- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- حدیث نمبر 559
باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 559
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَسْمَاءَ بِنْتِ اَبِیْ بَكْر الصِّدِّيْقِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُمَا قَالَتْ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُوْکِیْ فَيُوْكَىْ عَلَيْكِ.وَفِيْ رِوَايَةٍ:اَنْفِقِيْ اَوِانْفَحِيْ اَوِانْضَحِيْ وَلَا تُحْصِيْ فَيُحْصِيَ اللهُ عَلَيْكِ وَلَا تُوْعِيْ فَيُوْعِيَ اللهُ عَلَيْكِ.
عن اسماء بنت ابی بكر الصديق رضی اللہ عنہما قالت: قال لی رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا توکی فيوكى عليك.وفي رواية:انفقي اوانفحي اوانضحي ولا تحصي فيحصي الله عليك ولا توعي فيوعي الله عليك.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدَتُنَا اسماء بنت ابو بکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتی ہیں کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے فرمایا: ”صدقہ کرنے سے نہ رکو ورنہ تم پر بھی رزق روک دیا جائے گا۔“اور ایک روایت میں ہے:’’ خرچ کرو یا عطا کرو اور گِن گِن کر مت دو ورنہاللّٰہتعالیٰ بھی تمہیں حساب سے دے گا اور جمع مت کرو ورنہاللّٰہتعالیٰ بھی تم سے روک لے گا۔“
شرح حدیث
نفلی صدقہ کا حساب نہ لگاؤ:مذکورہ حدیثِ پاک میں کھلے دل سےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں صدقہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ بخاری کی ایک روایت میں یہ حدیث پاک اس طرح ذکر کی گئی ہے کہ حضرت اسماءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِانے حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی بارگاہ میں عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے پاس صرف وہ مال ہے جو(میرے شوہر) حضرت زبیررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے میرے پاس رکھا ہے تو کیا میں اس میں سے صدقہ کر سکتی ہوں؟ تو حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا کہ صدقہ کرو اور جمع کرکے نہ رکھو ورنہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبھی تم سے روک لے گا۔یعنی تو بخل نہ کر اور مال جمع کرنے کے لیے خیرات کو نہ روک اور صدقات سے مال ختم ہو جانے کی فکر نہ کر، ورنہاللّٰہتعالیٰ تجھ سے اپنا رزق روک لے گا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقات و خیرات سے مال بڑھتا ہے اور اس میں برکت ہے۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحضورعَلَیْہِ السَّلَامکے فرمان کا مطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”یعنی اے اسماء اپنے مال میں سے مطلقًا اور اپنے خاوند کے مال سے بقدرِ اجازت خرچ کرتی رہونفلی صدقہ کا حساب نہ لگاؤ ورنہ شیطان دل میں بخل پیدا کردے گا، لہذا یہ حدیث زکوۃ کے حساب کے خلاف نہیں، بے حساباللّٰہکے نام پر دو تو وہاں سے تمہیں اتنا ملے گا کہ تم حساب نہ کرسکو گی، یہ مطلب نہیں کہ رب تعالیٰ کے حساب سے باہر ہوگا۔کھیت میں پانی دیتے وقت ایک شخص کنوئیں سے پانی چھوڑتا ہے اور دوسرا کیاریوں میں پھیلاتا ہے جب تک یہ پھیلاتا رہتا ہے وہاں سے پانی آتا رہتا ہے، دینی راستےاللّٰہکی کیاریاں ہیں مالدار لوگ ان میں پانی پھیلانے والے ہیں اور روزی پہنچانے والے فرشتے پانی چھوڑنے والے۔“علامہ سید محموداحمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”بیوی شوہر کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر حسبِ عُرف و رواج صدقہ و خیرات کرے تو جائز ہےمگر صدقہ کی مالیت ایسی ہونی چاہیے جو شوہر پر گراں نہ ہو یعنی وہ رقم ایسی ہو کہ عام طورپر اس قدر صدقہ و خیرات کرنے سے شوہر نہ روکتے ہوں۔“بےحساب دو بےحساب پاؤ:حدیثِ پاک میں بیان ہو ا کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا کہ خرچ کرو اوراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں گن گن کر مت دو ورنہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبھی حساب سے عطا فرمائے گا۔ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں: ”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے حساب سے عطا فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمہارے مال سے برکت ختم کرکے تمہارے رزق کو تھوڑا کردے گا اور تمہارے مال کو محدود چیزوں کی مانند کردے گا یا یہ مطلب ہے کہ کل بروزِ قیامت تم سے تمہارے مال کے بارے میں محاسبہ کرے گا۔“ مطلبِ حدیث یہ ہے کہ صدقہ و خیرات کھلے دل کے ساتھ دینا چاہیے خدا کی راہ میں دی گئی رقم کو گنتے رہنا کہ اتنی رقم دے چکا ہوں، پھر اس گنتی کو بوجھ بناکر صدقہ و خیرات سے رک جانا ٹھیک نہیں ہے، خدا توفیق دے تو اللّٰہ کی راہ میں بلا حساب دیجئےاللّٰہتعالیٰ بھی بے حساب ہی عطا فرمائے گا۔مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”یہ خیال نہ کرو کہ اتنی تھوڑی اور معمولی چیز اتنی بڑی بارگاہ میں کیا پیش کر وں وہاں مال کی مقدار نہیں دیکھی جاتی دل کا اخلاص دیکھا جاتاہے،خیال رہے کہ رب تعالیٰ فرماتاہے: (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ) (پ۴،آلِ عمران:۹۲) جب تک کہ اپنی پیاری چیز خیرات نہ کرو بھلائی نہیں پاسکتے اور جہاں حکم دیا گیا کہ جو ہوسکے خیرات کرو ان دونوں میں تعارض نہیں۔آیت کا منشاء یہ ہے کہ ہمیشہ معمولی چیز ہی خیرات نہ کرو اچھی چیزیں بھی خیرات کرو اور اس حدیث کا منشاء یہ ہے کہ بڑی چیز کی انتظار میں چھوٹی خیراتوں سے باز نہ رہو جو چیز کھانے پینے سے بچ رہی اس کے بگڑ جانے کا خطرہ ہے فورًا کسی کو دے دو ورنہ برباد ہوجائے گی۔“مدنی گلدستہ’’تَصَدُّق‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) مال ختم ہوجانے کے خوف سے صدقہ نہ کرنے سے مال میں برکت ختم ہو جاتی ہے۔
(2)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نام پر بے حساب دینے سے اتنا ملے گا کہ جس کا حساب نہ ہو سکے گا۔
(3) بیوی کا شوہر کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر عرف و رواج کے مطابق صدقہ کرنا جائز ہے جبکہ شوہر ناراض نہ ہو۔
(4)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں اگر تھوڑی اور معمولی چیز صدقہ کرنے کی استطاعت ہے اور بڑی چیز صدقہ کرنے کی طاقت نہیں تو یہ معمولی چیز ہی صدقہ کردے کیونکہ وہاں مال کی مقدار نہیں دیکھی جاتی دل کا اخلاص دیکھا جاتاہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بلا حساب صدقہ و خیرات کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے رزق میں برکت عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 559