Main Icon

باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 551

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللہ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَرْبَعُوۡنَ خَصْلَةً اَعْلَاهَا مَنِيۡحَةُ الْعَنْزِ مَا مِنْ عَامِلٍ يَعْمَلُ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا رَجَاءَ ثَوَابِهَا وَتَصْدِيۡقَ مَوْعُوۡدِهَا اِلَّا اَدْخَلَهُ اللَّهُ تَعَالٰی بِهَا الْجَنَّةَ.

عن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اربعون خصلة اعلاها منيحة العنز ما من عامل يعمل بخصلة منها رجاء ثوابها وتصديق موعودها الا ادخله الله تعالی بها الجنة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداللہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”چالیس خصلتیں ہیں اور اُن میں سے سب سے اعلیٰ خصلت کسی کو دودھ والی بکری دیناہے اور جو شخص ثواب کی اُمید رکھتے ہوئے اور وعدۂ ثواب کی تصدیق کرتے ہوئے اِن میں سے کسی ایک خصلت پر بھی عمل کرے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“

شرح حدیث

مَنِیْحَہ کی تعریف و اَقسام وحکم:مذکورہ حدیثِ پاک میں کسی کو دودھ والی بکری دینے کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور اس طرح کسی کو فائدہ اٹھانے کے لیے کوئی جانور وغیرہ دینا عربی میںمَنِیْحَہکہلاتا ہے۔ ’’عرب میں دو طرح کےمَنِیْحَہہوتے ہیں: (1) ایک تو یوں کہ کوئی شخص کسی دوسرے کو کوئی جانور وغیرہ اس طرح دے کہ اسے اس کا مالک کردے۔ (2) دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کسی کو کچھ وقت کے لیے جانور وغیرہ دے تاکہ وہ اس کے دودھ سے فائدہ اُٹھائے اور پھر وہ جانور واپس لوٹا دے۔ مذکورہ حدیثِ پاک میں بھی وہمَنِیْحَہمراد ہے جس کا دودھ پی کر اُسے مالک کو واپس کردیا جائے۔‘‘عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”یہ حدیثِ پاک اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے اپنی اُمَّت کو زمین، درختوں اور جانور وں کو جسمَنِیْحَہکے طورپر دینے کی ترغیب دی ہے وہ یہ ہے کہ کسی کو کسی چیز کے منافع کا مالک کرنا نہ کہ اصل چیز کا مالک کرنا۔ اور سنت یہ ہے کہ جبمَنِیْحَہسے فائدہ اٹھالیا جائے تو پھر اُسے اس کے مالک کو لوٹا دیں جیساکہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدَتُنا اُمّ سُلَیْم کو ان کے درخت واپس کر دئیے تھے اور اسی طرح جباللہ عَزَّ وَجَلَّنے مہاجرین صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو فتح خیبر کے ذریعے غنی کردیا تھا تو انہوں نے بھی انصار صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے منائح انہیں لوٹا دئیے تھے۔ نیزمَنِیْحَہصدقہ نہیں ہوتا بلکہ یہ ہدیے اور تحفے کے طورپر ہوتا ہے کیونکہ اگر یہ صدقہ ہوتا تو حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے لیے حلال نہیں ہوتا کیونکہ آپعَلَیْہِ السَّلَامپر صدقہ لینا حرام تھا۔“چالیس خصلتیں بیان نہ کرنے کی وجہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیثِ پاک میں نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے چالیس خصلتوں کی فضیلت بیان فرمائی ہے اور بلاشبہ آپعَلَیْہِ السَّلَامکو اُن تمام خصلتوں کا علم بھی تھا لیکن پھر بھی آپعَلَیْہِ السَّلَامنے وہ خصلتیں بیان نہیں فرمائی کیونکہ ان کو بیان نہ کرنا ہی ہمارے لیے مفید تھا اور وہ اس وجہ سے کہ آپعَلَیْہِ السَّلَامکو اس بات کاخدشہ تھا کہ اگر ان خصلتوں کی تعیین کردی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ دیگر نیک اعمال ترک کرکے صرف ان چالیس خصلتوں پر ہی عمل کرنے پر اِکتفاء کرلیں جبکہ نیک اعمال کی تعداد تو بہت زیادہ ہے اور آپعَلَیْہِ السَّلَامنے احادیث میں جن نیک کاموں پر عمل کرنے کی ترغیب دی ہے ان کی کثرت کا تو شمار ہی نہیں۔چند نیک خصلتیں:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ہمارے زمانے کے بعض علماء نے نیک خصلتوں کے حوالے سے اَحادیث میں غور کیا تو انہوں نے چالیس سے زائدخصلتیں پائیں ان میں سےبعض یہ ہیں:(1)غلام آزاد کرنا۔(2)دودھ دینے والے جانور عاریتًادینا۔ (3) جو رشتے دار تعلق توڑے اس سے جوڑنا۔(4)بھوکے کو کھانا کھلاؤ۔ (5)پیاسے کو پانی پلاؤ۔ (6)جب مسلمان سے ملاقات ہو تو اُسے سلام کرنا۔ (7)چھینکنے والے کا جواب دینا۔ (8)راستے سے تکلیف دِہ چیز ہٹانا۔ (9) کاریگر کی مدد کرنا۔ (10)رسی کا ٹکڑا دینا۔ (11) جوتے کا تسمہ دینا۔ (12)وحشت زدہ کی وحشت دور کرنا اور جو وحشت کے مقام پر ہو اسے مقامِ اُنس تک پہنچانا۔ (13)مسلمان کی مصیبت دور کرنا۔ (14)اپنے مسلمان بھائی کی حاجت و ضرورت کو پورا کرنا۔ (15)مسلمان کی پردہ پوشی کرنا۔ (16) اپنے مسلمان بھائی کے لیے مجلس میں کشادگی کرنا۔ (17) مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرنا۔ (18) مظلوم کی مدد کرنا۔ (19) ظالم کو ظلم سے روکنا۔ (20)بھلائی پر راہنمائی کرنا۔ (21)نیکی کی دعوت دینا۔ (22)لوگوں کے درمیان صلح کروانا۔ (23) مسکین کو نرمی سے لوٹانا۔ (24)اپنے ڈول سے کسی پیاسے کے برتن کوبھرنا۔ (25) پڑوسی کو تحفہ دینا۔ (26) کسی مسلمان کی جائز سفارش کرنا۔ (27)مریض کی عیادت کرنا۔ (28) جو کسی مسلمان کی غیبت کرے اس کا رد کرنا۔ (29)مسلمان سے مصافحہ کرنا۔ (30)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنا۔ (31)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضاکے لیے بیٹھنا۔ (32)اللہ عَزَّوَجَلَّکی محبت میں ملاقات کرنا۔ (33)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت میں راہِ خدا میں خرچ کرنا۔ (34) کسی مسلمان کو اس کی سواری پر سوار کر ادینا۔ (35)یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھوا دینا۔ (36) عزت دارلوگ کم ترلوگوں پر رحم کریں۔ (37)غنی فقیروں پر رحم کرے۔ (38)عالِم جاہلوں پر شفقت کرے۔مدنی گلدستہ’’ مَنِیْحَہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) کسی کو جانور، درخت یا زمین اس لیے دینا تاکہ وہ کچھ عرصہ ان چیزوں سے فائدہ اُٹھا کر مالک کو واپس کردے
مَنِیْحَہکہلاتا ہے۔
(2) سنت یہ ہے کہ جب ضرورت پوری ہو جائے تو
مَنِیْحَہمالک کو واپس لوٹادے۔
حضور
عَلَیْہِ السَّلَامنے حضرت سَیِّدَتُنَا اُمِّ سُلَیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِاکو اور مہاجرین نے فتحِ خیبر سے مالِ غنیمت حاصل ہونے کے بعد انصار صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو اُن کےمَنِیْحَہواپس لوٹا دئیے تھے۔
(3)
مَنِیْحَہہدیہ اور تحفہ ہوتا ہے صدقہ نہیں ہوتا کیونکہ اگر یہ صدقہ ہوتا تو حضورعَلَیْہِ السَّلَاماسے کبھی نہ لیتے کیونکہ آپعَلَیْہِ السَّلَامپر صدقہ لینا حرام تھا۔
(4) مذکورہ حدیثِ پاک میں حضور
عَلَیْہِ السَّلَامنے چالیس نیک خصلتوں کی فضیلت بیان فرمائی ہے لیکن وہ خصلتیں اس حکمت کے تحت بیان نہ فرمائی کہ کہیں لوگ دیگر نیک اعمال کو ترک کرکے صرف انہیں خصلتوں پر اکتفا نہ کرلیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی چیزوں سے لوگوں کو نفع پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 551