ۲۹،الدھر:۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اَسِیر (قیدی) کو۔
اور پھر
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس نیک کام پر ملنے والے عظیم اجر و ثواب کو بیان فرمایا ہے، ارشاد ہوتا ہے:فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ(۱۱) وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًا(پ۲۹،الدھر:۱۱،۱۲)
ترجمۂ کنزالایمان: تو انہیں
اللہنے اس دن کے شر سے بچالیا اور انہیں تازگی اور شادمانی دی اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے۔
اور جہنمیوں کی صفات میں
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے یہ صفت بھی بیان فرمائی ہے کہ وہ (محتاجوں کو) کھانا نہیں کھلاتے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ(۴۲)قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ(۴۳) وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَۙ(۴۴)(پ۲۹،المدثر:۴۲تا۴۴)
ترجمۂ کنزالایمان: تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے۔
اوراللہ عَزَّ وَجَلَّنے ایسے لوگوں کی مذمت بیان فرمائی ہے کہ جو یہ اِرادہ کرتے ہیں کہ وہ محتاجوں کو اپنا کھانا نہ کھلائیں، چنانچہ ارشاد ِباری تعالیٰ ہے:اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ(۱۷)وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ(۱۸)فَطَافَ عَلَیْهَا طَآىٕفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآىٕمُوْنَ(۱۹) فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ(۲۰)(پ۲۹،القلم:۱۷تا۲۰)
ترجمۂ کنزالایمان: جب انہوں نے قسم کھائی کہ ضرور صبح ہوتے اس کے کھیت کاٹ لیں گے اور
اِنْ شَآءَ اللہنہ کہا تو اس پر تیرے رب کی طرف سے ایک پھیری کرنے والا پھیرا کر گیا اوروہ سوتے تھے تو صبح رہ گیا جیسے پھل ٹوٹا ہوا۔ہرواقف وناواقف مسلمان کو سلام کریں:مذکورہ حدیثِ پاک میں واقف ناواقف سب کو سلام کرنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ’’عادت یہ ہے کہ انسان عُمومًا انہیں کو سلام کرتا ہے جنہیں پہچانتا ہے، لوگ اجنبی کو سلام نہیں کرتے، اس پر تنبیہ فرمائی کہ ہر مسلمان کو سلام کرو خواہ اُسے پہچانتے ہو خواہ نہ پہچانتے ہو، البتہ غیر مسلم کو سلام کرنا جائز نہیں اور وہ بدمذہب جنکی بدمذہبی حدِّکفر تک پہنچتی ہو مثلاً: قادیانی، نیچیری وغیرہ۔ اسی طرح اُن بدمذہبوں کو بھی سلام کرنا جائز نہیں جو گمراہ ہیں اگرچہ اُن کی گمراہی حدِّکفرتک نہ پہنچی ہو جیسے تفضیلی۔ بلکہ بدمذہبوں کے سلام کا جواب دینا بھی جائز نہیں، اِسی طرح فاسِقِ مُعْلِن کو بھی سلام کرنا منع ہے۔ کچھ بولے بغیر صرف ہاتھ یا ہتھیلی سے اِشارہ کرنا یہودونصاریٰ کا طریقہ ہے مسلمانوں میں بھی یہ عادت ہوگئی ہے کہ سلام کے وقت اِشارہ کرتے ہیں اگرچہ زبان سے بھی کہتے ہیں مگراَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْکہنا کافی ہے، ہاتھ سے اشارہ نہ کرے۔‘‘علامہ سید محموداحمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”حضورِ اقدسصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوستی اور پرخُلوص تعلقات کے فَروغ کے جن کثیر آداب و مراسم کی ترغیب دی ہے ان میں ایک سلام بھی ہے۔ کتابِ مجید میں فرمایا: (وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَاؕ-)(پ۵،النساء:۸۶) ترجمۂ کنزالایمان:’’اور جب تمہیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو تم اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا وہی کہہ دو۔‘‘(ایک اور مقام پر فرمایا:) (فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ) (پ۱۸،النور:۶۱) ترجمۂ کنزالایمان: ’’پھر جب کسی گھر میں جاؤ تو اپنوں کو سلام کرو۔‘‘اگرچہ دیگر اقوام میں بھی یہ طریقہ رائج ہے کہ جب دو اشخاص ملتے ہیں یا ایک دوسرے کے گھر جاتے ہیں تو کسی اور گفتگو سے قبل کوئی لفظ یا فقرہ ایسا کہتے ہیں جو دوستی اور تعارف کو پیدا کرتے ہیں۔مثلاً انگریزوں میں وقت کے تعلق سےگڈمارننگ(Good Morning) اور گڈ نائٹ(Good Night) وغیرہ رائج ہیں مگر یہ ماننا پڑے گا کہ ان میں وہ وسعت اور عمومیت نہیں ہے جو اسلام کے سلام میں پائی جاتی ہے۔ گڈمارننگ(Good Morning) کا مطلب روز بخیر ہے، گویا یہ جملہ کہنے والا دعا دے رہا ہے کہ آپ کا دن خیریت سے گزرے، اسی طرح دوسرے الفاظ بھی وقت کے ساتھ مقید ہیں۔ لیکن لفظ ”سلام“کے مفہوم میں ہر طرح کی خیر و برکت،مسرت و راحت داخل ہے،اس میں نہ وقت کی قید ہے نہ زمانے کی۔اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْکہہ کر گویا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے حق میں بطورِ دعا بہترین جذبات و خواہشات کا اظہار کرتا ہے اور”سلامتی ہو تم پر“کے ذیل میں دین و دنیا کی تمام راحتیں اور برکتیں آجاتی ہیں۔غرضیکہ اسلام کے”سلام“میں جو وُسعت و عُمُومیت ہے وہ دنیا کے کسی ضابطہ، تہذیب و نظام، تَمَدُّن کے مقرر کردہ الفاظ میں نہیں ہے۔“مدنی گلدستہ’’کھانا کھلاؤ‘‘کے11حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے11مدنی پھول
(1) غریبوں اور مسکینوں کو کھانا کھلانا اور سب مسلمانوں کو سلام کرنا اسلام کی دو بہترین خصلتیں ہیں۔
(2) محتاجوں اور یتیموں کو کھانا کھلانا
اللہ عَزَّ وَجَلَّکو بہت محبوب ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآن مجید میں کھانا کھلانے والوں کی تعریف بیان فرمائی ہے۔
(3) بعض اعمال بعض سے فی نفسہٖ افضل ہوتے ہیں مگر کبھی کسی خاص وجہ سے کوئی خاص عمل افضل اور بہتر ہو جاتا ہے۔
(4) کھانا کھلانے اور سلام کرنے سے باہمی محبت و اُلفت اور اتحاد و اتفاق پیدا ہوتا ہے۔
(5) قرآنِ کریم میں جہنمیوں کی ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے۔
(6) جو شخص اپنے مال اور اپنی آمدنی میں فقراء اور مساکین کا حصہ بھی مقرر کرتا ہے
اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے مال میں بہت زیادہ برکت عطا فرماتا ہے۔
(7) صرف جان پہچان والوں کو سلام نہ کریں بلکہ ہر مسلمان کو سلام کرنے کی عادت بنائیں۔
(8) زبان سے کچھ کہے بغیر صرف ہاتھ یا ہتھیلی سے اشارہ کرنا یہودیوں اور عیسائیوں کا طریقہ ہے مسلمان کو چاہیے کہ زبان سے سلام کرے ہاتھ یا ہتھیلی سے اشارہ نہ کرے۔
(9) غیر مسلموں، بدمذہبوں اور گمراہوں کو سلام کرنا جائز نہیں بلکہ بدمذہب کے سلام کا جواب دینا بھی جائز نہیں، فاسق معلن کو بھی سلام میں پہل کرنا منع ہے۔
(10) ہر مذہب میں گفتگو یا حال احوال پوچھنے سے پہلے سلام کی طرح مخصوص الفاظ بولے جاتے ہیں مگر اسلام کے ”سلام“ میں جو وسعت و عمومیت پائی جاتی ہے وہ کسی اور لفظ یا فقرہ میں نہیں پائی جاتی۔
(11) جب کوئی سلام کرے تو اُسے اچھے الفاظ میں جواب دیں یا وہی الفاظ کہہ دیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں مسلمانوں کو کھانا کھلانے اور ہر واقف و ناواقف مسلمان کو سلام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 550