Main Icon

باب: جُودوسَخاوت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 546

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِـمٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ.

عن عدی بن حاتـم رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:اتقوا النار ولو بشق تمرۃ.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا عدی بن حاتمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”آگ سے بچو اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے (کے صدقہ) سے ہی ہو۔“

شرح حدیث

قلیل صدقے کو حقیر نہ سمجھو:مذکورہ حدیثِ پاک میں صدقہ کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُ الرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِیفرماتے ہیں: ”آگ سے بچو یعنی صدقہ کے ذریعے اپنے اور جہنم کی آگ کے درمیان آڑ اور رُکاوٹ بناؤ اگرچہ معمولی چیز ہی کا صدقہ کیوں نہ ہو مثال کے طورپر کھجور کا نصف یا کچھ حصہ صدقہ کرسکتے ہو تو یہی کرو، یہ بھی فائدہ مند ہے کیونکہ اس ٹکڑے کی بھی بہت اہمیت ہے کہ انسان کی زندگی بچانے کے لیے یہ تھوڑا سا حصہ بھی کافی ہوتا ہے خاص طورپر بچے کے لیے لہٰذا صدقہ کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے صدقے کو حقیر نہ سمجھے۔ نیز حدیثِ پاک میں آگ سے بچنے میں گناہوں کے مٹنے سے کِنایَہ ہے یعنی صدقے دینے سے گناہ مٹیں گے اور گناہ مٹنے سے جہنم کی آگ سے حفاظت نصیب ہوگی،اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے: (اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ-)(پ۱۲،ھود:۱۱۴)ترجمۂ کنزالایمان:’’بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔‘‘حدیثِ پاک میں ہے کہ گناہ کے بعد نیکی کرلو کہ وہ نیکی گناہ کو مٹا دے گی، مختصر یہ کہ اس حدیثِ پاک میں صدقہ کرنے پر اُبھارا گیا ہے اگرچہ تھوڑی سی چیز ہی سے صدقہ کیا جائے۔“ مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یعنی دوزخ سے بچنے کا اعلیٰ ذریعہ صدقہ و خیرات ہے، صدقہ اگرچہ معمولی ہو اخلاص سے وہ بھی آگ سے بچالے گاوہاں صدقہ کی مقدار نہیں دیکھی جاتی وہاں صدقہ والے کی نیت پرنظر ہوتی ہےکھجور کی قاش (یعنی پھانک) کی ہی خیرات کر دو شاید وہ ہی دوزخ سے بچالے یا یہ مطلب ہے کہ کسی کا معمولی حق بھی نہ مارو کہ وہ بھی دوزخ میں بھیج دے گاکسی کی کھجور کی قاش اس کی بغیر اجازت نہ لو۔“مدنی گلدستہ’’صدقہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) صدقہ بندے اور جہنم کی آگ کے درمیان رُکاوٹ بنتا ہے۔
(2) صدقہ میں جو بھی چیز دی جائے وہ فائدہ مند ہے اگرچہ وہ تھوڑی ہو۔
(3) چھوٹی سی چیز کے صدقہ کو بھی حقیر نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ اگر یہ چیز اِخلاص کے ساتھ صدقہ کی گئی ہے تو جہنم کی آگ سے ذریعہ ٔنجات بنے گی۔
(4)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں صدقہ کی مقدار نہیں بلکہ صدقہ دینے والے کی نیت دیکھی جاتی ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اپنی استطاعت کے مطابق صدقہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 546