- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- حدیث نمبر 551
باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 551
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ عَبْدِ اللہ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَرْبَعُوۡنَ خَصْلَةً اَعْلَاهَا مَنِيۡحَةُ الْعَنْزِ مَا مِنْ عَامِلٍ يَعْمَلُ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا رَجَاءَ ثَوَابِهَا وَتَصْدِيۡقَ مَوْعُوۡدِهَا اِلَّا اَدْخَلَهُ اللَّهُ تَعَالٰی بِهَا الْجَنَّةَ.
عن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اربعون خصلة اعلاها منيحة العنز ما من عامل يعمل بخصلة منها رجاء ثوابها وتصديق موعودها الا ادخله الله تعالی بها الجنة.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا عبداللہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”چالیس خصلتیں ہیں اور اُن میں سے سب سے اعلیٰ خصلت کسی کو دودھ والی بکری دیناہے اور جو شخص ثواب کی اُمید رکھتے ہوئے اور وعدۂ ثواب کی تصدیق کرتے ہوئے اِن میں سے کسی ایک خصلت پر بھی عمل کرے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“
شرح حدیث
مَنِیْحَہ کی تعریف و اَقسام وحکم:مذکورہ حدیثِ پاک میں کسی کو دودھ والی بکری دینے کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور اس طرح کسی کو فائدہ اٹھانے کے لیے کوئی جانور وغیرہ دینا عربی میںمَنِیْحَہکہلاتا ہے۔ ’’عرب میں دو طرح کےمَنِیْحَہہوتے ہیں: (1) ایک تو یوں کہ کوئی شخص کسی دوسرے کو کوئی جانور وغیرہ اس طرح دے کہ اسے اس کا مالک کردے۔ (2) دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کسی کو کچھ وقت کے لیے جانور وغیرہ دے تاکہ وہ اس کے دودھ سے فائدہ اُٹھائے اور پھر وہ جانور واپس لوٹا دے۔ مذکورہ حدیثِ پاک میں بھی وہمَنِیْحَہمراد ہے جس کا دودھ پی کر اُسے مالک کو واپس کردیا جائے۔‘‘عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”یہ حدیثِ پاک اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے اپنی اُمَّت کو زمین، درختوں اور جانور وں کو جسمَنِیْحَہکے طورپر دینے کی ترغیب دی ہے وہ یہ ہے کہ کسی کو کسی چیز کے منافع کا مالک کرنا نہ کہ اصل چیز کا مالک کرنا۔ اور سنت یہ ہے کہ جبمَنِیْحَہسے فائدہ اٹھالیا جائے تو پھر اُسے اس کے مالک کو لوٹا دیں جیساکہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدَتُنا اُمّ سُلَیْم کو ان کے درخت واپس کر دئیے تھے اور اسی طرح جباللہ عَزَّ وَجَلَّنے مہاجرین صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو فتح خیبر کے ذریعے غنی کردیا تھا تو انہوں نے بھی انصار صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے منائح انہیں لوٹا دئیے تھے۔ نیزمَنِیْحَہصدقہ نہیں ہوتا بلکہ یہ ہدیے اور تحفے کے طورپر ہوتا ہے کیونکہ اگر یہ صدقہ ہوتا تو حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے لیے حلال نہیں ہوتا کیونکہ آپعَلَیْہِ السَّلَامپر صدقہ لینا حرام تھا۔“چالیس خصلتیں بیان نہ کرنے کی وجہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیثِ پاک میں نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے چالیس خصلتوں کی فضیلت بیان فرمائی ہے اور بلاشبہ آپعَلَیْہِ السَّلَامکو اُن تمام خصلتوں کا علم بھی تھا لیکن پھر بھی آپعَلَیْہِ السَّلَامنے وہ خصلتیں بیان نہیں فرمائی کیونکہ ان کو بیان نہ کرنا ہی ہمارے لیے مفید تھا اور وہ اس وجہ سے کہ آپعَلَیْہِ السَّلَامکو اس بات کاخدشہ تھا کہ اگر ان خصلتوں کی تعیین کردی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ دیگر نیک اعمال ترک کرکے صرف ان چالیس خصلتوں پر ہی عمل کرنے پر اِکتفاء کرلیں جبکہ نیک اعمال کی تعداد تو بہت زیادہ ہے اور آپعَلَیْہِ السَّلَامنے احادیث میں جن نیک کاموں پر عمل کرنے کی ترغیب دی ہے ان کی کثرت کا تو شمار ہی نہیں۔چند نیک خصلتیں:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ہمارے زمانے کے بعض علماء نے نیک خصلتوں کے حوالے سے اَحادیث میں غور کیا تو انہوں نے چالیس سے زائدخصلتیں پائیں ان میں سےبعض یہ ہیں:(1)غلام آزاد کرنا۔(2)دودھ دینے والے جانور عاریتًادینا۔ (3) جو رشتے دار تعلق توڑے اس سے جوڑنا۔(4)بھوکے کو کھانا کھلاؤ۔ (5)پیاسے کو پانی پلاؤ۔ (6)جب مسلمان سے ملاقات ہو تو اُسے سلام کرنا۔ (7)چھینکنے والے کا جواب دینا۔ (8)راستے سے تکلیف دِہ چیز ہٹانا۔ (9) کاریگر کی مدد کرنا۔ (10)رسی کا ٹکڑا دینا۔ (11) جوتے کا تسمہ دینا۔ (12)وحشت زدہ کی وحشت دور کرنا اور جو وحشت کے مقام پر ہو اسے مقامِ اُنس تک پہنچانا۔ (13)مسلمان کی مصیبت دور کرنا۔ (14)اپنے مسلمان بھائی کی حاجت و ضرورت کو پورا کرنا۔ (15)مسلمان کی پردہ پوشی کرنا۔ (16) اپنے مسلمان بھائی کے لیے مجلس میں کشادگی کرنا۔ (17) مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرنا۔ (18) مظلوم کی مدد کرنا۔ (19) ظالم کو ظلم سے روکنا۔ (20)بھلائی پر راہنمائی کرنا۔ (21)نیکی کی دعوت دینا۔ (22)لوگوں کے درمیان صلح کروانا۔ (23) مسکین کو نرمی سے لوٹانا۔ (24)اپنے ڈول سے کسی پیاسے کے برتن کوبھرنا۔ (25) پڑوسی کو تحفہ دینا۔ (26) کسی مسلمان کی جائز سفارش کرنا۔ (27)مریض کی عیادت کرنا۔ (28) جو کسی مسلمان کی غیبت کرے اس کا رد کرنا۔ (29)مسلمان سے مصافحہ کرنا۔ (30)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنا۔ (31)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضاکے لیے بیٹھنا۔ (32)اللہ عَزَّوَجَلَّکی محبت میں ملاقات کرنا۔ (33)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت میں راہِ خدا میں خرچ کرنا۔ (34) کسی مسلمان کو اس کی سواری پر سوار کر ادینا۔ (35)یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھوا دینا۔ (36) عزت دارلوگ کم ترلوگوں پر رحم کریں۔ (37)غنی فقیروں پر رحم کرے۔ (38)عالِم جاہلوں پر شفقت کرے۔مدنی گلدستہ’’ مَنِیْحَہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) کسی کو جانور، درخت یا زمین اس لیے دینا تاکہ وہ کچھ عرصہ ان چیزوں سے فائدہ اُٹھا کر مالک کو واپس کردےمَنِیْحَہکہلاتا ہے۔
(2) سنت یہ ہے کہ جب ضرورت پوری ہو جائے تومَنِیْحَہمالک کو واپس لوٹادے۔
حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے حضرت سَیِّدَتُنَا اُمِّ سُلَیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِاکو اور مہاجرین نے فتحِ خیبر سے مالِ غنیمت حاصل ہونے کے بعد انصار صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو اُن کےمَنِیْحَہواپس لوٹا دئیے تھے۔
(3)مَنِیْحَہہدیہ اور تحفہ ہوتا ہے صدقہ نہیں ہوتا کیونکہ اگر یہ صدقہ ہوتا تو حضورعَلَیْہِ السَّلَاماسے کبھی نہ لیتے کیونکہ آپعَلَیْہِ السَّلَامپر صدقہ لینا حرام تھا۔
(4) مذکورہ حدیثِ پاک میں حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے چالیس نیک خصلتوں کی فضیلت بیان فرمائی ہے لیکن وہ خصلتیں اس حکمت کے تحت بیان نہ فرمائی کہ کہیں لوگ دیگر نیک اعمال کو ترک کرکے صرف انہیں خصلتوں پر اکتفا نہ کرلیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی چیزوں سے لوگوں کو نفع پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 551