Main Icon

باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 559

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَسْمَاءَ بِنْتِ اَبِیْ بَكْر الصِّدِّيْقِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُمَا قَالَتْ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُوْکِیْ فَيُوْكَىْ عَلَيْكِ.وَفِيْ رِوَايَةٍ:اَنْفِقِيْ اَوِانْفَحِيْ اَوِانْضَحِيْ وَلَا تُحْصِيْ فَيُحْصِيَ اللهُ عَلَيْكِ وَلَا تُوْعِيْ فَيُوْعِيَ اللهُ عَلَيْكِ.

عن اسماء بنت ابی بكر الصديق رضی اللہ عنہما قالت: قال لی رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا توکی فيوكى عليك.وفي رواية:انفقي اوانفحي اوانضحي ولا تحصي فيحصي الله عليك ولا توعي فيوعي الله عليك.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنَا اسماء بنت ابو بکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتی ہیں کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے فرمایا: ”صدقہ کرنے سے نہ رکو ورنہ تم پر بھی رزق روک دیا جائے گا۔“اور ایک روایت میں ہے:’’ خرچ کرو یا عطا کرو اور گِن گِن کر مت دو ورنہاللّٰہتعالیٰ بھی تمہیں حساب سے دے گا اور جمع مت کرو ورنہاللّٰہتعالیٰ بھی تم سے روک لے گا۔“

شرح حدیث

نفلی صدقہ کا حساب نہ لگاؤ:مذکورہ حدیثِ پاک میں کھلے دل سےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں صدقہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ بخاری کی ایک روایت میں یہ حدیث پاک اس طرح ذکر کی گئی ہے کہ حضرت اسماءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِانے حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی بارگاہ میں عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے پاس صرف وہ مال ہے جو(میرے شوہر) حضرت زبیررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے میرے پاس رکھا ہے تو کیا میں اس میں سے صدقہ کر سکتی ہوں؟ تو حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا کہ صدقہ کرو اور جمع کرکے نہ رکھو ورنہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبھی تم سے روک لے گا۔یعنی تو بخل نہ کر اور مال جمع کرنے کے لیے خیرات کو نہ روک اور صدقات سے مال ختم ہو جانے کی فکر نہ کر، ورنہاللّٰہتعالیٰ تجھ سے اپنا رزق روک لے گا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقات و خیرات سے مال بڑھتا ہے اور اس میں برکت ہے۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحضورعَلَیْہِ السَّلَامکے فرمان کا مطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”یعنی اے اسماء اپنے مال میں سے مطلقًا اور اپنے خاوند کے مال سے بقدرِ اجازت خرچ کرتی رہونفلی صدقہ کا حساب نہ لگاؤ ورنہ شیطان دل میں بخل پیدا کردے گا، لہذا یہ حدیث زکوۃ کے حساب کے خلاف نہیں، بے حساباللّٰہکے نام پر دو تو وہاں سے تمہیں اتنا ملے گا کہ تم حساب نہ کرسکو گی، یہ مطلب نہیں کہ رب تعالیٰ کے حساب سے باہر ہوگا۔کھیت میں پانی دیتے وقت ایک شخص کنوئیں سے پانی چھوڑتا ہے اور دوسرا کیاریوں میں پھیلاتا ہے جب تک یہ پھیلاتا رہتا ہے وہاں سے پانی آتا رہتا ہے، دینی راستےاللّٰہکی کیاریاں ہیں مالدار لوگ ان میں پانی پھیلانے والے ہیں اور روزی پہنچانے والے فرشتے پانی چھوڑنے والے۔“علامہ سید محموداحمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”بیوی شوہر کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر حسبِ عُرف و رواج صدقہ و خیرات کرے تو جائز ہےمگر صدقہ کی مالیت ایسی ہونی چاہیے جو شوہر پر گراں نہ ہو یعنی وہ رقم ایسی ہو کہ عام طورپر اس قدر صدقہ و خیرات کرنے سے شوہر نہ روکتے ہوں۔“بےحساب دو بےحساب پاؤ:حدیثِ پاک میں بیان ہو ا کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا کہ خرچ کرو اوراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں گن گن کر مت دو ورنہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبھی حساب سے عطا فرمائے گا۔ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں: ”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے حساب سے عطا فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمہارے مال سے برکت ختم کرکے تمہارے رزق کو تھوڑا کردے گا اور تمہارے مال کو محدود چیزوں کی مانند کردے گا یا یہ مطلب ہے کہ کل بروزِ قیامت تم سے تمہارے مال کے بارے میں محاسبہ کرے گا۔“ مطلبِ حدیث یہ ہے کہ صدقہ و خیرات کھلے دل کے ساتھ دینا چاہیے خدا کی راہ میں دی گئی رقم کو گنتے رہنا کہ اتنی رقم دے چکا ہوں، پھر اس گنتی کو بوجھ بناکر صدقہ و خیرات سے رک جانا ٹھیک نہیں ہے، خدا توفیق دے تو اللّٰہ کی راہ میں بلا حساب دیجئےاللّٰہتعالیٰ بھی بے حساب ہی عطا فرمائے گا۔مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”یہ خیال نہ کرو کہ اتنی تھوڑی اور معمولی چیز اتنی بڑی بارگاہ میں کیا پیش کر وں وہاں مال کی مقدار نہیں دیکھی جاتی دل کا اخلاص دیکھا جاتاہے،خیال رہے کہ رب تعالیٰ فرماتاہے: (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ) (پ۴،آلِ عمران:۹۲) جب تک کہ اپنی پیاری چیز خیرات نہ کرو بھلائی نہیں پاسکتے اور جہاں حکم دیا گیا کہ جو ہوسکے خیرات کرو ان دونوں میں تعارض نہیں۔آیت کا منشاء یہ ہے کہ ہمیشہ معمولی چیز ہی خیرات نہ کرو اچھی چیزیں بھی خیرات کرو اور اس حدیث کا منشاء یہ ہے کہ بڑی چیز کی انتظار میں چھوٹی خیراتوں سے باز نہ رہو جو چیز کھانے پینے سے بچ رہی اس کے بگڑ جانے کا خطرہ ہے فورًا کسی کو دے دو ورنہ برباد ہوجائے گی۔“مدنی گلدستہ’’تَصَدُّق‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) مال ختم ہوجانے کے خوف سے صدقہ نہ کرنے سے مال میں برکت ختم ہو جاتی ہے۔
(2)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نام پر بے حساب دینے سے اتنا ملے گا کہ جس کا حساب نہ ہو سکے گا۔
(3) بیوی کا شوہر کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر عرف و رواج کے مطابق صدقہ کرنا جائز ہے جبکہ شوہر ناراض نہ ہو۔
(4)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں اگر تھوڑی اور معمولی چیز صدقہ کرنے کی استطاعت ہے اور بڑی چیز صدقہ کرنے کی طاقت نہیں تو یہ معمولی چیز ہی صدقہ کردے کیونکہ وہاں مال کی مقدار نہیں دیکھی جاتی دل کا اخلاص دیکھا جاتاہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بلا حساب صدقہ و خیرات کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے رزق میں برکت عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 559