Main Icon

باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 560

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:مَثَلُ الْبَخِيْلِ وَالمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيْدٍ مِنْ ثُدِيِّهِمَا اِلَى تَرَاقِيْهِمَا فَاَمَّا الْمُنْفِقُ فَلَا يُنْفِقُ اِلَّا سَبَغَتْ اَوْ وَفَرَتْ عَلَى جِلْدِهِ حَتَّى تُخْفِيَ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ اَثَرَهُ وَاَمَّا الْبَخِيْلُ فَلَا يُرِیْدُ اَنْ يُنْفِقَ شَيْئًا اِلَّا لَزِقَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَكَانَهَا فَهُوَ يُوَسِّعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ.

عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم یقول:مثل البخيل والمنفق كمثل رجلين عليهما جنتان من حديد من ثديهما الى تراقيهما فاما المنفق فلا ينفق الا سبغت او وفرت على جلده حتى تخفي بنانه وتعفو اثره واما البخيل فلا يرید ان ينفق شيئا الا لزقت كل حلقة مكانها فهو يوسعها فلا تتسع.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ انہوں نے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے تک لوہے کی زرہ ہو تو خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے نشانات مٹادیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتا۔

شرح حدیث

سخی اور بخیل کی حالت میں فرق:مذکورہ حدیثِ پاک میں سخی اور بخیل کی حالت کو ایک تشبیہ کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ یہ تشبیہ مرکب ہے جس میں دو شخصوں کی پوری حالتوں کو دوسرے دو شخصوں کے پورے حال سے تشبیہ دی گئی ہے یعنی کنجوس اور سخی کی حالتیں ان دو شخصوں کی سی ہیں جن کے جسم پر دو لوہے کی زر ہیں ہیں، انسان کی خلقی اور پیدائشی محبتِ مال اور خرچ کرنے کو دل نہ چاہنے کو زرہوں سے تشبیہ دی گئی کہ جیسے زرہ جسم کو گھیرے اور چمٹی ہوتی ہے ایسی محبتِ مال انسان کے دل کو چمٹی ہوتی ہے، رب تعالیٰ فرماتاہے:وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ (۹)(پ۲۸،الحشر:۹)ترجمۂ کنزالایمان: اور جو اپنے نفس کی لالچ سے بچایا گیا تو وہ ہی کامیاب ہیں۔
علامہ سیدمحموداحمدرضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث میں حضورِ اَقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سخی اور بخیل کی مثال ایک حکیمانہ انداز سے بیان فرمائی ہے جس سے سخی کی فضیلت اور بخیل کی مذمت ہوتی ہے۔ یعنی سخی سخاوت کے وقت ہر اس رکاوٹ کو ہٹا دیتا ہے جو اسے سخاوت سے منع کرتی ہو اور بخیل سرمایہ پرستی اور مال سے بے جامحبت میں ایسا جکڑا ہوا ہوتا ہے جیسے لوہے کی زرہ پہنے ہوئے شخص کو زرہ کی کڑیاں جکڑے ہوئے ہوتی ہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جیسے زمین پر لٹکتا ہوا لباس زمین پر قدم کے نشانات کو مٹا دیتا ہے اسی طرح سخی کی سخاوت اس کے گناہوں کو مٹا دیتی ہے اس کے برعکس بخیلاللّٰہکی راہ میں خرچ نہ کرکے سارے گناہ اپنے اندرہی رہنے دیتا ہے۔“بعض علماء نے اس مثال کا معنیٰ یہ بیان کیا ہے کہ سخی کواللّٰہتعالیٰ پردہ میں رکھتا ہے اور جس طرح یہ کرتہ(یعنی زرہ) پہننے والے کو چھپا لیتا ہے اسی طرحاللّٰہتعالیٰ سخی پر دنیا و آخرت میں پردہ ڈالتا ہے اور بخیل کا کرتہ(زرہ) گلے میں پھنسا رہتا ہے اور اس کا سارا جسم مکشوف(کھلا) رہتا ہے جو اس کی رسوائی کا باعث ہے اسی طرحاللّٰہتعالیٰ بخیل کو دونوں جہانوں میں ذلیل و خوار اور رسوا کرتا ہے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”سُبْحٰنَ ا اللّٰہ! کیا نفیس تشبیہ ہے یعنی بخیل بھی کبھی خیرات کرنے کا ارادہ تو کرتا ہے مگر اس کے دل کی ہچکچاہٹ اس کے ارادہ پر غالب آجاتی ہے اور وہ خیرات نہیں کرتا اور سخی کو بھی خیرات کرتے وقت ہچکچاہٹ تو ہوتی ہے مگر اس کا ارادہ اس پر غالب آجاتا ہے۔ اسی غلبہ پر سخی ثواب پاتا ہے پھر سخاوت کرتے کرتے نفسِ اَمَّارہ اتنا دب جاتا ہے کہ اس کو کبھی خیرات پرہچکچاہٹ پیدا ہی نہیں ہوتی، یہ بہت بلند مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان کھلے دل سے صدقہ کرنے لگتا ہے۔ ہر عبادت کا یہی حال ہے کہ پہلے نفس امارہ روکا کرتا ہے مگر جب اس کی نہ مانی جائے تو پھر روکنا چھوڑ دیتا ہے، نفس کی مثال شیر خوار بچے کی سی ہےجو دودھ چھوڑتے وقت ماں کو بہت پریشان کرتا ہےمگر جب ماں اس کی ضد کی پرواہ نہیں کرتی تو وہ پھر دودھ نہیں مانگتا۔“مدنی گلدستہ’’سخاوت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) انسان کے دل میں فطری طورپر مال کی محبت ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کا دل خرچ کرنا نہیں چاہتا۔
(2) سخی جب سخاوت کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کردیتا ہے اور جب بخیل خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو مال کی محبت اس کے آڑے آجاتی ہے اس لیے وہ خرچ نہیں کرتا۔
(3) سخاوت کرنے کی وجہ سے سخی کے گناہ مٹ جاتے ہیں اور بخیل
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں خرچ نہیں کرتا اس لیے اس کے گناہ باقی رہتے ہیں۔
(4)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّدنیا و آخرت میں سخی کے عیبوں کی پردہ پوشی فرماتا ہے اور بخیلاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں خرچ نہیں کرتا اس لیے دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا ہو تا ہے۔
(5) نفس امارہ ہر نیک کام کے شروع میں بندے کو روکتا ہے اگر بندہ اس کی بات نہ مانے تو پھر یہ روکنا چھوڑ دیتا ہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں مال کی محبت اور بخل سے محفوظ فرمائے اور ہمیں کھلے دل سے سخاوت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 560