Main Icon

باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 545

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اِبْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ اَحَبُّ اِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ؟ قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللهِ مَا مِنَّا اَحَدٌ اِلَّا مَالُهُ اَحَبُّ اِلَيْهِ قَالَ: فَاِنَّ مَالَهُ مَا قَدَّمَ وَمَالُ وَارِثِهِ مَا اَخَّرَ.

عن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ايكم مال وارثه احب اليه من ماله؟ قالوا: يا رسول الله ما منا احد الا ماله احب اليه قال: فان ماله ما قدم ومال وارثه ما اخر.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعبد اللہبن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”تم میں سے کون ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہے؟ صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کیا:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ہم میں سے ہر ایک کو اپنا ہی مال زیادہ محبوب ہے، آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ”بیشک اس کا مال تو وہ ہے جو اس نے آگے بھیج دیا اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جواُس نے پیچھے چھوڑا۔“

شرح حدیث

مذکورہ حدیثِ پاک میں راہِ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے صحابہ ٔکرام سے فرمایا کہ تم میں سے کون اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کے مال سے محبت کرتا ہے؟ اس کی وضاحت میں مرآۃ المناجیح میں ہے:یعنی کون چاہتا ہے کہ میرے پاس مال نہ ہو، میرے عزیزوں کے پاس مال ہو، وہ سب امیر ہوں میں فقیر کنگال ہوں، اس فرمان کا یہ مقصد ہے۔ لہٰذا اِس فرمانِ عالی پر یہ اعتراض نہیں کہ بعض لوگوں کو دوسروں کا مال بڑا پسند ہوتا ہے یا یہ مقصد ہے کہ ایسا کون ہے جو دوسروں کا مال ان کے لیے سنبھال کر رکھے اپنا مال برباد کردے یا برباد ہونے دے۔اپنے خالق سے بدگمانی:صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کیا کہ ہم میں سے ہر ایک کو اپنا مال زیادہ محبوب ہے، حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایاکہ تمہارا مال تو وہ ہے جو تم نے آگے بھیج دیا اور تمہارے وارث کا مال وہ ہے جو تم نے پیچھے چھوڑا۔عَلَّامَہ مُحَمَّدعَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِیفرماتے ہیں: ”یعنی تم نے جو مال نیک کاموں میں صَرف کیا وہ تمہارے آگے چلا گیا اور موت کے بعد آخرت میں تمہیں اس پر اجر و ثواب دیا جائے گا اور تم نے جو مال اپنے پیچھے چھوڑا وہ تمہارے بعد تمہارے وارثوں کے لیے ہے۔ اسی لیے بعض عارفین فرماتے ہیں کہ اپنا کچھ مال آگے بھیج دو تاکہ وہ تمہارے لیے نجات کا ذریعہ ہو جائے اور سارا مال اپنے پیچھے نہ چھوڑ جاؤ تاکہ وہ تم پر وبال نہ ہو۔ اور جو شخص صرف اپنی اولاد ہی کے لیے مال جمع کرتا رہے اور راہِ خدا میں بالکل خرچ نہ کرے تاکہ اولاد کو غربت اور محنت و مشقت سے بچانے کے لیے وراثت میں مال دے جائے ایسا شخص قابلِ مذمت ہے کیونکہ وہ اپنے خالق سے یہ بدگمانی کررہا ہے کہ وہ اس کی اولاد کو وراثت کی جہت ہی سے رزق عطا فرمائے گا اور یہ شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّپر بھروسہ کرنے کے بجائے اس مال پر بھروسہ کیے ہوئے ہے کہ یہ بُرے وقت میں میری اولاد کے کام آئے گا۔ حدیثِ پاک میں ایسے شخص کی اسی لیے مذمت بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ پر اور اپنے اہل و عیال پر تنگی کرتا ہے اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے اور وارثوں کے لیے مال جمع کرتا رہتا ہے۔ بہر حال وہ شخص کہ جو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور راہِ خدا میں بھی خوب صدقہ کرتا رہتا ہے اور پھر اس کے بعد جو مال بچ جاتا ہے اسے اپنی اولاد کے لیے جمع کرتا ہے اس پر کوئی گناہ نہیں کیونکہ حدیثِ پاک میں ہے کہ تیرا اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑنا بہتر ہے۔“مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”خلاصہ یہ ہے کہ مال دوسروں کا ہے اعمال اپنے ہیں جو مال خیرات کردیا جاوے وہ اَعمال بن گیا اور جو جمع کرکے چھوڑ گیا وہ نِرا مال رہا اور جس مال کی زکوٰۃ نہ دی وہ اپنے لیے وبال وارثوں کے لیے مال ہوا۔خیال رہے کہ مال سے صدقات و خیرات کرتے رہنا پھرا اللہو رسول کی رضا کے لیے وارثوں کو غنی کرنے کے لیے مال چھوڑنا یہ بھی عبادت ہے۔“مدنی گلدستہ’’نیکی‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جو مال
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں صدقہ کردیا جائے وہ مال بندے کی موت کے بعد نجات کا ذریعہ ہے۔
(2) جو اپنا مال راہِ خدا میں خرچ نہ کرے اور وارثوں کے لیے جمع کرتا رہے ایسا شخص
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے بدگمانی رکھنے والا ہے کہ وہ اس کی اولاد کو وراثت کے مال کے سوا کسی طرح رزق نہیں دےگا۔
(3) جو شخص اپنے اہل و عیال پر تنگی نہ کرے اور خوب صدقہ بھی کرتا رہے اور پھر جو مال بچ جائے اسے وارثوں کے لیے جمع کرے ایسا شخص قابلِ مذمت نہیں۔
(4)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے وارثوں کو غنی کرنے کی نیت سے مال چھوڑنا بھی عبادت ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں صرف وارثوں کے لیے مال جمع کرنے کی آفت سے بچائے اور زیادہ سے زیادہ نیک کاموں میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 545