باب: جُودوسَخاوت کابیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 5

حضرت سَیِّدُنَا عبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”دو آدمیوں کے علاوہ کسی پر حسد (یعنی رشک) کرنا جائز نہیں:(1) وہ شخص جسےاللہ عَزَّ وَجَلَّنے مال عطا فرمایا اور اُسے صحیح راستے میں خرچ کرنے کی قدرت عطا فرمائی ۔(2) وہ مرد جسےاللہتعالیٰ نے (دِین کا)علم عطا کیا تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرے اور اس کی تعلیم دے۔“

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا حَسَدَ اِلَّا فِی اثْنَتَيْنِ:رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ في الْحَقِّ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِيْ بِهَا ويُعَلِّمُهَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 544 ، باب: جُودوسَخاوت کابیان

حضرت سَیِّدُناعبد اللہبن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”تم میں سے کون ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہے؟ صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کیا:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ہم میں سے ہر ایک کو اپنا ہی مال زیادہ محبوب ہے، آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ”بیشک اس کا مال تو وہ ہے جو اس نے آگے بھیج دیا اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جواُس نے پیچھے چھوڑا۔“

عَنْ اِبْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ اَحَبُّ اِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ؟ قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللهِ مَا مِنَّا اَحَدٌ اِلَّا مَالُهُ اَحَبُّ اِلَيْهِ قَالَ: فَاِنَّ مَالَهُ مَا قَدَّمَ وَمَالُ وَارِثِهِ مَا اَخَّرَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 545 ، باب: جُودوسَخاوت کابیان

حضرت سَیِّدُنَا عدی بن حاتمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”آگ سے بچو اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے (کے صدقہ) سے ہی ہو۔“

عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِـمٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 546 ، باب: جُودوسَخاوت کابیان

حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”ایسا کبھی نہیں ہوا کہ نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کسی چیز کا سوال کیا گیا ہو اور آپ نے اس کے جواب میں ”لَا“(یعنی نہیں)فرمایا ہو۔“

عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: مَا سُئِلَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ: لَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 547 ، باب: جُودوسَخاوت کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی پاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:ہر صبح جب لوگ اٹھتے ہیں تو(آسمان سے)دو فرشتے اُترتے ہیں، اُن میں سے ایک کہتا ہے: ”اےاللہ عَزَّوَجَلَّ! خرچ کرنے والے کوبدلہ عطا فرما۔“اور دوسرا کہتا ہے:”اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! روکنے والے کا مال ضائع فرما۔“

عَنْ اَبِيْ هُرَ يْرَ ةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيْهِ اِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ فَيقُوْلُ اَحَدُهُمَا:اَللّٰهُمَّ اَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَيَقُوْلُ الْاٰخَرُ:اَللّٰهُمَّ اعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 548 ، باب: جُودوسَخاوت کابیان

حضرت سَیِّدُنَاابوہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہاللہتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”اے انسان! تو خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔“

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ اللهُ تَعَالٰی: اَنْفِقْ يَا ابْنَ آدَمَ اُنْفِقْ عَلَيْكَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 549 ، باب: جُودوسَخاوت کابیان

حضرت سَیِّدُنَا عبداللہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا:اسلام کی کونسی خصلت بہترہے؟ آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ”کھانا کھلاؤ اور ہرشخص کو سلام کرو خواہ تم اُسے جانتے ہو یا نہ جانتے ہو۔“

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَىُّ الْاِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ: تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَاُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 550 ، باب: جُودوسَخاوت کابیان

حضرت سَیِّدُنا عبداللہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”چالیس خصلتیں ہیں اور اُن میں سے سب سے اعلیٰ خصلت کسی کو دودھ والی بکری دیناہے اور جو شخص ثواب کی اُمید رکھتے ہوئے اور وعدۂ ثواب کی تصدیق کرتے ہوئے اِن میں سے کسی ایک خصلت پر بھی عمل کرے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“

عَنْ عَبْدِ اللہ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَرْبَعُوۡنَ خَصْلَةً اَعْلَاهَا مَنِيۡحَةُ الْعَنْزِ مَا مِنْ عَامِلٍ يَعْمَلُ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا رَجَاءَ ثَوَابِهَا وَتَصْدِيۡقَ مَوْعُوۡدِهَا اِلَّا اَدْخَلَهُ اللَّهُ تَعَالٰی بِهَا الْجَنَّةَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 551 ، باب: جُودوسَخاوت کابیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو اُمامہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”اے ابنِ آدم! تیرا ضرورت سے زائد مال کو (راہِ خدا میں) خرچ کرنا تیرے لیے بہتر ہے اور تیرا اُس مال کو روکے رکھنا تیرے لیے بُرا ہےاور بقدرِ ضرورت روکنے پر تجھے ملامت نہیں کیا جائے گا اور (خرچ کرنے میں) اپنے اہل و عیال سے ابتدا کر اور اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔“

عَنْ اَبِيْ اُمَامَةَ صُدَّيِّ بْنِ عَجْلَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا ابْنَ آدَمَ! اِنَّكَ اَنْ تَبْذُلَ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَكَ وَاَنْ تُمْسِكَهُ شَرٌّ لَكَ وَلَا تُلَامُ عَلَى كَفَافٍ وَابْدَاْ بِمَنْ تَعُوْلُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفْلَى.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 552 ، باب: جُودوسَخاوت کابیان

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اسلام کے نام پر جس چیز کا بھی سوال کیا گیا آپعَلَیْہِ السَّلَامنے وہ عطا فرمائی، ایک شخص آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے اسے اتنی بکریاں عطا فرمائیں جو دو پہاڑوں کی درمیان کی جگہ کو بھر دیں، پھر وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا تو کہنے لگا:”اے میری قوم! مسلمان ہو جاؤ، بےشک حضرت محمدصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتو اس شخص کی طرح عطا فرماتے ہیں جسےفقر کا خوف ہی نہ ہو۔“(حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:)اور ایک شخص محض دنیا کے حُصُول کے لیے مسلمان ہوتا ہے لیکن زیادہ عرصہ نہیں گزرتا کہ اسلام اس کے نزدیک دنیا اور جو کچھ اس دنیا میں ہے ان سب سے زیادہ محبوب ہو جاتا ہے۔

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: مَا سُئِلَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْاِسْلَامِ شَيْئًا اِلَّا اَعْطَاهُ وَلَقَدْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَاَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَرجَعَ اِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ: يَا قَوْمِ! اَسْلِمُوْا فَاِنَّ مُحَمَّدًا يُعطِيْ عَطَاءَ مَنْ لَا يَخْشَى الفَقْرَ. وَاِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيْدُ اِلَّا الدُّنْيَا فَمَا يَلْبَثُ اِلَّا يَسِيْرًا حَتّٰى يَكُوْنَ الْاِسْلَامُ اَحَبَّ اِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 553 ، باب: جُودوسَخاوت کابیان

حضرت سَیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کچھ مال تقسیم فرمایا، میں نے عرض کی:”یارسولَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ان کے علاوہ لوگ اس مال کے ان سے زیادہ مستحق تھے؟ آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ”انہوں نے ایسی صورت پیدا کردی تھی کہ (اگر میں نہ دیتا تو) وہ مجھ سے زیادہ کا سوال کرتے یا مجھے بخیل کہتے حالانکہ میں بخیل نہیں ہوں۔“

عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَسَمَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا فَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللهِ! لَغَيْرُ هٰؤُلَاءِ كَانُوْا اَحَقَّ بِهِ مِنْهُمْ؟ قَالَ: اِنَّهُمْ خَيَّرُوْنِیْ اَنْ یَسْاَلُوْنِيْ بِالْفُحْشِ اَوْ يُبَخِّلُوْنِيْ وَلَسْتُ بِبَاخِلٍ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 554 ، باب: جُودوسَخاوت کابیان

حضرت سَیِّدُنا جبیر بن مطعمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ وہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ غزوۂ حنین سے واپس آرہے تھے کہ چند دیہاتی آپ سے لپٹ گئے وہ آپعَلَیْہِ السَّلَامسے کچھ مانگ رہے تھے یہاں تک کہ وہ آپعَلَیْہِ السَّلَامکوببول کے درخت کی طرف لے گئے اور آپ کی چادر لے لی ۔نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمٹھہر گئے اور فرمایا: ”مجھے میری چادر دے دو، اگر میرے پاس ان خار دار درختوں کے برابر بھی اونٹ ہوتے تو میں ضرور انہیں تمہارے درمیان تقسیم کردیتا پھر تم مجھے نہ بخیل پاتے نہ جھوٹا اور نہ ہی بزدل۔“

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّہُ قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يَسِيْرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْفَلَهُ مِنْ حُنَيْنٍ فَعَلِقَهُ الْاَعْرَابُ يَسْاَلُوْنَهُ حَتَّى اضْطَرُّوْهُ اِلَى سَمُرَۃٍ فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اَعْطُوْنِيْ رِدَائِيْ فَلَوْ كَانَ لِيْ عَدَدُ هذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُوْنِيْ بَخِيْلًا وَلَا كَذَّابًا وَلَا جَبَانًا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 555 ، باب: جُودوسَخاوت کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور کسی کو معاف کردینے سےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبندے کی عزت ہی بڑھاتا ہے اور جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی خاطر تواضع اختیار کرتا ہےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاُسے بلندی ہی عطا فرماتا ہے۔“

عَنْ اَبِیْ ھُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ اِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ اِلَّا رَفَعَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 556 ، باب: جُودوسَخاوت کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابو کَبْشہ عمر بن سعد اَنْمارِیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا: ”میں تین باتوں پر قسم اُٹھاتا ہوں اور تم سے ایک بات بیان کرتا ہوں اسے اچھی طرح یاد کرلو۔ صدقہ سے آدمی کا مال کم نہیں ہوتا، مظلوم جب ظلم پر صبر کرتا ہے تواللّٰہتعالیٰ اس کی عزت بڑھاتا ہے، جب کوئی بندہ سوال کا دروازہ کھولتا ہے تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس پر محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے“ (راوی کو شک ہے کہ) یا اس کی مثل کوئی اور بات بیان فرمائی۔ پھر فرمایا کہ میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں اسے یاد رکھو، فرمایا: ”دنیا چار آدمیوں کے لیے ہے:(1)وہ شخص جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے مال اور علم عطا فرمایا اور وہ اس میں اپنے رب سے ڈرتا ہے اور صلہ رحمی کرتا ہے اور اس میںاللّٰہتعالیٰ کے حق کو جانتا ہے، یہ شخص سب سے افضل مرتبہ میں ہے۔(2)وہ شخص ہے جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے علم دیا مال نہیں دیا، یہ شخص سچی نیت کے ساتھ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح عمل کرتا پس یہ اپنی نیت کے مطابق ہے اور ان دونوں کا ثواب برابر ہے۔(3)وہ شخص جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے مال دیا لیکن علم نہیں دیا، وہ اپنے مال میں لاعلمی کی وجہ سے خَلط مَلط کرتا ہے اور نہ اس کے بارے میں رب سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ ہی یہ جانتا ہے کہ اس میںاللّٰہتعالیٰ کا حق بھی ہے، یہ بدترین درجہ میں ہے۔(4)چوتھا شخص وہ ہے جسےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے نہ تو مال دیا نہ علم، وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح (برے)عمل کرتا پس اس کی نیت کے مطابق بدلہ ہوگا اور ان دونوں کا گناہ برابر ہے۔“

عَنْ اَبِیْ کَبْشَةَ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ الْاَنْمَارِيِّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:ثَلاَثَةٌ اُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ وَاُحَدِّثُكُمْ حَدِيْثًا فَاحْفَظُوْهُ:مَا نَقَصَ مَالُ عَبْدٍ مِنْ صَدَقَةٍ وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ مَظْلِمَةً صَبَرَ عَلَيْهَا اِلَّا زَادَهُ اللهُ عِزًّا وَلَا فَتَحَ عَبْدٌ بَابَ مَسْاَلَةٍ اِلَّا فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ اَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا وَاُحَدِّثُكُمْ حَدِيْثًا فَاحْفَظُوْهُ قَالَ: اِنَّمَا الدُّنْيَا لِاَرْبَعَةِ نَفَرٍ:عَبْدٍ رَزَقَهُ اللهُ مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَتَّقِيْ فِيْهِ رَبَّهُ وَيَصِلُ فِيْهِ رَحِمَهُ وَيَعْلَمُ لِلّٰہِ فِيْهِ حَقًّا فَهٰذَا بِاَفْضَلِِ الْمَنَازِلِ وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللهُ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا فَهُوَ صَادِقُ النِّيَّةِ يَقُوْلُ: لَوْ اَنَّ لِيْ مَالًا لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَهُوَ بِنِيَّتِهِ فَاَجْرُهُمَا سَوَاءٌ وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا فَهُوَ يَخْبطُِ فِیْ مَالِهِ بِغَيرِ عِلْمٍ لَا يَتَّقِيْ فِيْهِ رَبَّهُ وَلَا يَصِلُ فِيْهِ رَحِمَهُ وَلَا يَعْلَمُ لِلّٰہِ فِيْهِ حَقًّا فَهٰذَا بِاَخْبَثِ الْمَنَازِلِ وَعَبْدٍ لَمْ يَرْزُقْهُ اللهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا فَهُوَ يَقُوْلُ:لَوْ اَنَّ لِيْ مَالًا لَعَمِلْتُ فِيْهِ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَهُوَ نِيَّتُهُ فَوِزْرُهُمَا سَوَاءٌ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 557 ، باب: جُودوسَخاوت کابیان

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے روایت ہے کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کی،نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ” کیا اس میں سے کچھ باقی ہے؟‘‘عرض کی: ”صرف اس کا ایک کندھا باقی ہے۔“آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ” کندھے کے سوا سب کچھ باقی ہے۔“

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہَا:اَنَّهُمْ ذَبَحُوْا شَاةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَا بَقِيَ مِنْهَا؟ قَالَتْ: مَا بَقِيَ مِنْهَا اِلَّا كَتِفُهَا قَالَ: بَقِيَ كُلُّهَا غَيْرَ كَتِفِهَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 558 ، باب: جُودوسَخاوت کابیان

حضرت سَیِّدَتُنَا اسماء بنت ابو بکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتی ہیں کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے فرمایا: ”صدقہ کرنے سے نہ رکو ورنہ تم پر بھی رزق روک دیا جائے گا۔“اور ایک روایت میں ہے:’’ خرچ کرو یا عطا کرو اور گِن گِن کر مت دو ورنہاللّٰہتعالیٰ بھی تمہیں حساب سے دے گا اور جمع مت کرو ورنہاللّٰہتعالیٰ بھی تم سے روک لے گا۔“

عَنْ اَسْمَاءَ بِنْتِ اَبِیْ بَكْر الصِّدِّيْقِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُمَا قَالَتْ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُوْکِیْ فَيُوْكَىْ عَلَيْكِ.وَفِيْ رِوَايَةٍ:اَنْفِقِيْ اَوِانْفَحِيْ اَوِانْضَحِيْ وَلَا تُحْصِيْ فَيُحْصِيَ اللهُ عَلَيْكِ وَلَا تُوْعِيْ فَيُوْعِيَ اللهُ عَلَيْكِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 559 ، باب: جُودوسَخاوت کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ انہوں نے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے تک لوہے کی زرہ ہو تو خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے نشانات مٹادیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتا۔

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:مَثَلُ الْبَخِيْلِ وَالمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيْدٍ مِنْ ثُدِيِّهِمَا اِلَى تَرَاقِيْهِمَا فَاَمَّا الْمُنْفِقُ فَلَا يُنْفِقُ اِلَّا سَبَغَتْ اَوْ وَفَرَتْ عَلَى جِلْدِهِ حَتَّى تُخْفِيَ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ اَثَرَهُ وَاَمَّا الْبَخِيْلُ فَلَا يُرِیْدُ اَنْ يُنْفِقَ شَيْئًا اِلَّا لَزِقَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَكَانَهَا فَهُوَ يُوَسِّعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 560 ، باب: جُودوسَخاوت کابیان

حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”جو شخص اپنی پاکیزہ کمائی میں سے ایک کھجور کے برابر بھی صدقہ دیتا ہےاوراللّٰہتعالیٰ پاکیزہ چیز ہی قبول فرماتا ہے تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ(اپنے شایانِ شان) اس صدقہ کو اپنے دائیں دستِ قدرت میں لیتا ہے پھر اسے صدقہ دینے والے کے لیے بڑھاتا رہتا ہےجس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچے کی پرورش کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ صدقہ پہاڑ کی طرح ہو جاتا ہے۔“

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ تَصَدَّقَ بعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللهُ اِلَّا الطَّیِّبَ فَاِنَّ اللهَ يَقْبَلُهَا بِيَمِيْنِهِ ثُمَّ يُرَبِّيْهَا لِصَاحِبِهَا كَمَا يُرَبِّيْ اَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حَتّٰى تَكُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 561 ، باب: جُودوسَخاوت کابیان

حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”ایک شخص جنگل سے گزر رہاتھا کہ اس نے بادل میں سے ایک آواز سنی کہ ”فلاں کے باغ کو سیراب کرو۔“ یہ بادل ایک طرف ہو گیا اور ایک پتھریلی زمین میں اپنا پانی برسادیا۔ وہاں کے نالوں میں سے ایک نالے میں وہ سارا پانی جمع ہوگیا (اوربہنے لگا)۔ یہ شخص اس پانی کے پیچھے پیچھے چل پڑا (وہ پانی ایک باغ میں داخل ہوا) کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص باغ میں کھڑا اپنے پھاؤڑے سے پانی کو اِدھر اُدھر کررہا ہے، اس نے باغ والے سے پوچھا اےاللّٰہکے بندے تیرا نام کیا ہے؟ وہ بولا: فلاں۔یہ وہ ہی نام تھا جو اس نے بادل سے آنے والی آواز میں سنا تھا۔باغ والے نے کہا :اےاللّٰہکے بندے تو میرا نام کیوں پوچھ رہا ہے؟ اس نے کہا: جس بادل نے یہ پانی برسایا ہے میں نے اس بادل سے یہ آواز سُنی تھی، کوئی تیرا نام لے کر کہہ رہاتھا کہ فلاں کے باغ کو سیراب کردو ،تو تم اس باغ میں کیا کرتے ہو؟ اس نے کہا: جب تونے پوچھ ہی لیا ہے (تو سُن) میں اس کی پیداوار کا اندازہ کرتا ہوں پھر ایک تہائی صدقہ کرتا ہوں، ایک تہائی میں اور میرے گھروالے کھاتے ہیں اور ایک تہائی کو اس باغ میں خرچ کردیتا ہوں۔“

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِيْ بِفَلاَةٍ مِنَ الْاَرْضِ فَسَمِعَ صَوْتًا فِیْ سَحَابَةٍ اسْقِ حَدِيْقَةَ فُلَانٍ، فَتَنَحَّى ذٰلِكَ السَّحَابُ فَاَفْرَغَ مَاءَهُ فِيْ حَرَّةٍ، فَاِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشِّرَاجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتْ ذٰلِكَ الْمَاءَ كُلَّهُ، فَتَتَبَّعَ الْمَاءَ، فَاِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِيْ حَدِيْقَتِهِ يُحَوِّلُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَاللهِ! مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: فُلَانٌ، لِلْاِسْمِ الَّذِيْ سَمِعَ فِي السَّحَابَةِ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَاللهِ! لِمَ تَسْاَلُنِيْ عَنِ اِسْمِيْ؟ فَقَالَ:اِنِّيْ سَمِعْتُ صَوْتًا فِی السَّحَابِ الَّذِيْ هَذَا مَاؤُهُ يَقُوْلُ:اسْقِ حَدِيْقَةَ فُلَانٍ، لِاِسْمِكَ فَمَا تَصْنَعُ فِيْهَا. فَقَالَ:اَمَّا اِذْ قُلْتَ هَذَا، فَاِنِّي اَنْظُرُ اِلَى مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، فَاَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ وَآكُلُ اَنَا وَعِيَالِيْ ثُلُثًا وَاَرُدُّ فِيْهَا ثُلُثَهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 562 ، باب: جُودوسَخاوت کابیان