Main Icon

باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 554

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَسَمَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا فَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللهِ! لَغَيْرُ هٰؤُلَاءِ كَانُوْا اَحَقَّ بِهِ مِنْهُمْ؟ قَالَ: اِنَّهُمْ خَيَّرُوْنِیْ اَنْ یَسْاَلُوْنِيْ بِالْفُحْشِ اَوْ يُبَخِّلُوْنِيْ وَلَسْتُ بِبَاخِلٍ.

عن عمر رضی اللہ عنہ قال: قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم قسما فقلت:یارسول الله! لغير هؤلاء كانوا احق به منهم؟ قال: انهم خيرونی ان یسالوني بالفحش او يبخلوني ولست بباخل.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کچھ مال تقسیم فرمایا، میں نے عرض کی:”یارسولَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ان کے علاوہ لوگ اس مال کے ان سے زیادہ مستحق تھے؟ آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ”انہوں نے ایسی صورت پیدا کردی تھی کہ (اگر میں نہ دیتا تو) وہ مجھ سے زیادہ کا سوال کرتے یا مجھے بخیل کہتے حالانکہ میں بخیل نہیں ہوں۔“

شرح حدیث

حضورنے کچھ لوگوں کو مال کیوں دیا؟دلیل الفالحین میں ہے:مذکورہ حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لوگوں میں کچھ مال تقسیم فرمایا یہ مال غنیمت تھا یا خراج یا اسی طرح کا کوئی اور صدقہ خیرات وغیرہ، حضرت عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی کہیارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ نے کچھ لوگوں کو عطا فرمایا اور کچھ لوگوں کو چھوڑ دیااورآپ نے جن لوگوں کو عطا نہیں کیا وہ لوگ ان سے زیادہ مستحق ہیں جن کو عطا کیا گیا ہے، حضرت عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے عرض کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ یہ بات سمجھ نہ سکے تھے کہ حضور نے ان لوگوں کو کیوں عطا نہیں فرمایا جو لینے والوں سے زیادہ مستحق تھے، آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکی سوچ یہ تھی کہ جو لوگ دین میں سبقت رکھتے ہیں اور فضیلت والے ہیں وہ عطا کے زیادہ حقدار ہیں تو نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنا عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے لیے یہ بات بیان فرمادی کہ میں نے ان لوگوں کو اس لیے عطا کیا کہ ان کی ظاہری حالت اس بات کا تقاضہ کررہی تھی کہ اگر ان کو نہ دیا جائے گا تو وہ ایمان کمزور ہونے کے سبب مجھ سے مانگنے میں ضد کریں گے اور مجھ سے زیادہ کا اِصرار کریں گا یا پھر میری طرف بخل کی نسبت کریں گے اور مجھے بخیل کہیں گے حالانکہ میں بخیل نہیں ہوں اور ان لوگوں کے لیے ان دونوں میں سے کوئی بھی بات مناسب نہیں تھی اس لیے میں نے انہیں مال عطا کردیا۔امام قاضی عیاضرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”مطلب یہ ہے کہ انہوں نے مانگنے میں ایسی صورت اختیار کرلی ہے کہ انہیں اگر مال دیاجائے تو محبت کرتے ہیں اور نہ دینے پر تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور بخیل قرار دیتے ہیں تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں اچھے سلوک اور تالیفِ قلوب کے لیےمال دینا اختیار فرمایا کہ بخل کرنا آپ کی صفت نہیں ۔“عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے اس فعل میں اس بات پر دلیل ہے کہ بے علم اور سخت دل لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا اور ان لوگوں کی دل جوئی کرنا جائز ہے جبکہ اس میں کوئی مصلحت و منفعت ہو اور اسی مصلحت یعنی ان کی دل جوئی کی خاطر انہیں مال دینا بھی جائز ہے۔“مدنی گلدستہ’’جنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
آپ
عَلَیْہِ السَّلَامسخت دل لوگوں کے دلوں میں اسلام کی محبت ڈالنے کے لیے انہیں بھی مال عطا فرماتے تھے۔
حضور
عَلَیْہِ السَّلَاماس بات کو سخت ناپسند فرماتے تھے کہ آپ کی طرف بخل کی نسبت کی جائے۔
(1) سنگ دل افراد کےدل میں اسلام کی محبت ڈالنے کے لیے ان کی دل جوئی کرنا اور انہیں مال دینا جائز ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بخل سے بچنے اور سخاوت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 554