Main Icon

باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 549

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ اللهُ تَعَالٰی: اَنْفِقْ يَا ابْنَ آدَمَ اُنْفِقْ عَلَيْكَ.

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: قال الله تعالی: انفق يا ابن آدم انفق عليك.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَاابوہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہاللہتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”اے انسان! تو خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔“

شرح حدیث

مکمل حدیثِ پاک:مذکورہ حدیثِ پاک بخاری شریف میں بالتفصیل اس طرح بیان کی گئی ہے:حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: ”تم خرچ کرو میں تم پر خرچ کروں گا۔“اورآپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ہاتھ بھرا ہوا ہے اور رات دن خرچ کرنے سے بھی اس کا ہاتھ خالی نہیں ہوتا اور فرمایا کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب سے اس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اس وقت سے کتنا خرچ کیا ہے لیکن اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں آئی اور اس کا عرش پانی پر تھا اور اسی کے دستِ قدرت میں میزان ہے،وہ بلند و پست فرماتا ہے۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مذکورہ حدیث پاک احادیث قدسیہ میں سے ہے اس میں تمام مسلمانوں سے خطاب کیا جا رہا ہے کہ تمہیں شرعی طورپر جس طرح نیک کاموں میں مال خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے تم اس طریقے پر اپنا مال خرچ کروگے تواللہ عَزَّ وَجَلَّتم پر وُسعت فرمائے گا اور تمہیں تمہارے خرچ کرنے کے بدلے میں اچھا عوض عطا فرمائے گا۔“فانی دنیا کے عوض ابدی نعمتیں:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِنسان کے پا س چاہے جتنی ہی جاگیریں، خزانے اور مال و دولت کے انبار ہوں وہ ایک نہ ایک دن ضرور ختم ہو جائیں گے لیکن بلاشبہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے خزانوں کی کوئی حد نہیں، اس کی نعمتوں کی انتہا نہیں، جب سے اس نے دنیا کو تخلیق فرمایا ہے اس وقت سے اب تک لوگوں کو طرح طرح کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں لیکن اس کے خزانوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی، اگر انسان اس دنیا کی حقیر و محدود دولت کو اس کی راہ میں خرچ کرے گا تو بدلے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّاسے کئی گُنا زیادہ اس دنیا کی نعمتیں بھی عطا فرمائے گا اور ساتھ ہی جنت کی ابدی اور لازوال نعمتوں سے بھی سرفراز فرمائے گا، اس فانی دنیا کے عوض دائمی نعمتوں کا حاصل ہونا یقیناً بہت فائدے کا سودا ہے لہٰذا دنیا کے مال و دولت کی ہوس کرتے ہوئے بخل کا شکار ہونے کے بجائے خوش دلی کے ساتھ اپنے مال کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں خرچ کیجئے اور اپنے آپ کو حقیقی اور ابدی نعمتوں کا حقدار بنائیے۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”سُبْحٰنَ ا اللہ! کیسی نظرِ کرم ہے۔مقصد یہ ہے کہ اے انسان ختم ہونے اور مٹ جانے والا مال تُو میری راہ میں دے میں تجھے اس سے کہیں زیادہ مال بھی دوں گا اور نہ مٹنے والا ثواب بھی،رب تعالیٰ فرماتا ہے:مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍؕ(پ۱۴،النحل:۹۶)
ترجمۂ کنزالایمان: جو تمہارے پاس ہے ہوچکے گا اور جو
اللہکے پاس ہے ہمیشہ رہنے والا ہے۔
خیال رہے کہ جس فانی چیز کو رب تعالیٰ قبول فرمالے وہ باقی ہوجاتی ہے،دنیا صِفر ہے یعنی خالی، رضائے الٰہی عدد،صفر اکیلا ہو تو کچھ نہیں اور اگر عدد سے مل جائے تو دس گنا۔اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ صدقہ سے تقدیر بدل جاتی ہے بدنصیب نصیب ور ہو جاتے ہیں۔“
مدنی گلدستہ’’صدقات‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جو
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں خرچ کرے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے بہتر بدل عطا فرمائے گا۔
(2) انسان کے پاس چاہے جتنا بھی مال و دولت ہو لیکن وہ خرچ کرنے سے ختم ہو جاتا ہے مگر
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے خزانے لا محدود ہیں وہ لوگوں کو جتنا بھی عطا فرمائے اس کے خزانوں میں کمی واقع نہیں ہوتی۔
(3) دنیا کا فانی مال
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں دے کر اس کے بدلے آخرت کی ابدی نعمتوں کا حقدار بننا یقینًا بہت نفع بخش تجارت ہے۔
(4) جو چیز انسان کے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گی مگر جو
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پاس ہے وہ ہمیشہ رہے گی۔
(5) صدقہ دینے سے تقدیر بدل جاتی ہے اور بدنصیب نصیب ور ہوجاتے ہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں صدقہ کرکے جنت کی ابدی نعمتوں کے حصول کے لیے کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 549