Main Icon

باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 548

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَ يْرَ ةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيْهِ اِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ فَيقُوْلُ اَحَدُهُمَا:اَللّٰهُمَّ اَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَيَقُوْلُ الْاٰخَرُ:اَللّٰهُمَّ اعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا.

عن ابي هر ير ة رضي الله عنه قال قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم: ما من يوم يصبح العباد فيه الا ملكان ينزلان فيقول احدهما:اللهم اعط منفقا خلفا ويقول الاخر:اللهم اعط ممسكا تلفا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی پاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:ہر صبح جب لوگ اٹھتے ہیں تو(آسمان سے)دو فرشتے اُترتے ہیں، اُن میں سے ایک کہتا ہے: ”اےاللہ عَزَّوَجَلَّ! خرچ کرنے والے کوبدلہ عطا فرما۔“اور دوسرا کہتا ہے:”اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! روکنے والے کا مال ضائع فرما۔“

شرح حدیث

بھلائی میں خرچ کرنے کا عوض:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”اپنے مال کو بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنے والے کے لیےاللہتعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ یہ دعا کرتا ہے کہ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! ”اسے اس خرچ کے بدلے بہت بڑا عوض عطا فرما۔“اور یہ بہت اچھا عوض ہے یا مراد یہ ہے کہ اسے دنیا میں بھی عوض عطا فرما اور آخرت میں بھی بدلہ عطا فرما۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرتا ہے:وَمَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗۚ-وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(۳۹)(پ۲۲،سبا:۳۹)ترجمۂ کنزالایمان: اور جو چیز تماللہکی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گااور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا۔
اور جو شخص
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا والے کاموں میں خرچ نہیں کرتا اس کے لیے دوسرا فرشتہ یہ دعا کرتا ہے کہ اےاللہ عَزَّوَجَلَّ!”اس کے مال کوضائع کردے۔“یعنی ظاہری یا باطنی طورپراس کا مال تباہ ہو جائے۔“( ) مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”سخی کے لیے دعا اورکنجوس کے لیے بددعا روزانہ فرشتوں کے منہ سے نکلتی ہے جو یقیناً قبول ہے۔ خیال رہے کہ لفظ ”خَلَف“ مطلقاًعوض کو کہتے ہیں دُنیاوی ہو یا اُخروی،حِسِّی ہو یا معنوی۔ مگر”تَلَف“دُنیوی اور حِسّی بربادی کو کہا جاتا ہے۔ تجربہ دن رات ہورہا ہے کہ کنجوس کا مال حکیم، ڈاکٹر، وکیل یا نالائق اولاد برباد کرتی ہے۔“مدنی گلدستہ’’سخی‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) سخی کے لیے فرشتہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں دعا کرتا ہے کہ یااللہ عَزَّ وَجَلَّ! اِس کا مال بڑھا اور بخیل کے لیے دعا کرتا ہے کہ اِس کا مال ضایع کر۔
(2) سخی کو
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں خرچ کرنے کا بدلہ دنیا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے۔
(3) فرشتوں کے منہ سے نکلنے والی دعا
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں مقبول ہے لہٰذا فرشتے کی دعا لینی چاہیے اور اس کی بددعا سے بچنا چاہیے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک کاموں میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 548