Main Icon

باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 558

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہَا:اَنَّهُمْ ذَبَحُوْا شَاةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَا بَقِيَ مِنْهَا؟ قَالَتْ: مَا بَقِيَ مِنْهَا اِلَّا كَتِفُهَا قَالَ: بَقِيَ كُلُّهَا غَيْرَ كَتِفِهَا.

عن عائشة رضی اللہ عنہا:انهم ذبحوا شاة فقال النبي صلى الله عليه وسلم:ما بقي منها؟ قالت: ما بقي منها الا كتفها قال: بقي كلها غير كتفها.

حدیث ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے روایت ہے کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کی،نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ” کیا اس میں سے کچھ باقی ہے؟‘‘عرض کی: ”صرف اس کا ایک کندھا باقی ہے۔“آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ” کندھے کے سوا سب کچھ باقی ہے۔“

شرح حدیث

صدقہ باقی اور لازوال ہوتا ہے:مذکورہ حدیثِ پاک میں صدقہ کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حدیثِ پاک میں حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے روایت ہوا کہ انہوں نے بکری ذبح کی۔ بکری ذبح کرنے والے بعض صحابہ کرام تھے یا بعض اَزواجِ پاک، دوسرے احتمال کو مُحَدِّثِین نے ترجیح دی ہے، چونکہ ازواج پاک کو اہلِ بیت بھی کہا جاتا ہے۔بکری ذبح ہونے کے بعد نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائے تو دریافت فرمایا کہ کیا کچھ باقی بھی ہے؟ تو حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِانے عرض کی:”صرف ایک کندھا باقی ہے۔“یعنی سارا گوشت خیرات کردیا گیا صرف شانہ بچا ہے، غالبًا یہ گھر کے خرچ کے لیے رکھا گیا ہوگا اور یہ بکری صدقہ کے لیے ذبح نہ کی گئی ہوگی کہ صدقہ کا گوشت گھر کے خرچ کے لیے نہیں رکھا جاتا۔ حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاکے جواب میں حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ”کندھے کے سوا سب کچھ باقی ہے۔“یعنی جو راہِ خدا میں صدقہ دے دیا گیا وہ باقی اور لازوال ہوگیا اور جو اپنے کھانے کے لیے رکھا گیا وہ ہضم ہوکر فنا ہوجائے گا، رب تعالیٰ فرماتاہے: (مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍؕ) (پ۱۴،النحل:۹۶)( ترجمۂ کنزالایمان: جو تمہارے پاس ہے ہوچکے گا اور جواللّٰہکے پاس ہے ہمیشہ رہنے والا ہے۔)یعنی انسان دنیا میں جو مال و متاع جمع کرکے رکھتا ہے وہ فنا ہو جائے گا اور جو چیز اس نےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں صدقہ کردی وہاللّٰہتعالیٰ کے پاس ہمیشہ باقی رہے گی۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا کہ کندھے کے علاوہ سب باقی ہے کیونکہ کندھے کے علاوہ سارا گوشتاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکا قرب حاصل کرنے کے لیے صدقہ کردیا گیا اس لیے وہ باقی ہے اگرچہ دیکھنے میں وہ فنا ہو چکا لیکن وہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے یہاں باقی ہے اور صدقہ دینے والے کو مشکل وقت یعنی آخرت میں کام آئے گا اور بکری کا جو شانہ بچ گیا وہ کھا کر فنا ہو جائے گا۔ اس حدیثِ پاک میں صدقہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور یہ درس دیا گیا ہے کہ انسان کو چاہیے جو چیز صدقہ کرے اس میں سے زیادہ بچا کر نہ رکھے کیونکہ جتنی مقدار صدقہ میں دے گا وہ باقی رہے گی اور جو بچ جائے گا اگر اسے اچھی نیت سے استعمال نہ کیا گیا تو وہ فنا ہو جائےگا۔مدنی گلدستہ’’سنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
حضور
عَلَیْہِ السَّلَامکے اہلِ بیت بہت زیادہ صدقہ دیا کرتے تھے کہ انہوں نے پوری بکری میں سے صرف ایک کندھا باقی رکھا اور اس کے علاوہ سارا گوشت صدقہ کردیا۔
(1) جو چیز
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں صدقہ کردی جاتی ہے وہ باقی اور لازوال ہے۔
(2) انسان جو چیز صدقہ کرے اس میں سے اپنے لیے زیادہ نہ بچائے بلکہ ضرورت کے مطابق رکھے اور زیادہ صدقہ کردے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں زیادہ سے زیادہ صدقہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 558